فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 12

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو ولایت سونپی گئی ؛ آپ کے چچاحضرت عباس؛آپ کے چچا زاد حضرت عل؛ حضرت عقیل؛اور ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب اور ابو سفیان بن الحارث بن عبد المطلب اور دوسرے تمام لوگوں کو چھوڑ دینا؛ اور سارے بنی عبد مناب کو چھوڑ دینا جیسے حضرت عثمان بن عفان خالد بن سعید بن ابن العاص اور ابان بن سعید بن العاص اور دوسرے لوگ جن کا تعلق بنو عبدمناف سے تھا؛ اور قریش میں انہیں بہت بڑی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اور نسب کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھے۔ یہ اس بات کی بہت بڑ دلیل ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول تھے۔ اور بلاشبہ آپ کوئی بادشاہ نہیں تھے۔ کیونکہ آپ نے خلافت میں اپنے کسی قریب رشتہ دار کو خلافت یا منصب کے لیے آگے نہیں بڑھایا ۔ نہ قرابت نسبی کی وجہ سے نہ ہی گھرانے کے شرف و منزلت کی وجہ سے ۔ بلکہ آپ نے صرف اور صرف ایمان اور تقوی کو ہی تقدیم بخشی تھی۔

یہ اس بات کی بھی دلیل تھی کہ محمد رضی اللہ عنہم اور آپ کے بعد آپ کی امت صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کریں گے اور اس کی اطاعت بجا لائیں گے۔اوروہ ایسے کچھ بھی نہیں کریں گے جیسے دوسرے لوگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔ اور نہ ہ وہ ایسے بادشاہی چاہیں گے جیسے بعض انبیائے کرام علیہم السلام کے لیے مباح تھا۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا تھا کہ آپ بندے اوررسول بنیں یا پھر نبی اور بادشاہ بنیں ۔ تو آپ نے بندے اور رسول بننے کو پسند فرمایا۔

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا آپ کے بعد منصب خلافت سنبھالنا در حقیقت اس نعمت کا اتمام تھا۔ بے شک اگر آپ اپنے اہل بیت میں سے کسی ایک کو خلافت کے لیے مقدم کرتے تو بد گمان لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ آپ بادشاہ ہیں ۔جیساکہ اگر آپ اپنا مال اپنے بعد وارثوں کے لیے چھوڑتے تو یہ شبہ پیدا ہوسکتا تھا کہ آپ اپنے وارثوں کے لیے مال جمع کرتے تھے۔جب آپ نے اپنے بعد اپنے اہل بیت میں سے کسی ایک کو خلیفہ نہ بنایا؛ اور نہ ہی ان کے لیے کوئی مال چھوڑا تو اس سے واضح ہوگیا کہ آپ جاہ و مرتبہ اور حکومت و منصب کی طلب سے سب لوگوں سے بڑھ کر دور تھے۔ اگرچہ ایسا کرنا مباح بھی تھا۔ اوریہ کہ آپ بادشاہ نبی نہیں تھے بلکہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( إنِی واللہِ لا أعطِی أحدا ولا أمنع أحدا، وِإنما أنا قاسِم أضع حیث أمِرت۔)) [سبق تخریجہ فی المجلد الأول]

’’اللہ قسم ! بیشک میں کسی کو کچھ نہیں دیتا۔ اور نہ ہی کسی سے کچھ روکتا ہوں ۔ بیشک میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں ۔وہیں پر چیز رکھتا ہوں جہاں کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔‘‘

اور ارشاد فرمایا:

(( إِن ربِی خیرنِی بین أن أکون عبدا رسولا و نبِیا ملِکاً، فقلت: بل عبدا رسولا)) [المسندِ ط۔المعارِف ِ12؍142 1 رقم 7160؛ صحیح الاسناد۔]

‘‘بیشک میرے رب نے مجھے اختیار دیا کہ میں بندہ رسول بنوں یا پھر بادشاہ اور نبی بنوں ۔ تو میں نے کہا: نہیں بلکہ میں بندہ اور رسول بننا چاہتا ہوں ۔‘‘

اور جب بات ایسے ہی تھی تو یہ آپ کے بادشاہ انبیائے کرام میں سے ہونے سے نزاہت پر دلالت کرتی ہے ۔ پس اس سے آپ کی نبوت اور جھوٹ اور ظلم سے نزاہت پر بہت بڑی اور عظیم ترین دلیل ہے۔ بھلے آپ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنیں یا پھر اہل بیت میں سے کوئی ایک اس منصب پر فائز ہو جائے؛ پھر بھی وہ عظیم تر مہربانیاں اور مصلحتیں حاصل نہ ہو پاتیں ۔

یہ بات بھی معلوم شدہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت کی نسبت اسلام زیادہ پھیل چکا تھا اور اسے غلبہ حاصل تھا۔ اور جن لوگوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگیں لڑیں وہ کفر سے بہت دور تھے بہ نسبت ان لوگوں کے جن سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے جنگیں لڑیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب اورمرتدین سے جنگیں لڑیں ۔ حالانکہ اس وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کی وجہ سے مسلمان بہت زیادہ کمزور پڑ گئے تھے۔ اور اکثر بستیوں والے مرتد ہوگئے تھے۔ اور شہر لوگوں کے دلوں میں بہت کمزور آگئی تھی۔ اور بہت سارے لوگ مانعین زکواۃ سے جنگ کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار تھے۔

پھر آپ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے ۔ انہوں نے وقت کی دو بڑ طاقتوں [سپر پاورز] سے جنگیں لڑیں ۔ اور ایسا کبھی بھی نہیں ہوا تھا کہ اہل حجاز اور اہل یمن ان لوگوں سے جنگیں لڑیں اور انہیں مغلوب کردیں ۔ یہ طاقتیں روم اورفارس کے ملک تھے۔ آپ نے ان کو مغلوب کیا اور ان کے شہر فتح کیے۔اور پھر جو کچھ فتوحات باقی رہ گئی تھیں مشرق و مغرب میں وہ فتوحات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مکمل کردیں ۔ پھر اس کے بعد بنو امیہ کی خلافت میں مشرق و مغرب میں مزید فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا۔ جیسا کہ ما ورا النہر اور اندلس وغیرہ کے علاقے فتح ہوئے۔ یہ فتوحات عبد الملک کے دور میں ہوئیں ۔

صفحہ 8 از 12