چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر…

چوتھا منہج : احوال حضرت علی رضی اللہ عنہ سے امامت پر استدلال فصل :....آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور حد درجہ عالم و شجاع تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

بخاری و مسلم میں مروی ہے کہ مسجد نبوی میں کچھ لوگ جمع تھے ۔ ان میں سے ایک صحابی کہنے لگے، میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا، دوسرے نے کہا، میں قیام میں مشغول رہوں گا اور آرام نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا میں شادی نہیں کروں گا۔ چوتھے نے کہا میں گوشت کھانا ترک کردوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ باتیں سن کر فرمایا:

’’ میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ۔قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ۔ بیویوں سے نکاح بھی کرتا ہوں اورگوشت بھی کھاتا ہوں جس نے میری سنت سے انحراف کیا اس کا مجھ سے کچھ تعلق نہیں ۔‘‘ [البخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح(حدیث:۵۰۶۳)، صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب استحباب النکاح، (حدیث:۱۴۰۱)۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی کہ تم کہتے ہوکہ میں جب تک زندہ ہوں ہمیشہ رات کو قیام کروں گا ۔اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: کیا مجھے خبر نہیں دی گئی تو رات عبادت کرتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے میں نے کہا جی ہاں ۔یا رسول اللہ!اس سے میں صرف خیر اور بھلائی ہی چاہتا ہوں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :آپ کے لیے مہینے میں صرف تین دن روزہ رکھ لینا ہی کافی ہے۔ تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ !میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ تو(]

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گمان کہاں تک صحیح ہوسکتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے منحرف ہو گئے تھے ؟ اور یہ انحراف آپ کے مناقب میں بھی شمار ہونے لگا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کرنے میں مدح کا کون سا پہلو ہے ؟ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ عراق میں تھے ؛ اس وقت بھی آپ بغیر سالن کے جو کی خشک روٹی ہی کھایا کرتے تھے ؛ گندم کی روٹی یا گوشت نہیں کھایا کرتے تھے۔جب کہ متواتر نقول اس کے خلاف ہیں ۔ پھر کیا دیگر صحابہ کرام میں سے بھی کسی ایک نے ایسے کیا ہے ؟ یا ان میں سے کسی ایک نے ایسا کرنے کو مستحب کہا ہے؟[ بخلاف ازیں روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ کی ذکر کردہ یہ بات غلط ہے]۔

[اشکال] :شیعہ کا یہ قول کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار کی پیٹی اور نعل کھجور کی چھال سے بنے ہوئے تھے۔‘‘

[جواب]: یہ بھی صاف جھوٹ ہے،اور اس میں مدح کا کوئی پہلو بھی نہیں ہے۔ پھر یہ امر بھی قابل غور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک چمڑے کی؛ اور تلوار کا نیام چاندی کا بنا ہوا تھا؛ جس پر سونے کی زرکاری کی گئی تھی۔ جب اللہتعالیٰ نے ان کو خوش حالی و فارغ البالی سے نوازا تھا۔ تلوار کے لیے چمڑے کی پیٹی بنانے میں کیا مضائقہ تھا۔ خصوصاً جب کہ حجاز میں چمڑے کی فراوانی ہے، یہ بات قابل تعریف تب ہوتی اگر چمڑا نایاب ہوتا۔

جیسے حضرت ابوامامہ الباھلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’جب مختلف بلاد و امصار کو اس قوم نے فتح کیا تو ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے گھوڑوں کی باگ ڈور رسیوں سے بنی ہوتی تھی اور جن کی رکابیں پٹھوں سے تیار کی جاتی تھیں ۔‘‘ [آپ نے فرمایا :تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ کیونکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت داد علیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مہینے ایک قرآن مجید ختم کیا کر میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا بیس دنوں میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر میں نے عرض کیا میں تو اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ دس دن میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر میں نے عرض کیا میں تو اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو سات دن میں ایک قرآن مجید پڑھ لیا کر اور اس سے زیادہ اپنے آپ کو مشقت میں مت ڈال ۔ اور ایسے ہی روزہ کے بارے میں کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ [صحیح بخاری:ج3:ح 1087] البخاری، کتاب الجہاد۔ باب ما جاء فی حلیۃ السیوف(حدیث:۲۹۰۹)]

حدیث عمار ایک موضوع روایت ہے ؛ جبکہ سوید بن غفلہ کی روایت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں ہے۔

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کپڑے خریدے ........‘‘ 

[جواب]: یہ حدیث معروف ہے۔ایسے ہی ضرار بن ضمرہ والی روایت بھی نقل کی گئی ہے ۔ ان میں سے کسی ایک روایت میں بھی کوئی ایک ایسی چیز نہیں ہے جس سے آپ کا حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر زاہد ہونا ثابت ہوتا ہو۔بلکہ جو انسان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی منقول سیرت کا جانکاراور آپ کے زہد و عدل ؛ ولایت سے اپنے اقارب کی دوری ؛ اور اپنے بیٹے کا حصہ ان کے ہم مثلوں سے کم رکھنے ؛ اور آپ کے خشک و سوکھی روٹی کھانے کے بارے میں بھی جانتا ہے اسے پتہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی وہ ہستی تھے جنہوں نے قیصر و کسری کے خزانے تقسیم کیے۔ جو کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ تقسیم کرتے تھے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فتوحات کا ایک جزء تھا۔او رحضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو آپ پر اسی ہزار درھم قرض تھا۔یہ معلومات رکھنے والا جانتا ہے کہ کئی وجوہات کی بنا پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑے زاہد تھے ۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی بڑے زاہد تھے۔


صفحہ 5 از 5