چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر…

چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

چوتھا منہج :
 احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال
فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’منہج چہارم : وہ دلائل جو کہ آپ کی امامت پر دلالت کرتے ہیں ‘ اور وہ آپ کے احوال سے مستنبط ہیں ‘ ان کی تعداد بارہ ہے ۔‘‘ 

[پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے احوال سے آپ کی امامت پر استدلال کرتے ہوئے کہتا ہے]:’’ آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے۔‘‘ شیعہ مصنف نے اس ضمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چند خوارقِ عادات کا بھی ذکر کیا ہے۔اور آپ کے کئی فضائل کا ذکر بھی کیا ہے ‘ جن پر رد گزر چکا ہے۔

چنانچہ شیعہ مصنف لکھتا ہے : ’’ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بڑے زاہد تھے۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں : یہ بات بالکل ممتنع ہے۔ جو لوگ حضرات صحابہ کے احوال جانتے ہیں ‘ انہیں علم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بڑے زاہد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ اس لیے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے مالدار اور تاجر تھے؛اور آپ نے اپنا تمام تجارتی سرمایہ اللہ کی راہ میں دے دیا تھا۔

جب آپ مسند آرائے خلافت ہوئے تو فروخت کے لیے چادریں اپنے کندھے پر ڈالے بازار جا رہے تھے کہ راستہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ؛ آپ اپنے بازوپر چادریں رکھے جارہے تھے۔آپ نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے ؟

توآپ نے فرمایا: ’’ تمہارا کیا خیال ہے کہ میں اپنے بچوں کے لیے رزق کمانا چھوڑ دوں ؟‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی خبر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور مہاجرین صحابہ کو دی۔ انھوں نے آپ کا وظیفہ مقرر کیا۔ آپ نے حضرت عمر و ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما سے قسم لی [کہ کیا ان کے لیے یہ مال لینا حلال ہے ؟]۔تو انہوں نے حلف اٹھا کر بتایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ دو درہم یومیہ لینے کے مجاز ہیں ۔[ابوداؤد نے بسند صحیح ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے کہ میرے والد نے بتایا جب ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تھے تو آپ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ (طبقات ابن سعد:۳؍۱۷۲، تاریخ الاسلام للذہبی،(عہد الخلفاء،ص:۱۰۷) عروہ کہتے ہیں مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو انھوں نے کوئی درہم ودینار پیچھے نہیں چھوڑا تھا۔ (طبقات ابن سعد:۳؍۱۹۵)، اسامہ بن زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تجارت میں مشہور تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ ان میں سے آپ غلام آزاد کرتے اور مسلمانوں کی امداد کیا کرتے تھے۔ جب مدینہ پہنچے تو ان میں سے کل پانچ ہزار درہم بچے تھے۔ آپ یہ سرمایہ نیک کاموں پر صرف کیا کرتے تھے۔ (طبقات ابن سعد(۳؍۱۷۲)، من طریق الواقدی)]

پھر آپ نے اپنا مال بیت المال میں چھوڑ دیا۔پھر جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا توآپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا:’’ ان کامسلمانوں کے بیت المال سے لیا ہوا مال بیت المال کو واپس کردیا جائے ۔‘‘

بعد میں جب اس کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ ایک مشک تھی جس کی قیمت پانچ درہم بھی نہیں بنتی تھی۔اور ایک حبشن لونڈی تھی جو کہ اپنے بچے کو دودھ پلارہی تھی۔ اور ایک حبشی غلام تھا اور ایک اونٹ ۔ آپ نے یہ سامان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا ۔تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عیال سے یہ مال بھی واپس لے لیا جائے گا؟

نہیں رب کعبہ کی قسم ! ایسا نہیں ہوگا؛ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں بھی بڑی تکالیف اٹھائی ہیں ۔ اب ان چیزوں کی قیمت میں ادا کر دوں گا [اوریہ مال ابوبکر کے گھر واپس بھیج دیا جائے ]۔

بعض علمائے کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ توبڑے زاہد تھے ؛ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ سے بڑے زاہد تھے ۔ اس لیے کہ اسلام کے شروع میں آپ کا بہت بڑا مال اور بڑی وسیع تجارت تھی؛ جسے آپ نے اللہ کی راہ میں خرچ کردیا ؛ اور خلافت کے دروان آپ کی یہ حالت تھی۔یہاں تک کہ آپ کے پاس جو بیت المال کا مال باقی بچ گیا تھا وہ بھی آپ نے واپس کردیا۔ ابن زنجویہ [ان کا نام حمید بن مخلد ہے یہ بڑے ثقہ راوی اور حافظ حدیث تھے۔ ۲۴۷ھ میں وفات پائی] فرماتے ہیں :

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ آغاز اسلام میں تنگ دست تھے۔آپ پر خرچ کیا جاتا تھا؛ آپ کسی پرخرچ نہیں کرسکتے تھے۔ پھر آپ نے مال سے فائدہ اٹھایا ؛ زرعی اراضی ، مکانات اور کھجور کے باغات اور اوقاف خرید لیے تھے۔ وفات کے وقت آپ کے ہاں چار بیویاں اور انیس لونڈیاں تھیں ۔‘‘

یہ تمام چیزیں آپ کے لیے مباح تھیں ۔ وللہ الحمد ۔ اور جو مال آپ نے چھوڑا تھا اسے بیت المال میں واپس کرنے کا حکم بھی نہیں دیا۔آپ کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ :’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد کوئی سونا اور چاندی نہیں چھوڑا۔ سوائے سات سو درہم کے جو کہ آپ کے عطایا میں سے باقی بچ گئے ہیں ۔‘‘

اسود بن عامر کہتے ہیں : ہم سے شریک نخعی نے حدیث بیان کی ؛ اس نے عاصم بن کلیب سے نقل کیا؛ آپ محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’میں عہد رسالت میں بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھے رہتا تھا۔ اور آج میری ثروت کا یہ عالم ہے کہ میرے مال کی زکوٰۃ چالیس ہزار تک پہنچتی ہے۔‘‘ [رواہ احمد عن حجاج]

ابراہیم بن سعید جوہری روایت کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میرے مال کی زکوٰۃ چار ہزار دینار تک پہنچتی ہے۔‘‘ 

صفحہ 1 از 5