فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 12

جب ان میں سے کسی ایک بات کرنے والے ایک لفظ تک اس معاملہ میں نہیں بولا۔ اور نہ ہی کسی دعوت دینے والے نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی دعوت دی۔ نہ ہی آپ کی بیعت کی دعوت نہ ہی کسی دوسرے کی بیعت کی دعوت۔ اور یہ معاملہ یونہی چلتا رہا حتی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ کی بیعت کی گئی ۔ اس وقت آپ اور آپ کے اعوان و انصار اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بیعت کا مطالبہ کیا؛ اور اس پر جنگ و قتال بھی کیا؛ خاموش نہیں رہے۔ حتی کہ قریب تھا کہ غالب آجاتے۔ تو اس سے یہ بات اضطراری طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ شروع میں ان حضرات کی خاموشی کی وجہ مقتضی کا عدم وجود تھا؛ نہ کہ کوئی مانع۔ اور ان لوگوں کے ہاں اس علم نام کی کوئی چیز نہیں تھی کہ نص جلی کی روشنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ خلافت کے زیادہ حق دار ہیں ۔اور جب آپ کے استحقاق کا مرحلہ آیا تویہی حضرات آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے ؛ حالانکہ اس وقت مانع اور رکاوٹ موجود تھی۔

یقیناً حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایسے انکارکرنے یا رکاوٹ بننے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نسبت بہت زیادہ دور تھے۔ اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی حق ہوتا تو آپ کبھی اپنی بیعت کی طرف نہ بلاتے۔ نہ ہی کسی ترغیب کے ساتھ اور نہ ہی کسی ترہیب کے ساتھ ۔اور نہ ہی آپ کسی بھی اعتبار سے حکومت اور منصب کے طلبگار تھے۔اور نہ ہی شروع میں کسی ایک کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں طعن و تنقید کرے۔ جیسا کہ یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد ممکن ہوا۔ کیونکہ اس وقت بہت سارے حامیان عثمان رضی اللہ عنہ آپ پر یہ الزام دھرنے لگے کہ آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں ملوث تھے۔اور بعض نے یہاں تک کہا ہے کہ آپ کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ذلیل کرنے میں کردار ہے۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل آپ کے لشکر میں تھے۔یہ ایسے امور تھے جن کی وجہ سے بہت سارے لوگوں نے آپ کی بیعت نہ کی تھی۔

یہ رکاوٹیں شروع شروع میں موجود نہیں تھیں ۔ اس وقت آپ کا لشکر بہت بڑا تھا۔ اور اگر آپ خلافت کے حق دار ہوتے تو یہ حق زیادہ ظاہر ہوتا۔ اور اس وقت میں آپ کے مخالفین کا دعوی بھی کمزور ہوتا اور طاقت کے لحاظ سے بھی کمزور ہوتے۔ اور کوئی ایسا مضبوط دعوی نہیں تھا جس کی بنیاد پر آپ کی خلافت کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے۔ جیسا کہ یہ رکاوٹیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل ہونے کے بعد پیدا ہوگئی تھیں ۔ اور نہ ہی آپ سے لڑنے کے لیے لشکر ایسے جمع ہوسکتا جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد جمع ہوگئے تھے۔

یہ امور ان کے امثال ؛ پر جو کوئی غور و فکر کرے گاتو اس کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے استحقاق کی نفی واضح ہوجائے گی کیونکہ یہ ایک ایسا واضح بیان ہے جس کا اپنی طرف سے انکار کرنا ممکن نہیں ۔ اور اگر یہ واضح ہوجائے کہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا؛ اور حضرت ابوبکر نے اس کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تو پھر حضرت ابوبکر یہ حق یا تو آپ کو تفویض کردیتے یا پھر اس معاملہ میں مجاملت سے کام لیتے ؛ یا پھر آپ کے سامنے کوئی عذر پیش کرتے۔ اور اگر حضرت ابوبکر اس پر بضد قائم رہتے تو پھر آپ ظالم ہوتے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے اپنا دفاع کرتے اور آپ حق پر ہوتے۔اور شریعت اور عقل اور عادت اس چیز کو واجب کرتی تھی کہ لوگ حضرت ابوبکر کی سرکشی اور بغاوت کے خلاف حضرت علی امام معصوم اور امام برحق کے ساتھ ہوتے۔اور اگر ایسا ہوا ہوتا تو ۔خصوصا جب کہ نفوس بڑی ولایت کی بیعت کے لیے قابل اطاعت لوگوں کی نسبت ایسے لوگوں کی بیعت سے متنفر تھے جو کہ اس کا اہل نہ ہو۔پس اسباب ہر لحاظ سے حضرت علی کے حق میں زیادہ اور بڑے تھے۔ اگر آپ ہی حق دار ہوتے ۔ اور یہ اسباب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہر لحاظ سے کمزور اور دور کے تھے اگر آپ باطل پر ہوتے۔

لیکن جب ہر طرح کے تقاضے حضرت ابوبکر کے حق میں تھے۔ اوریہ اللہ کا مضبوط دین ہے۔ اسلام کی حلاوت و طراوت اور اس کا اقبال اور سنجیدگی ہے؛ آپ ان سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے۔ تو پھر واجب ہوگیا تھا کہ حق دار کو اس کے حق سے محروم نہ کیا جائے اور کسی دوسرے کو اس حق پر مسلط نہ کیا ہے۔ اگرچہ بعض کی خواہشات دوسروں کے ساتھ ہوں ۔ جب کہ حضرت ابوبکر تک کسی کی کوئی خواہش نہیں تھی سوائے اس دین کی خواہش کے جس پر اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں ۔

جو کوئی ان باتوں پر اور ان جیسی دوسری باتوں اور اسباب پر غور وفکر کرتا ہے تو اسے اضطراری طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ خلافت نبوت کے سب سے بڑے حق دار حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔اور آپ کی ولایت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ راضی کرنے والی ہے؛ تو انہوں نے آپ کی بیعت کرلی۔ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر لازم آتا تھا کہ وہ اس کی پہچان کروائیں یااس میں تحریف کریں ۔ یہ دونوں باتیں عادت اوردین کے اعتبار سے ممتنع تھیں ۔ اور اسباب متعدد تھے۔ پس یہ یقین طور پر معلوم شدہ امور ہیں جنہیں ایسی روایات کے مقابلہ میں رد نہیں کیا جاسکتا جن کے درست ہونے کا کوئی علم ہی نہیں ۔ اور پھر اس وقت کیا عالم ہوگا جب ان روایات و حکایات کا جھوٹ ہونا معلوم بھی ہوجائے۔ یا ایسے الفاظ کے مقابلہ میں کیسے رد کیا جاسکتا ہے جن کی دلالت کا ہی معلوم نہ ہو؛ اور پھر اس وقت کیا عالم ہوگا جب ان الفاظ کی دلالت کی نفی معلوم ہوجائے۔اور پھر ایسے قیاسات جن کا کوئی نظام ہی نہیں ۔ اور جن سے معقولات اور ثابت شدہ منقولات اور معلوم شدہ مدلولات بھی ٹکراتے ہوں تو پھرکون سی چیز حق کے زیادہ قریب اور اتباع کے لائق ہے۔

[ردِ حق میں روافض کا طریقہ:]

صفحہ 6 از 12