Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قرآن کا جمع و تدوین

  علی محمد الصلابی

معرکہ یمامہ میں جام شہادت نوش کرنے والے مسلمانوں میں بہت سے حفاظ قرآن تھے۔ اس کے نتیجہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرؓ کے مشورہ سے قرآن کو جمع کرنے کا اہتمام فرمایا۔ قرآن کو جھلّیوں، ہڈیوں، کھجور کی شاخوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کیا گیا۔

(حروب الردۃ: احمد سعید: صفحہ 145)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس عظیم کام کی ذمہ داری صحابی جلیل سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سر ڈالی۔

حضرت زیدؓ روایت کرتے ہیں کہ معرکہ یمامہ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلوایا، میں وہاں پہنچا تو آپؓ کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف فرما تھے۔ آپؓ نے مجھ سے فرمایا:

سيدنا عمر میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ معرکہ یمامہ میں بہت سے حفاظ قرآن شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی حفاظ کی شہادت ہوئی تو اس طرح بہت سا حصہ قرآن کا ضائع ہو سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپؓ قرآن جمع کرنے کا حکم صادر فرمائیں۔ میں نے سیدنا عمرؓ سے کہا: میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا۔

(اس کا قوی احتمال ہے کہ رسول اللہﷺ نے قرآن کو مصحف میں اس لیے جمع نہیں کیا کیونکہ قرآن کا نزول جاری تھا اور ناسخ و منسوخ کا سلسلہ چل رہا تھا (اور کبھی کوئی آیت نازل ہوتی اور کبھی کوئی، اور جبریل علیہ السلام آپﷺ کو بتاتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں فلاں آیت سے پہلے اور فلاں کے بعد رکھا جائے) اس لیے جمع کرنا ممکن نہ تھا لیکن جب آپﷺ کی وفات کے ساتھ نزول قرآن کا سلسلہ منقطع ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے خلفائے راشدینؓ کو الہام کیا اور انہیں شرح صدر عطا کر دیا۔ سیرۃ و حیاۃ الصدیق: صفحہ 120)

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ یہ خیر ہے، اور برابر اس سلسلہ میں اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اس چیز کا شرح صدر کر دیا جس کا شرح صدر عمر کو کیا تھا اور میری بھی وہی رائے ہے جو عمر کی ہے۔ تم عقلمند نوجوان ہو، تم پر ہم کوئی اتہام نہیں پاتے، اور تم رسول اللہﷺ کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔ لہٰذا تم قرآن کو تلاش کر کے جمع کرو۔‘‘

سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

واللہ اگر مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کا حکم فرماتے تو یہ جمع قرآن کے مقابلہ میں مجھ پر زیادہ مشکل نہ ہوتا۔ پھر میں نے قرآن کو کھجور کی شاخوں، پتھر کی سلوں، لوگوں کے سینوں، جھلیوں اور ہڈیوں سے تلاش کر کے جمع کیا۔ یہاں تک کہ سورہ توبہ کی آخری آیات مجھے صرف حضرت ابو خزیمہ انصاریؓ کے پاس ملیں

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ.

(سورۃ التوبہ آیت 128) 

سے لے کر سورت کے آخر تک۔ اور یہ مصحف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا اور جب آپؓ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ کے پاس رہا اور پھر آپؓ کی وفات کے بعد سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے پاس رہا۔

(البخاری: صفحہ 4986)

اس حدیث کی تعلیق میں امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث میں واضح بیان موجود ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآن کو دو دفتوں (گتوں) کے درمیان بالکل اسی طرح جمع کر دیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ پر نازل فرمایا تھا، نہ اس میں اضافہ کیا اور نہ اس میں کسی طرح کی کمی کی اور جس چیز نے انہیں قرآن کو جمع کرنے پر ابھارا وہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ قرآن کھجور کی شاخوں، ہڈیوں اور لوگوں کے سینوں میں متفرق تھا، جس کی وجہ سے حفاظ قرآن کے نہ رہنے کی صورت میں اس کے بعض حصوں کے ضائع ہونے کا خطرہ محسوس ہوا، لہٰذا وہ خلیفہ رسول کے پاس پہنچے اور ان سے قرآن جمع کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے بھی ان کی رائے سے اتفاق کیا اور اس طرح تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اتفاق سے قرآن ایک جگہ جمع کرنے کا حکم فرمایا، پھر قرآن کو جس طرح رسول اللہﷺ سے سنا تھا اسی طرح لکھا۔ اس میں ذرا بھی تقدیم و تاخیر نہ کی اور نہ اپنی طرف سے اس کی ترتیب رکھی بلکہ جس طرح رسول اللہﷺ سے سنا تھا اسی طرح مرتب کیا۔ رسول اللہﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جس طرح قرآن نازل ہوتا اسی ترتیب سے سکھاتے جس ترتیب سے آج ہمارے مصاحف میں موجود ہے اور یہ ترتیب جبرئیل امین علیہ السلام کی توقیف سے تھی۔ جب بھی کوئی آیت نازل ہوتی جبرئیل علیہ السلام رسول اللہﷺ کو بتاتے کہ اس آیت کو فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد لکھا جائے۔

(شرح السنۃ للبغوی: جلد 4 صفحہ 522)

اس طرح قارئین کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن کو سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جمع کیا۔ صعصعہ بن صوحان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے جس نے قرآن کو دو دفتوں (گتوں) کے مابین جمع کیا اور کلالہ کی تشریح کی وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔

(ابن ابی شیبۃ: جلد7 صفحہ 196 کلالہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے میں جس کے نہ والدین ہوں اور نہ اولاد۔ آپؓ فرماتے ہیں کلالہ کے سلسلہ میں میری رایک رائے ہے اگر صحیح ہے تو من جانب اللہ ہے اور اگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ کلالہ: والد و اولاد کے ماسوا یعنی بھائی بہن ہیں۔ دیکھیے: موسوعۃ فقہ ابی بکر الصدیق: صفحہ 36)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ سیدنا ابوبکرؓ پر رحم فرمائے، انہوں نے سب سے پہلے قرآن کو دو دفتوں کے درمیان جمع فرمایا۔

(ابن ابی شیبۃ: جلد7 صفحہ 196)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس عظیم کام کے لیے سیدنا زید بن ثابتؓ کا انتخاب فرمایا کیونکہ آپؓ نے اس کام کے لیے اساسی صلاحیتوں کو ان کے اندر پایا اور وہ یہ ہیں:

آپؓ نوجوان تھے، اس وقت ان کی عمر صرف اکیس سال تھی، اس صورت میں آپؓ اس کام کے لیے زیادہ موزوں تھے۔

آپؓ اس کی اہلیت زیادہ رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو عقل رسا عطا فرمائی تھی۔ اس لیے آپؓ اس کام کو بدرجہ اتم کر سکتے تھے۔ اللہ نے آپؓ کے لیے خیر کا راستہ آسان کر دیا تھا۔

آپؓ ثقہ اور قابل اعتماد تھے، آپؓ پر کوئی اتہام اور عیب نہیں تھا۔ اس لیے آپؓ کا عمل سب کے نزدیک قابل قبول تھا اور سب کے دل مطمئن اور نفوس راغب تھے۔

آپؓ کاتب وحی تھے، لہٰذا اس سلسلہ میں آپؓ کو تجربہ تھا، عملی طور پر اس کو کر چکے تھے، آپؓ اس کام کے لیے کوئی نئے نہیں تھے۔

(التفوُّق والنَّجابۃ علی نہج الصحابۃ: حمد العجمی: صفحہ 73)

انہی اوصاف کی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کے لیے آپؓ کو منتخب فرمایا اور آپؓ اس کے لیے انتہائی موزوں و مناسب اور تجربہ کار تھے۔

مزید برآں آپؓ ان چار افراد میں سے تھے جنہوں نے نبی کریمﷺ کے دور میں قرآن کو مکمل حفظ کر رکھا تھا چنانچہ قتادہ نے سيدنا انسؓ سے سوال کیا کہ نبی کریمﷺ کے دور میں کن لوگوں نے قرآن کو مکمل حفظ کیا تھا؟ فرمایا: چار افراد تھے اور وہ سب انصار میں سے تھے: سیدنا ابی بن کعبؓ، سیدنا معاذ بن جبلؓ، سیدنا زید بن ثابتؓ اور سیدنا ابو زیدؓ۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 431)

سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جمع قرآن کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ کوئی نوشتہ اس وقت قرآن میں شامل کرتے جب کہ وہ نبی کریمﷺ کے سامنے تحریر کیا گیا ہو اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس کو حفظ کر رکھا ہو۔ صرف حفظ پر اعتماد نہیں کرتے تھے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ حفظ میں خطا یا وہم واقع ہو گیا ہو اور کسی کی تحریر کا اس وقت تک اعتبار نہ کرتے جب تک دو گواہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ یہ رسول اللہﷺ کے سامنے تحریر کیا گیا ہے اور یہ انہی وجوہ (قراء توں) میں سے ہے جن پر قرآن کا نزول ہوا ہے۔

(التفوق والنجابۃ علی نہج الصحابۃ: صفحہ 74)

اسی منہج پر سیدنا زید رضی اللہ عنہ جمع قرآن پر قائم رہے۔ پوری احتیاط سے کام لیا اور انتہا درجہ کی دقت نظری اور تحری سے قرآن کو لکھا۔

اسی طرح حضرت زیدؓ ان حضرات میں پیش پیش تھے جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مصاحف کو تیار کیا۔

(التفوق والنجابۃ علی نہج الصحابۃ: صفحہ 74)

جس کی تفصیل ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گی۔