چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر…

چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیشک بہت بڑے زاہد تھے ؛ مگر ان کے زہد کی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زہد سے نسبت ہی کیا ہے؟علامہ ابن جزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’کہنے والے کہتے ہیں : ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت بڑے زاہد تھے‘ ‘ ۔ یہ کسی جاہل نے جھوٹ بولا ہے ۔زہدکے معنی ہیں :انسان کا دل شہرت و مال ؛ لذات و عیش اورخدم و حشم کی خواہش سے رو گردانی کرنااور اسکے سوا زہد کا اور کوئی مطلب نہیں ۔ زہد کا معنی اسی انسان پر صادق آتا ہے جسکے اندر یہ اوصاف موجود ہوں ۔ مال کی محبت سے بیگانگی کے بارے میں اگر بات ہوتو ہر انسان جسے صحیح روایت کی ذرا بھر بھی اطلاع ہو تو وہ جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے بہت بڑے مال دار تھے۔آپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ:’’آپ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے؛ جو سب کے سب اللہ کی راہ میں خرچ کیے۔ اور اللہ کی رضا کے لیے ان مساکین اورکمزور مسلمانوں کو خرید کرآزاد کیا جنہیں ایمان لانے کے جرم میں سزا دی جاتی تھی۔آپ نے کوئی ایسا سخت کوش غلام آزاد نہیں کیا جو آپ کی حفاظت کرے ‘ بلکہ وہ لوگ آزاد کیے جو کمزور تھے اور انہیں اللہ کی راہ میں تکلیف دی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس صرف چھ ہزار درہم باقی بچ گئے تھے۔ وہ سب آپ نے اپنے ساتھ رکھ لیے [تاکہ سفر میں کام آئیں گے ]۔ ان میں سے ایک درہم بھی اپنے بچوں کے لیے نہیں چھوڑا۔ اور پھر یہ سارے درہم اللہ کی راہ میں خرچ کرڈالے۔اوران میں سے ایک درہم بھی آپ کے پاس باقی نہیں بچا۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس صرف ایک جبہ باقی بچ گیا تھا ۔جب آپ کہیں پر پڑاؤ ڈالتے تو اسے اپنے لیے بطور بستر بچھالیتے؛ اور جب اٹھ جاتے تو اسے اپنے جسم پر پہن لیتے۔ جب کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مال بھی جمع کیا اور بڑی بڑی جائدادیں بھی خریدیں ۔ کئی لوگوں کی یہ جائدادیں ضائع بھی ہوگئیں ؛ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اللہ کی رضاکو ترجیح دی اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کیا ۔ اوروہ لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کیے جانے والے مال کی نسبت اپنے پاس بچ جانے والے مال سے زیادہ بے رغبت تھے۔ پھر جب آپ خلافت پر متمکن ہوئے تو نہ ہی آپ نے کوئی لونڈی رکھی اور نہ ہی مال کو وسعت دی۔

اللہ کے مال [بیت المال] میں سے جو کچھ اپنے نفس اور اولاد پر خرچ کیا تھا مرتے وقت اس کا شمار کیا؛ تواس سے آپ کے حق کا کچھ حصہ ہی پورا ہوسکتا تھا۔مگر پھر بھی آپ نے حکم دیا کہ آپ کو جو حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد اورغزوات کے مال غنیمت اور دیگر تقسیم میں سے ملا ہے ‘ اس سے یہ مال نکال کر بیت المال میں واپس جمع کرادیا جائے۔

مال و دولت اور لذات سے یہ وہ حقیقی زہدتھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بھی کوئی ایک اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔ نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور نہ ہی کوئی دوسرا صحابی ۔ ہاں مہاجرین [اورسابقین ]اولین میں سے حضرت ابوذر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما اس کے کسی قدر قریب ہیں ؛ اس لیے کہ وہ اسی راہ پر چلتے رہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں گامزن تھے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد زہد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ تھا پھر حضرت ابوعبیدہ اور ابو ذر کا۔مال و دولت سے زہد کے باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بلند مقام پر فائز تھے۔ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مالِ حلال کو وسعت دی ۔ جب آپ کا انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی چاربیویاں تھیں اور انیس لونڈیاں ۔ خدام اور غلام ان کے علاوہ تھے۔اوروفات کے وقت آپ کی اولاد بچوں اور بچیوں کی تعداد چوبیس تھی۔ اور ان کے لیے اتنی تعداد میں باغات اور زمینیں چھوڑیں جن کی وجہ سے ان کا شمار خاندان کے دولت مند اور خوش حال ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ یہ بات اتنی مشہور ہے کہ تاریخ و حقائق کا ادنی علم رکھنے والا انسان بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا۔آپ کی جملہ جاگیروں میں سے ینبع کی جاگیر بھی تھی۔[امام ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ] :

’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اراضی میں سے ایک ینبع کی جاگیر تھی،جوکہ آپ نے صدقہ کردی تھی؛ جہاں سے باقی غلہ کے علاوہ ایک ہزار وَسق کھجور کی آمدنی ہوتی تھی۔‘‘

جب کہ بچوں اور خدام و حشم کی طرف آپ کا میلان بھی اتنا ظاہر ہے کہ بیان کی ضرورت نہیں ۔اوریہ اس قدر مشہور بات ہے کہ کسی ادنی علم رکھنے والے کو بھی اس سے مجال انکار نہیں ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اقارب میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ شامل تھے جوکہ سابقین اولین و مہاجرین [ اورعشرہ مبشرہ] میں شمار ہوتے تھے۔آپ کو فضائل اسلام کے ہرباب میں فضیلت حاصل تھی۔اور آپ کے بیٹوں میں عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ جیسے ہونہار بھی تھے۔ جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ؛ ہجرت اورسابق اسلام ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔آپ کی فضیلت صاف ظاہر ہے۔مگر اس کے باوجود آپ نے ان میں سے کسی کو بھی کسی علاقہ کا عامل مقرر نہیں کیا تھا۔ حالانکہ آپ کے عہد خلافت میں یمن اپنی پوری وسعت اور کثرت مال کے ساتھ ؛ مکہ و مدینہ و خیبر و بحرین و حضر موت و عمان و طائف و یمامہ اورحجازکے تمام علاقے آپ کے زیر تسلط تھے۔ اگر آپ ان میں سے کسی ایک کو عامل مقرر کرتے تو وہ اس کے اہل بھی تھے۔ لیکن آپ کے دل میں محبت کا خوف تھا ؛ کہیں وہ ذرا بھر بھی خواہشات کی طرف مائل نہ ہوجائیں ۔

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے نقش قدم پر چلے اور اپنے قبیلہ بنی عدی میں سے کسی کو بھی اتنے وسیع اور بڑے ملک میں کسی عہدہ پر مقرر نہیں کیا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شام و مصر اور عراق سے لے کرفارس کی تمام شاہی اورخراسان تک تمام علاقے فتح کر لیے تھے۔ آپ نے اپنے قبیلہ کے نعمان بن عدی کومیسان کا عامل مقرر کیا تھا مگر جلد ہی اسے اس منصب سے معزول کردیا۔

صفحہ 2 از 5