فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 12

یہ با ت معلوم شدہ ہے کہ مسلمانوں نے جو کچھ کیا؛ اس میں انہوں نے حق کی اتباع کی ہے۔ اور یہ کہ بلاشبہ وہ تمام امتوں میں سے بہترین لوگ تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ان کا دین مکمل کردیا تھا۔ اوران پر اپنی نعمتیں تمام کردی تھیں ۔ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تک کوئی ان کی دنیاوی غرض بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے انہیں ترجیح دیتے۔ اور نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسی دنیاوی غرض یا معاملہ تھا جس کی وجہ سے انہیں پیچھے کرتے۔ بلکہ اگر وہ اپنی طبیعت کے حساب سے بھی کوئی فیصلہ کرتے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتے۔اور انصار کا بھی یہ عالم تھا کہ اگر وہ اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے کسی کو ترجیح دیتے توان کے نزدیک بنی ہاشم کے کسی آدمی کی اتباع کرنا بنی تیم کے آدمی کی اتباع کی نسبت زیادہ محبوب ہوتا۔ یہی حال اکثر قریشی قبائل کا تھا؛ بالخصوص بنو عبد مناف اور بنو مخزوم کا۔ اس لیے کہ بنو مناف کے کسی آدمی کی اطاعت کرنا ان کے نزدیک بنی تیم کے آدمی کی اطاعت سے زیادہ محبوب تھی؛ اگر یہ لوگ خواہشات نفس کے پجاری ہوتے تو۔ اور ابو سفیان بن حرب اور اس کے امثال حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تقدیم کو زیادہ چاہتے تھے۔اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ ابو سفیان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تھا کہ قرابت داری کی وجہ سے انہیں خلیفہ بنایا جائے۔ اورجب حضرت صدیق رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو ان کے والد ابوقحافہ رضی اللہ عنہ سے جب یہ کہا گیا کہ آپ کا بیٹا خلیفہ بنا ہے ؛ تو اس نے کہا : کیا بنو مخزوم اور بنو عبدمناف رضا مند ہیں ؟‘‘ لوگوں نے کہا، ہاں ! ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اس پر تعجب کا اظہار کیا [اورکہا:’’یہ خاص عنایت ایزدی ہے۔‘‘] [طبقات ابن سعد (۳؍۱۸۴)] 

اس لیے کہ ابو قحافہ کو علم تھا کہ بنو تیم تمام قبائل سے کمزور قبیلہ ہے۔ اور اشراف قریش کا تعلق ان دو قبیلوں سے تھا۔

یہ بات ہوگئی۔ اب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے امثال و ہمنوا؛ اگر کوئی عقل مند اس پر غور و فکر کرے؛ تو اسے یقین ہو جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صرف اس لیے مقدم کیا اللہ اور اس کے رسول نے آپ کو تقدیم بخشی تھی۔کیونکہ آپ ان تمام لوگوں میں سے بہتر؛ ان کے سردار اور اللہ اور اس کے رسول کے محبوب تھے ۔ اس لیے کہ اسلام کسی کو بھی تقوی کی بنیاد پر ترجیح و تقدیم دیتاہے۔اورابوبکر ان سب سے بڑے متقی تھے۔

یہاں پر تاریخی روایت کی تحقیق اور چھان بین کا ایک دوسرا طریقہ بھی ہے ۔ وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

((خیر القرونِ قرنِی، ثم الذِین یلونہم ثم الذِین یلونہم ؛ ثم الذِین یلونہم))

’’بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے؛ پھر جو اس کے بعد ہے؛ پھر جو اس کے بعد؛ پھر جو اس کے بعد ۔‘‘

یہ امت تمام امتوں سے بہترین امت ہے۔ جیسا کہ کتاب و سنت کے دلائل سے واضح ہوتا ہے۔

مزید برآں جو کوئی بنو امیہ کے دور میں مسلمانوں کے احوال پر غور و فکر کرے گا؛ -خلفائے راشدین کا زمانہ تو بہت بڑی بات ہے-؛ تو اسے یقینی علم حاصل ہوگا کہ وہ لوگ اس زمانہ کے لوگوں سے بہت بہتر تھے۔ اور ان کے زمانہ میں اسلام زیادہ مضبوط اور غالب تھا۔ اگر قرن اول کے لوگوں نے ان پر متعین کردہ منصوص علیہ امام کی امامت سے انکار کردیا تھا؛ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے ان کی وراثت کا حق روک دیا تھا۔ اور ایک فاسق اور ظالم کو خلیفہ مقرر کرکے ایک عادل اور عالم کو اس کے حق سے محروم کردیا؛ حالانکہ انہیں اس حق کا علم بھی تھا؛ تو پھر یہ سب سے بدترین مخلوق ٹھہرے بہترین نہیں ۔اور یہ امت پھر سب سے بدترین امت ہوئی۔ کیونکہ اگر ان کے بہترین لوگوں کے یہ کرتوت ہیں تو ان کے بدترین لوگوں کا کیا عالم ہوگا۔

یہاں پر ایک دوسری چیز بھی ہے ؛ وہ یہ کہ یہ بات تواتر کے ساتھ معلوم ہے؛ اور عوام و خواص میں سے کسی ایک پر بھی مخفی نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت بڑے خاصان ِ خواص میں سے تھے۔ اور لوگوں میں سب سے زیادہ خصوصی مقام انہی حضرات کو حاصل تھا۔صحبت میں بھی؛ قربت میں بھی؛ اور آپ کے ساتھ تعلق میں بھی۔ آپ نے ان تمام سے سسرالی رشتے بھی قائم کیے۔اور کبھی آپ سے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آپ نے ان کی مذمت کی ہو؛ یا ان پر لعنت کی ہو۔ بلکہ مشہور و معروف بات یہی ہے کہ آپ ان سے محبت کرتے تھے اور ان کا ذکر خیر کیا کرتے تھے۔

تو درایں صورت یہ حضرات یا تو ظاہری اور باطنی طور پر استقامت پر ہوں گے؛ آپ کی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی۔ یا پھر ان کا معاملہ اس کے خلاف ہوگا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی؛۔پس اگر اس قربت کے باوجود بھی وہ استقامت پر نہ تھے تو پھر دو باتوں میں سے ایک لازم آتی ہے:

۱۔ یا تو آپ کو ان کے احوال کا علم نہیں تھا۔

۲۔ یا پھر آپ ان کے ساتھ مداہنت کیے ہوئے تھے۔

ان میں سے جو بھی بات ہو؛ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بہت بڑی قدح اور تنقید ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے:

(( إن کنت لا تدری فتلک مصیبۃ و إن کنت تدری فالمصیبۃ أعظم))

’’اگر آپ نہیں جانتے تو یہ ایک مصیبت ہے اور اگر جانتے ہیں تو پھر مصیبت اس سے بھی بڑی ہے ۔‘‘

اگریہ لوگ استقامت کے بعد منحرف ہوگئے تھے؛ تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کے خواص امت اور اکابر صحابہ میں بہت بڑی ذلت و رسوائی تھی -معاذ اللہ - اور ان لوگوں کے سامنے بھی جن کو آپ نے خبر دی تھی کہ آپ کے بعد کیا ہوگا۔ تو پھر آپ کو ایسی چیزوں کا علم کیون نہ ہوسکا۔ اور پھر وہ احتیاط کہاں گئی کہ اس امت پر کسی ایسے ویسے کو والی نہ بنایا جائے۔ اور وہ لوگ کہاں گئے جن سے وعدہ کیا گیا تھا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین باقی تمام ادیان پر غالب آئے گا۔ اور آپ کی امت کے اکابر اور خاص الخواص لوگ کیسے مرتد ہوگئے؟

صفحہ 4 از 12