فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 12

اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو یہ فتنہ اپنی جگہ پر موجود تھا۔ اور بہت سارے لوگوں کے نزدیک آپ خون عثمان میں ملوث تھے ؛ مگر اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے آپ کی برأت کو جانتے ہیں جو جھوٹے اور بغض رکھنے والے لوگوں نے آپ کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ۔ جیسا کہ ہم ان چیزوں سے بھی آپ کی برأت جانتے ہیں جو آپ کے حق میں غلوکرنے والوں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والوں نے آپ کی طرف منسوب کر رکھی ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نہی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے میں کوئی مدد کی اور نہ ہی آپ اس پر راضی تھے۔ جیسا کہ آپ سے بھی ثابت ہے ؛ اور آپ اپنی بات میں بالکل سچے تھے۔ لیکن پھر بھی ان میں سے بہت سارے لوگوں کے دل آپ کے متعلق صاف نہ ہوئے۔ اور نہ ہی آپ کے لیے ان کی مغلوب کرنا ممکن تھا تاکہ وہ آپ کی اطاعت کریں ۔ اور نہ ہی آپ کی رائے کا تقاضا یہ تھا کہ وہ جنگ سے رک کر انتظار کریں اور دیکھیں کہ معاملہ کیا رخ اختیار کرتاہے۔بلکہ آپ کی رائے یہ تھی کہ ان سے جنگ لڑی جائے۔ اور آپ کا خیال یہ تھا کہ اس سے لوگ آپ کی اطاعت گزاری میں داخل ہو جائیں گے اور مسلمانوں کی جماعت قائم رہے گی۔ مگر معاملہ پہلے سے بہت زیادہ سخت بگڑ گیا۔ اور آپ کی طرف سے اس میں کمزوری ہی آتی گئی۔ اور آپ کے مخالفین زور پکڑتے گئے۔ اور امت میں افتراق بڑھتا ہی گیا۔ حتی کہ آخر میں آپ اپنے ساتھ لڑنے والوں سے جنگ بندی کی اپیلیں کرتے تھے۔ جیسا کہ پہلے وہ آپ سے جنگ نہ کرنے کی درخواستیں کیا کرتے تھے۔

خلافت نبوت اتنی کمزور ہوگئی کہ اب بادشاہی قائم ہونا ضروری ہوگئی ۔ یہ بادشاہی حضرت امیر معاویہ نے نرمی کے ساتھ اور عفو و در گزر پر قائم کی ۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے:

(( تکون نبوۃ ورحمۃ ثم تکون خِلافۃ نبوۃ ورحمۃ، ثم یکون ملک و رحمۃ ، ثم یکون ملک۔))[مجمع الزوائد ؛ في کتاب الخلافۃ ؛ باب کیف بدأت الإمامۃ و تصیر إلیہ والخلافۃ والملک عدۃ أحادیث مقاربۃ لہٰذا الحدیث....مجمع الزوائد ۵؍ ۱۸۹۔ رواہ الطبرانی و رجالہ ثقات ۔ سلسلہ الأحادیث الصحیحۃ ۱؍۸۔۹ ؛ ح: ۵۔]

’’پہلے نبوت اور رحمت ہوگی۔پھر خلافت نبوت اور رحمت ہوگی۔پھر بادشاہی اور رحمت ہوگی۔ پھر صرف بادشاہی ہوگی۔‘‘

بادشاہوں میں کوئی بادشاہ ایسا نہیں آیا جو کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہتر ہو۔آپ اسلام کے تمام بادشاہوں سے بہتر تھے۔ اور آپ کی سیرت بعد میں آنے والے تمام بادشاہوں کی سیرت سے بہت بہتر اور اعلی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آخری خلیفہ راشد تھے۔ خلفائے راشدین وہ حضرات تھے جن کی ولایت خلافت نبوت اور رحمت تھی۔ اور ان چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے متعلق گواہی دی جاسکتی ہے کہ یہ حضرات اولیاء اللہ المتقتین میں سب سے افضل تھے۔ بلکہ یہ چار حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے افضل ترین ہستیاں ہیں ۔ لیکن جب کوئی قدح کرنے والا آئے اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ کہے کہ: ’’یہ دونوں حضرات ظالم اورسرکش تھے؛ ریاست اور حکومت کی ہوس کے مارے ہوئے ؛ لوگوں کے حقوق غصب کرنے والے تھے۔ اورتمام لوگوں سے بڑھ کر حکومت کی لالچ رکھتے تھے۔اور یہ کہ ان دونوں نے نصوص شریعت کی روشنی میں خلافت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے متعین کردہ مستحق خلیفہ پر ظلم کیا۔ اور اہل بیت کو ان کی میراث سے محروم کردیا۔ اوریہ اصحاب تمام لوگوں سے بڑھ کر حکومت اور ریاست کے حریص اور باطل کے لالچی تھے۔حالانکہ جن کو ان حضرات کی سیرت معلوم ہے وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ بدگمانی درست ہے تو پھر اس کے حق میں زیادہ درست ہے جس نے خلافت کے لیے جنگ لڑی اور پھر مغلوب ہوگیا۔ اورآپ کے اور فریق منازعہ کے درمیان لڑائی میں مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ لیکن اس جنگ و جدل اور قتال سے نہ ہی کوئی دینی مصلحت پوری ہوئی اور نہ ہی دنیاوی مصلحت ۔ اور نہ آپ کے عہد خلافت میں کوئی کافر قتل ہوا۔ پس بیشک اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے مابین فتنہ برپا کرنے پر خوش نہیں ہوئے؛ اور نہ ہی آپ کے شیعہ اس پر خوش ہوئے تھے ۔ اس لیے کہ آپ کو غلبہ نصیب نہیں ہوا تھا۔ اور جن لوگوں سے آپ نے جنگ لڑی تھی ؛ وہ ویسے ہی قوت اور طاقت سے بہرور حفاظت میں رہے۔

جب ہم خوارج کے طعن و تنقید سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتے ہیں ۔حالانکہ یہاں پر شبہ ظاہر اورموجود ہے؛ تو پھر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر طعن و تنقید کرنے والوں سے ان کا دفاع کرنا زیادہ اولی اور مناسب ہے۔اور اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا گمان رکھنا جائز ہے کہ آپ جاہ و مرتبہ کے اور حکومت کے طلبگار تھے؛ حالانکہ آپ سے جو کچھ معلوم ہے؛ وہ اس کے خلاف ہے۔ تو پھر جس نے اپنی ولایت اور خلافت کے لیے جنگ لڑی؛ مگر اسے مقصود پھر بھی حاصل نہ ہوا؛ تو پھر وہ اس گمان کا زیادہ ہوں ۔

جب اس کے لیے دو مسجدوں کے ائمہ سے ضرب المثال بیان کی جائے؛ یا کسی جگہ کے دو مشائخ سے مثال بیان ہو؛ یا کسی مدرسہ کے دو اساتذہ سے مثال بیان کریں ۔تو تمام عقول ایک ہی بات کہیں گے کہ:یہ پھلا انسان ریاست اور حکومت کی طلب سے بہت دور تھا۔ اور دین اور خیر کی بھلائی کے ارادہ کے بہت قریب تھا۔

جب ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق یہ یقین و ایمان رکھتے ہیں کہ آپ دین اور حق کے قاصد اور طلبگار تھے۔ اور آپ زمین میں سرکشی اور فساد ہر گز نہیں پھیلانا چاہتے تھے۔ تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق یہ ایمان و یقین رکھنا زیادہ اولی اور مناسب ہے۔

اگر کوئی بدگمانی رکھنے والا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ گمان رکھے کہ آپ زمین میں سرکشی اور فساد پھیلانا چاہتے تھے۔ تو یہی بدگمانی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ بدگمانی زیادہ اولی اور معقول ہے۔ 

صفحہ 2 از 12