فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ…

فصل :....جن کو اخبار کی معرفت نہ ہو؛ ان کے لیے ممکنہ طریقہ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 12

یہ بات معلوم شدہ ہے کہ اگر نبی کریم رضی اللہ عنہم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے علاوہ کس اور کو خلیفہ بنایا جاتا؛ مثلا حضرت عثمان یا حضرت علی رضی اللہ عنہما ؛ تو ان حضرات کے لیے وہ کچھ کرنا ممکن نہ تھا جو قبل الذکر حضرات نے کارنامے دکھائے۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے دور میں قوت اور کثرت کے باوجو وہ کچھ نہ کرسکے جو حضرات شیخین نے کر دکھایاتھا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ عاجز آگئے تھے۔آپ کے مددگار و اعوان حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے اعوان و مددگاران کی نسبت زیادہ کثرت کے ساتھ تھے۔ اور دشمن کم تھے۔ اورحضرات شیخین کے دشمنوں کی نسبت اسلام کے زیادہ قریب تھے ۔ مگر اس کے باوجود آپ اپنے دشمن کو مغلوب نہ کرسکے۔ تو پھر آپ کے لیے مرتدین کو مغلوب کرنا کیسے ممکن ہوتا۔ اور پھر انہوں نے اپنی کم تعداد اور دشمن کی شوکت و سطوت کے باوجود روم اور فارس کو مغلوب کیا۔

اس سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پراور آپ کے بعد تمام لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام نعمت واضح ہوتے ہیں ۔اور اس میں کوئی شک شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی خلافت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑ نعمتوں میں سے ایک نعمت تھی۔ اس لیے کہ ان کے بجائے اگر کوئی دوسرا خلیفہ بنتا تو وہ وہ کام نہ کرسکتا جو ان دو حضرات نے کیا۔ انہیں یا تو ان چیزوں پر قدرت ہی نہ ہوتی یا پھر ان کے ذہن و ارادہ میں ہی یہ بات نہ آتی۔

جب یہ کہا جائے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پرغلبہ کیوں نہ حاصل ہوا؟لازمی طور پر اس کا کوئی سبب ہونا چاہیے۔ یا تو اس پر کمال قدرت نہ ہو؛ یا پھر کمال ارادہ نہ ہو۔ کیونکہ جب کمال قدرت کے ساتھ کمال ارادہ پائے جائیں تو فعل کا وجود واجب ہو جاتاہے۔ اور تمام قدرت میں متبعین [پیروکاروں ]کی اطاعت بھی شامل ہے۔ اور تمام ارادہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ چیز زیادہ مناسب؛ فائدہ مند اور اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے والی ہو۔

حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قدرت و امکان کمال درجہ کے تھے اور ان کا ارادہ بھی بہت ہ افضل و عمدہ تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے اسلام کی ومدد و نصرت فرمائی اور کفر و نفاق کو ذلیل کیا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نصیب میں وہ کمال قدرت و امکان اور ارادہ نہیں آئے تھے جو ان دو حضرات کے نصیب میں تھے۔

اللہ تعالیٰ نے تو بعض انبیائے کرام علیہم السلام کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اور بعض خلفا کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ نہیں دیا تھا جو حضرات شیخین پر انعام فرمایا تھا تو پھر ان کے لیے اپنی خلافت میں وہ کچھ کرنا ممکن نہ تھا جو حضرات شیخین رضی اللہ عنہما نے اپنے اپنے دور خلافت میں کردیا۔ پس درایں صورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے وقت وہ بہت ہ زیادہ عاجز اور کمزور تھے۔خواہ اس بات کو جس طرح سے بھی تسلیم کر لیا جائے۔ بس اس میں آخری درجہ کی بات یہ ہوسکتی ہے کہ کوئی شیعہ زیادہ سے زیادہ یہ کہے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیروکار آپ کی بات نہیں مانتے تھے۔

پس اس سے کہا جائے گا:جب وہ لوگ بھی آپ کی اطاعت نہیں کرتے تھے جنہوں نے آپ کی بیعت کی تھی تو پھر وہ لوگ کیسے آپ کی بات مان سکتے تھے جنہوں نے آپ کی بیعت ہی نہیں کی تھی۔ اور جب یہ کہا جائے کہ :اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے بعد لوگ آپ کی بیعت کرلیتے تو آپ اس سے زیادہ کام کرسکتے تھے جو کچھ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے کیے۔

تو ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ:آپ کی بیعت کرنے والے لوگوں کی تعداد ان لوگوں کی نسبت دوگنا سے بھی زیادہ تھی جنہوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی بیعت کی تھ۔ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دور کی نسب آپ کے دور میں دشمن بہت کمزور ہوگئے اوراسلام کے زیادہ قریب تھے۔ تو پھر بھی آپ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے ان دونوں حضرات کے کام کی کوئی بو تک آتی ہو[یا ان کی مشابہت ہی ہوتی ہو]کجا کہ وہ ان حضرات کے اعمال سے افضل و اکثر عمل کرتے ۔

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے اتباع کار ایمان و تقوی میں بڑھ کر تھے؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت فرمائی ۔

تو ان سے کہا جائے گا کہ :یہ بات رافضی عقیدہ کے فساد پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما مرتد ہوگئے تھے۔ یا یہ دونوں حضرات فاسق و فاجر تھے۔ جب ان کی تائید و نصرت ان کے ایمان اور تقوی کی وجہ سے تھی؛ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جن صحابہ کرام نے ان دوحضرات کی بیعت کی تھی وہ ان لوگوں سے افضل تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تھی۔اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی امامت کا اقرار کرنے والے ان لوگوں کی نسبت افضل تھے جو حضرت علی کی امامت کا اقرار کرتے تھے۔ تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما حضرت علی سے افضل تھے۔ اگر وہ کہیں کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نصرت اس لیے نہیں ہوئی کہ آپ کے پیروکاران آپ سے بغض رکھتے تھے اور آپ کے ساتھ اختلاف کرتے رہتے تھے۔

صفحہ 9 از 12