فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 12

یہ روافض یقین طور پر معلوم شدہ حق کا انکارایسے شبہات کی بنیاد پر کرتے ہیں جو کسی انتہائی کمزورشبہ کو بھی قبول نہیں کرسکتے۔ تمام گروہوں سے بڑھ کر گمراہی اور کجی ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے جو متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور محکم کو چھوڑ دیتے ہیں ۔جیسے نصاری؛ جہمیہ ؛اور ان کے امثال و ہمنوا اہل بدعت اور ہوا پرست جو ایسی صحیح نصوص کو چھوڑ دیتے ہیں جو علم کو واجب کرتی ہیں اور ان کے مقابلہ میں ایسے شبہات پیش کرتے ہیں جن سے صرف شک ہی پیدا ہوتا ہے اور کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اور ان کی بھی اگر چھان بین ہو تو کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا۔ یہ منقولات بھی ایسے ہی دھوکہ ہیں جیسے عقلیات میں دھوکہ ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ ان چیزوں میں شبہ کی وجہ سے قدح اور تنقید ہے جو کہ حس اور عقل کی روشن میں معلوم ہوں ۔ پس جوکوئی چاہتا ہو کہ دلوں میں متسقر علم یقین کو شبہات کی بنیاد پر رد کرے تو یقیناً وہ دھوکہ باز فلاسفہ کی راہ پر چلتا ہے۔ اس سفسطہ کی کئی اقسام ہیں :

اول:....حقائق اور ان سے متعلق علم کی نفی انکار اور تکذیب۔

دوم:....شک اور شبہ : یہ فرقہ لا ادریہ کا طریقہ ہے۔ جو ہر بات میں کہتے ہیں : لا أدری۔ یعنی ہم نہیں جانتے۔ وہ نہ ہی کوئی چیز ثابت کرتے ہیں اور نہ ہی کس چیز کی نفی کرتے ہیں ۔لیکن حقیقت میں وہ علم کی نفی کرتے ہیں ۔ اور یہ بھی نفی کی ہی ایک قسم ہے۔ پس یہ وہ مغالطہ بازی کی عادت ہے؛ جس میں معلوم شدہ حق یا اس کے متعلق علم کا انکار کیا جاتا ہے۔

سوم:....ان لوگوں کا عقیدہ جو حقائق کو عقائد کا تابع بناتے ہیں ۔ پس کوئی انسان کہتا ہے:جو کوئی یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ عالم قدیم ہے؛ تو پھر وہ قدیم ہی ہے؛ اور جو کوئی اعتقاد رکھتا ہو کہ عالم محدث ہے؛ تو وہ محدث ہی ہے۔اور اگر اس سے مراد یہ لی جائے کہ اس کے نزدیک قدیم ہے اور دوسرے کے نزدیک محدث ہے؛ تو پھر یہ بات درست ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اس انسان کا عقیدہ ہے۔ لیکن یہاں پر مغالطہ بازی یہ ہے کہ وہ خارج میں بھی ایسے ہی مراد لیتے ہیں ۔

اگر معاملہ ایسے ہی ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ خلفائے ثلاثہ کے جو احوال معلوم ہیں ؛ اورجو کچھ ان کی سیرت بعد میں ان روایات کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے جنہیں رافضی روایت کرتے ہیں ؛ جن میں وہ جمہور امت کی تکذیب کرتے ہیں ؛ تو یہ بہت بڑی دھوکہ بازی ہے۔ اور جن لوگوں نے حضرت امیر معاویہ کے وہ فضائل بیان کیے ہیں جن کی روشنی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے اصحاب پر ان کی تقدیم واجب ہوتی ہے ؛ تو وہ بھی بہت بڑا جھوٹا؛ باطل پرست اور مغالطہ بازی ہے۔

مگر اس کے باوجود رافضیوں کی نقل کردہ وہ روایات جن کی بنا پر وہ خلفائے ثلاثہ کے ایمان پر جرح و تنقید کرتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عصمت کو واجب کرتے ہیں وہ ان روایات سے بڑا جھوٹ ہیں جن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تقدیم واجب ہوتی ہے۔ اور ان کی مغالطہ بازی ان سے بڑھ کر ہے ۔ اس لیے کہ کئی وجوہات کی بنا پر خلفائے ثلاثہ کے ایمان کا ظہور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر فضیلت کے ظہور سے زیادہ بڑھ کر اور واضح ہے۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عصمت کا اثبات حضرت امیر معاویہ کی فضیلت کے اثبات کی نسبت حق سے بہت زیادہ دور ہے۔

پھر یہ کہ بیشک حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے کمالات میں سے ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ رسول برحق تھے۔ اور دنیا کے بادشاہوں میں سے کوئی بادشاہ نہیں تھے۔ کیونکہ بادشاہوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے قریب رشتہ داروں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اور انہیں ولایات سونپتے ہیں ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں :

اول:....انہیں دوسرے لوگوں کی نسبت اپنے اقارب سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ جیسا کہ انسان کی طبیعت میں اپنے قرابت داروں کی طرف میلان ہوتا ہے۔

دوم:....اس لیے کہ بادشاہوں کے قرابت دار اپنی بادشاہت کو جس طرح قائم رکھنا چاہتے ہیں ؛ دوسرے لوگوں کو اس چیز سے کوئی ایسی غرض نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ انسان کے قرابت دار کی عزت و شان شوکت میں اس کی اپنی عزت اور شان و شوکت ہوتی ہے۔ اور بادشاہوں میں سے جس کے قرابت دار نہ ہوں وہ اپنے غلاموں اور موالیں سے مدد لیتا ہے۔ وہ انہیں اپنے قریب کرتا ہے؛ اور ان سے مدد حاصل کرتا ہے۔ اور یہ چیز بادشاہوں میں پائی جاتی ہے خواہ وہ مسلمان ہوں یا کفار۔

پس یہ وجہ ہے کہ جب بنو امیہ اور بنو عباس کے بادشاہ ؛ بادشاہ تھے تو وہ اپنے اقارب اور موالین کو زیادہ چاہتے تھے؛ اور انہیں دوسروں سے زیادہ ولایات اور مناصب سونپتے تھے۔ اور اس طرح انہوں نے اپن بادشاہ قائم رکھی ہوئی تھی۔ یہ حال دوسرے گروہوں کے بادشاہوں کا بھی تھا؛ جیسے بنو بویہ ؛ بنو سلجق؛ اور مشرق و مغرب اور شام اور یمن کے دیگر تمام بادشاہ۔

یہ حال کافر بادشاہوں کا بھی ہوتا ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا اہل کتاب۔ جیسا کہ افرنگی بادشاہوں اور ان کے علاوہ دوسروں میں بھی پایا جاتا ہے۔اور جیسا کہ آل چنگیز خان میں بھی ہے۔ اس لیے کہ بادشاہی بادشاہ کے قریب رشتہ داروں میں باقی رہتی ہے۔ اور کہتے ہیں : یہ عظیم ہے اور یہ عظیم نہیں ؛ یعنی یہ بادشاہ کا قرابت دار ہے۔

صفحہ 7 از 12