چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر…

چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

آپ کہتے ہیں : میں نے آپ کی ایک لونڈی سے کہا جو کہ وہاں قریب کھڑی تھی؛ اے فضہ ! تمہارے لیے ہلاکت ہو! کیا تم اس شیخ کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتیں ؟ کیا آپ ان کے لیے آٹا چھان نہیں لیتیں ؟ تو اس نے جواب دیا:’’آپ نے ہم سے عہد لیاہے کہ ہم آپ کے لیے آٹا نہ چھانیں ۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے لونڈی سے کیا کہا؟تو میں نے آپ کو وہ بات بتادی ۔ آپ فرمانے لگے : ’’ میرے ماں باپ اس ہستی پر قربان ہوں جس کے لیے کبھی آٹا نہیں چھانا گیا اور نہ ہی کبھی تین دن تک گندم کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا کھایاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلالیا۔‘‘

ایسے ہی آپ نے ایک دن دو موٹی قمیصیں خریدیں ؛اور اپنے غلام قنبر کو ان میں سے ایک قمیص چن لینے کا اختیار دیا۔ اس نے ایک قمیص اٹھالی اور دوسری آپ نے پہن لی۔آپ نے دیکھا کہ اس کے بازو آپ کی انگلیوں سے آگے تک لمبے ہیں تو آپ نے بازو کاٹ کر چھوٹے کردیئے۔‘‘

ضراربن ضمرہ کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے کہا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کیجیے۔ میں نے کہا:

’’ مجھے اس سے معاف رکھیئے۔انہوں نے دوبارہ کہا: آپ کو لازمی ایسا کرنا ہوگا۔

میں نے کہا: اگر ایسا کرنا ضروری ہی ہے توسنو! حضرت علی رضی اللہ عنہ بڑے دور اندیش اورعالی ہمت اور طاقتور تھے۔ آپ فیصلہ کن بات کہتے اور عدل وانصاف کی روشنی میں فیصلہ صادر کرتے تھے۔ آپکے پہلوؤں سے علم پھوٹتااورآپ کی ذات سے حکمت کے چشمے ابلتے تھے۔ دنیا کی سرسبزی و شادابی سے نفرت کرتے۔رات اور اس کی وحشت انھیں عزیز تھی۔ آپ زیادہ روتے اور اکثر سوچ بچار میں مصروف رہا کرتے تھے۔ موٹے جھوٹے لباس کو پسند کرتے اور خشک کھانا کھایا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ اس طرح بے تکلف ہوا کرتے تھے جیسے ہم میں سے کوئی شخص ہو۔جب ہم آپ سے کوئی سوال کرتے تو اس کا جواب دیتے ؛اور جب ہم دعوت دیتے تو اسے قبول کرتے ۔اور اللہ کی قسم ! آپ کے ہمارے قریب ہونے اور ہمیں اپنے قریب کرنے اور آپ کی ہیبت و جلال کے باوجودہم آپ سے بات نہیں کرسکتے تھے۔آپ اہل دین کی تعظیم کرتے اور مسکینوں کو اپنے قریب کرتے۔قوی باطل میں طمع نہ کرسکتا اور کمزور آپ کے ہاں عدل سے مایوس نہ ہوتا۔میں اللہ کو گواہ بنا کرکہتا ہوں کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ فرمارہے تھے :’’ اے دنیا! میرے علاوہ کسی دوسرے کو دھوکہ دینا ۔ کیا تم میرے سامنے پیش ہونا چاہتی ہو یا میرا شوق رکھتی ہو۔ہائے ہلاکت ہو ‘ میں نے تجھے تین بار طلاق بائنہ دیدی ہے۔میں تمہاری طرف رجوع نہیں کرسکتا۔ تیری عمر بہت کم ہے ‘ اور تیرا خطرہ بہت بڑا ہے ؛ اورتیری زندگی بڑی حقیر ہے۔ آہ ! سامان سفر کی کمی اور سفر کی دوری ؛ اور راستے کی وحشت !۔حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر روپڑے اور فرمایا:

’’ اللہ تعالیٰ ابو الحسن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ ایسے ہی تھے۔‘‘

پھر پوچھا ضرار! حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تمھیں کس قدر صدمہ ہوا؟

ضرار نے کہا:’’ اتنا ہی غم جتنا اس شخص کو ہوتا ہے جو اپنی گود میں اپنے بچے کو ذبح کردے نہ تو اس کے آنسو خشک ہوتے ہیں اور نہ غم ہلکا ہوتا ہے۔‘‘(شیعہ مصنف کا بیان ختم ہوا)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زہد و تقویٰ:

[جواب]: بلاشک وشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زہد میں کوئی کلام نہیں ۔ تاہم یہ کہنا کہ آپ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر زاہد تھے؛ شیعہ کے پیش کردہ دلائل میں اس کے ثبوت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ بلکہ رافضی نے زہد علی رضی اللہ عنہ میں جو دلائل پیش کیے ہیں [وہ جھوٹ کا طومار ہیں ]ان میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو اس حق بات پر دلالت کرے جو حضرت میں موجود تھی۔شیعہ کی روایات یاتو جھوٹ کا پلندہ ہیں یا پھر ان میں مدح علی سے متعلق کوئی بات موجود نہیں ۔ 

٭ دنیا کو طلاق دینے والی روایت کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے فرمایا تھا:

’’اے زرد اور گوری چٹی دنیا! میں نے تجھے طلاق دے دی اب جا کر کسی اور کو مبتلائے فریب کر، میں تجھے دوبارہ اپنے گھر میں آباد نہیں کروں گا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ان لوگوں سے زاہد تر ہیں جنھوں نے یہ بات نہیں کہی تھی۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے انبیاء سے بھی یہ الفاظ منقول نہیں ہیں ؛ حالانکہ یہ لوگ بلا ریب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑے زاہد تھے۔اس لیے کہ جب کوئی انسان زہد اختیار کرے تو اس پر واجب نہیں ہوتا کہ وہ اپنی زبان سے بھی کہے کہ : میں نے زہد اختیار کرلیا ہے ۔‘‘اور زہد کے ہر دعویدار کے لیے ضروری بھی نہیں کہ وہ زاہد ہی ہو۔اور نہ ہی اس کلام کا نہ ہونا زہد کے نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اور نہ ہی ان الفاظ کا وجود زہد کے وجود پر دلالت کرتا ہے ۔[ ایسے الفاظ کہنے کی نسبت خاموش رہنا مناسب تر اور دلیل اخلاص ہے]۔اس لیے کہ ان الفاظ میں شیعہ کے دعوی پر کوئی دلیل موجود نہیں ۔

[اشکال]:’’ شیعہ کا یہ قول کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیشہ سالن کے بغیر جَوکی روٹی کھایا کرتے تھے ۔‘‘

[جواب]:’’ اس میں مذکورہ دعوی پر کوئی دلیل بھی نہیں ۔ اس کی دو وجوہ ہیں :

پہلی وجہ:....یہ صاف جھوٹ ہے۔

دوسری وجہ:....اس میں مدح کی کوئی بات نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امام الزہاد تھے، اس کے باوصف آپ کو جو مل جاتا کھا لیا کرتے تھے؛ اور جو چیز موجود نہ ہوتی آپ اس کی تلاش نہیں کیا کرتے تھے۔بلکہ احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے بکرے اور مرغ کا گوشت کھایا۔ آپ شیریں کھانے اور شہد کو پسند فرمایا کرتے تھے،پھل کھایا کرتے تھے۔موجود کھانے کو واپس نہ کرتے، اگر کوئی چیز نہ ملتی تو تکلف نہ کرتے۔[دیکھیے: صحیح بخاری، کتاب الاطعمۃ و کتاب الاشربۃ نیز صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ، وغیرہ۔ ] جب کھانا پیش کیا جاتا تو اگر ضرورت ہوتی کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے،غیر موجود کی طلب میں تکلف نہ فرماتے۔ بعض اوقات بھوک کی شدت سے شکم پر پتھر بھی باندھ لیا کرتے تھے۔ اور بسا اوقات دو دو مہینے گزر جاتے مگر آپ کے گھر میں آگ تک نہ جلتی ۔‘‘

صفحہ 4 از 5