چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر…

چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

حالانکہ بنی عدی میں اتنے مہاجرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے کہ قریش کی کسی دوسری شاخ میں اتنے مہاجر نہیں تھے۔ اس لیے کہ بنی عدی میں سے کوئی ایک بھی مکہ میں باقی نہیں بچا تھا؛ سارے لوگ مدینہ ہجرت کر گئے تھے۔ان میں سعید بن زید بھی تھے جوکہ سابقین اولین اور مہاجرین صحابہ میں سے تھے۔اور ابوجہم بن حذیفہ و خارجہ بن حذیفہ و معمر بن عبد اللہاور ان کے بیٹے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم جیسے لوگ موجود تھے۔

پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے بعد اپنے بیٹے کو منصب خلافت پر فائز نہیں کیا تھا ؛حالانکہ اس کا شمار صحابہ کرام میں ہوتاہے۔اور نہ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹے عبداللہ کو یہ منصب عطا کیا؛ حالانکہ آپ کا شمار فاضل صحابہ کرام میں ہوتا ہے ۔ اور بعض لوگ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کا اہل تصور کرتے تھے؛ اور آپ ایسے تھے بھی۔ اور اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ انھیں خلیفہ مقرر کردیتے تو کسی شخص کو بھی اس پر اعتراض نہ ہوتا۔ تاہم آپ نے اس سے احتراز کیا۔

[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صلہ رحمی]:

بخلاف ازیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اقارب کو عہدہ ہائے جلیلہ تفویض کیے تھے۔ چنانچہ آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا‘ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو یمن کا‘ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں قثم و معبد کو مکہ و مدینہ کا حاکم بنایا۔ اپنے بھانجے جعدہ بن ہبیرہ [ام ہانی بنت ابی طالب کے بیٹے ہیں ]کو خراسان اور اپنے لے پالک اور بیٹے کے بھائی محمد بن ابی بکر کو حاکم مصر مقرر کیا تھا۔ آپ نے اپنے بعد اپنے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت پر اظہار خوشنودی کیا تھا۔[یہ شیعہ کا دعویٰ ہے۔ شیعہ کا مذہب و مسلک ائمہ کے بارے میں اسی پر مبنی ہے۔ بخلاف ازیں مسند احمد(۱؍۱۳۰)،حدیث نمبر:۱۰۷۸، میں بروایت عبد اﷲ بن سبع منقول ہے کہ میں نے سیدنا علی سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ مجھے قتل کیا جائے گا۔ لوگوں نے کہا: ’’پھر ہم پر خلیفہ مقرر فرمائیے۔ فرمایا:’’ نہیں میں تمھیں اسی طرح چھوڑ کر جا رہا ہوں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے۔ اسی طرح مسند احمد (۱؍۱۵۶)،حدیث: ۱۳۳۹، میں تحریر ہے۔ البدایہ والنہایۃ(۵؍۲۵۰۔۲۵۱) پر شقیق بن سلمہ تابعی نیز کتاب مذکور(۷؍۳۲۳) پر ثعلبہ بن یزید رافضی سے اسی طرح مروی ہے۔ نیز ملاحظہ فرمائیے۔ السنن الکبریٰ بیہقی(۸؍۱۴۹)۔]ہم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اہلیت و صلاحیت اور استحقاق ِ خلافت کا انکار نہیں کرتے اورنہ ہی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے استحقاق خلافت کا انکارکرتے ہیں ۔تو پھر کوفہ کی امارت کیا چیز ہے؟ البتہ یہ ضرورکہتے ہیں کہ:زہدیہ بھی تھا کہ عبد اللہ بن عمراور عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہم کی طرح؛ جن پر لوگ متفق بھی تھے؛ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے بھی اسی طرح کا زہد ہوتا۔ اور جس طرح طلحہ بن عبیداللہ اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو عامل مقرر نہیں کیا گیا تھا؛[ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے اقارب کو بھی عہدے تفویض نہ کرتے]۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ دنیا اور اس کی ہرقسم کی لذات سے ہر طرح سے بے نیاز و زاہد تھے۔دلائل و براہین سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما آپ سے بڑھ کر زاہد اور تارک دنیا تھے۔ ان کے مقابلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ مباحات سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ 

[حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زہد]

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دنیا کو تین طلاقیں دے رکھی تھیں ۔ آپ جَو کا دلیا کھاتے؛ اوراسے ختم کیا کرتے تھے تاکہ آپ کے بیٹے اس میں سالن نہ ڈال دیں ۔آپ کھردرا اور چھوٹا لباس پہنا کرتے تھے۔آپ کے کوٹ کو پیوند لگے تھے۔یہاں تک کہ آپ کے بیٹوں کو اس پیوند کی وجہ سے حیاء آتی تھی۔ آپ کی تلوار کی پیٹی اور نعل کھجور کی چھال سے بنے ہوئے تھے۔یہی حال آپ کے نعلین کا بھی تھا۔ خطیب خوارزمی نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرما رہے تھے:

’’ اے علی! اللہ تعالیٰ نے تجھے ایسی زینت سے مزین کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر اپنے نزدیک محبوب زینت سے کسی دوسرے انسان کو مزین نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے تجھے زہد سے نوازا ہے ؛ دنیا کو تمہاری نگاہ میں [بے وقعت اور] مبغوض کر دیاہے۔ آپ کے لیے فقراء کو محبوب بنادیا گیااور تم ان میں سے اپنے متبعین پرراضی ہوگئے۔ اور وہ تجھے اپنا امام ماننے پر رضامندی ظاہر کرتے ہیں ۔اے علی! اس شخص کے لیے بشارت ہو جو تجھ سے محبت رکھے ا ور تیرے بارے میں سچی بات کہے۔ اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو تجھ سے بغض رکھے اور تجھ پر جھوٹ باندھے۔‘‘

سُوَید بن غفلہ کا بیان ہے کہ میں عصر کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کے سامنے کھٹا دودھ پڑا ہے جس میں سے کھٹی بُو آرہی تھی۔ آپ کے ہاتھ میں روٹی تھی جس پر جَو کے چھلکے لگے تھے جو میں آپ کے چہرہ پر دیکھ رہا تھا۔کبھی آپ اسے اپنے ہاتھ سے توڑتے اوراگر ایسا نہ کرسکتے تو اپنے گھٹنے سے توڑتے اورپھر اس دودھ میں ڈال دیتے۔آپ نے فرمایا: ’’آگے آؤ اور ہمارے ساتھ یہ کھانا کھاؤ۔میں نے کہا: میں روزہ سے ہوں ۔توآپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرمارہے تھے : ’’ جس انسان کو روزہ اس کے پسندیدہ کھانے سے روک دے‘ اللہ تعالیٰ اسے جنت سے کھانا کھلائیگا اور پانی پلائے گا۔‘‘

صفحہ 3 از 5