Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط و اسباب اور شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار مجاہدین کے اوصاف

  علی محمد الصلابی

غلبہ و تمکین کي شروط: اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے استخلاف فی الارض، اللہ کے دین کے لیے غلبہ و تمکین اور خوف کو امن میں تبدیل کرنے کا وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ مسلمان اس کی شرائط کو پورا کریں۔ قرآن پاک نے ان شرائط کی طرف واضح طور پر اشارہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۞وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰ تُوا الزَّكٰوةَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞ (سورۃ النور آیت 55، 56)

ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔ اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور رسول کی فرمانبرداری کرو، تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

ان آیات کریمہ کے اندر غلبہ و تمکین کی شروط کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ شرائط یہ ہیں:

ایمان اپنے تمام ارکان و معانی کے ساتھ۔

اعمال صالحہ کی بجا آوری تمام انواع و اقسام کے ساتھ۔

نیکی اور بھلائی کی تمام قسموں کی بجا آوری کا شوق و اہتمام۔

اللہ کی کامل عبودیت کو قائم رکھنا۔

شرک کی جملہ اشکال و انواع کے خلاف جنگ۔

اور اس غلبہ و تمکین کے لوازم و تقاضے یہ ہیں:

اقامت صلوٰۃ۔

زکوٰۃ کی ادائیگی۔

رسول اللہﷺ کی اطاعت۔

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم للصلابی: صفحہ 157)

یہ تمام شروط و لوازم عہد صدیقی اور خلفائے راشدینؓ کے دور میں مکمل موجود تھے۔

اور اللہ کے بعد، امت کو ان شرائط کی تذکیر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ اسی لیے منع زکوٰۃ کو قبول نہ کیا، لشکر اسامہ کی تنفیذ پر مصر رہے، مکمل شریعت کا التزام کیا، کسی چھوٹی یا بڑی چیز سے تنازل اختیار نہ کیا چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ کے بعد ہم ایسے مقام کو پہنچ چکے تھے کہ قریب تھا کہ ہم ہلاک ہو جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے ہم پر احسان کیا، ہم تو یہ اتفاق کر چکے تھے کہ ہم بنت مخاض (سال بھر کی اونٹنی) اور بنت لبون (دو سال کی اونٹنی) کے لیے قتال نہ کریں گے، عربی کھانا کھائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی عبادت کریں گے پھر اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر قتال کا عزم پیدا فرمایا تو واللہ وہ ان سے راضی نہ ہوئے، اِلا یہ کہ وہ خطہ مخزیہ (رسوا کن منصوبے) کو قبول کریں یا حرب مُجلیہ (کھلی جنگ) کے لیے تیار ہو جائیں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 21)

غلبہ و تمکین کے اسباب کو اختیار کرنا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاَعِدُّوْ لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ‌  لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ‌ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ‌ وَمَا تُـنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 60)

ترجمہ: اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

آپؓ نے دیکھا سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے معنوی و مادی ہر اعتبار سے مکمل تیاری کی، افواج کو تیار کیا، فوجی دستوں کے پرچم متعین کیے، حروب ارتداد کے قائدین کو متعین کیا اور مرتدین سے خط کتابت کی، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قتال پر برانگیختہ کیا، اسلحہ، گھوڑے اور اونٹ جمع کیے، غازیوں کو تیار کیا، بدعت، جہالت اور خواہش نفسانی کے خلاف جنگ کی، شریعت کو نافذ کیا، وحدت، اتفاق اور اتحاد کے اصول کو اختیار کیا، ادائیگی ذمہ داری کے لیے فراغت کے اصول کو اپنایا اور تخصص کے اصول کو زندہ کیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو فوج کی قیادت کے لیے، سیدنا زید بن ثابتؓ کو جمع قرآن کے لیے، ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو جنگی خط کتابت کے لیے منتخب کیا، امن و ابلاغ اور دیگر اسباب کا بھی اہتمام فرمایا۔

شریعت کے نفاذ کے آثار: عہد صدیقی میں شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے غلبہ و تمکین کی شکل میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اللہ کے شعائر کو اپنے اور اپنے بال بچوں پر نافذ کرنے کا اہتمام کیا اور شریعت الہٰی کے نفاذ میں مخلص رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوت بخشی اور مرتدین کے خلاف ان کی مدد فرمائی اور انہیں امن و استقرار عطا فرمایا۔ ارشاد الہٰی ہے:

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ اُولٰۤئِكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ۞ (سورۃ الانعام آیت 82)

ترجمہ: (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کا شائبہ بھی آنے نہیں دیا امن اور چین تو بس انہی کا حق ہے، اور وہی ہیں جو صحیح راستے پر پہنچ چکے ہیں۔ 

دین کی نصرت و تائید کرنے والوں کے لیے نصرت و تائید الہٰی کی سنت ان کے حق میں ثابت ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت لی ہے کہ جو اس کی شریعت پر استقامت اختیار کریں گے اللہ تعالیٰ اپنی قوت و غلبہ سے دشمنوں پر انہیں فتح و نصرت عطا فرمائے گا۔ ارشاد الہٰی ہے:

وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞ اَ لَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ۞  (سورۃ الحج  آیت 40، 41)

ترجمہ: اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔

بشریت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت پر استقامت اختیار کی ہو اور اس کو اللہ نے قوت و غلبہ اور سیادت عطا نہ کی ہو۔

(فی ظلال القرآن: جلد 4 صفحہ 270)

عہد صدیقی میں فضائل کا دور دورہ اور رزائل کا خاتمہ ہوا۔

غلبہ و تمکین سے ہمکنار لوگوں کے اوصاف

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌  ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ المائدة آیت 54)

ترجمہ: اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔

اس آیت کریمہ میں یہ مذکورہ صفات سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے لشکر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر صادق آتی ہیں جنہوں نے مرتدین سے قتال کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کامل ترین صفات اور اعلیٰ ترین نیکی کے جذبات سے متصف قرار دے کر ان کی مدح کی۔

(عقیدۃ اہلِ السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد 2 صفحہ 534)

وہ صفات یہ ہیں:

1: یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ

ترجمہ: وہ اللہ کے محبوب اور اللہ ان کا محبوب۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف منسوب محبت کے سلسلہ میں سلف کا مذہب یہ ہے کہ یہ بغیر کسی تاویل اور تعیین کیفیت کے اللہ کے لیے ثابت ہے اور خالق و مخلوق کے درمیان اس کے خصائص میں کوئی مشارکت نہیں ہے۔

(تفسیر القاسمی: جلد 6 صفحہ 253)

اللہ عزوجل نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کی کیونکہ انہوں نے اس کے دین کی خاطر قربانیاں پیش کیں اور جس چیز کو اللہ نے ان پر فرض نہیں کیا اسے اللہ کا تقرب جانتے ہوئے نبیﷺ کی محبت میں نفلی طور سے انجام دیا اور مندوبات و مستحبات کی ادائیگی کا فرض کی طرح اہتمام کیا۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: محمد قطب: صفحہ 90)

یہ لوگ صبر، تقویٰ اور احسان جیسے اخلاق فاضلہ سے متصف رہے جن سے اپنی محبت کا اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 134)

ترجمہ: جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

اور ارشاد ربانی ہے

بَلٰى مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 76)

ترجمہ: بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اللہ تعالیٰ سے عظیم محبت کی، اللہ کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھا، اور اللہ نے جس چیز کو ناپسند کیا اس کو ناپسند رکھا، اللہ کے دوستوں سے دوستی کی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھی، اللہ کے رسول کی اتباع کی، ان کے نقش قدم پر چلے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے رب، خالق اور رازق سے محبت کی کیونکہ محسن کی محبت فطری چیز ہے اور اللہ کے احسان سے بڑھ کر کس کا احسان ہو سکتا ہے؟ جس نے پیدا کیا اور صحیح اندازہ مقرر کیا، آسان شریعت عطا فرمائی اور انسان کو اچھی شکل و ہیئت عطا کی، اطاعت شعاروں سے دائمی جنت کا وعدہ فرمایا، جس میں انواع و اقسام کی نعمتیں پیدا کیں، جنہیں کبھی کسی آنکھ نے نہ دیکھا، کسی کان نے نہ سنا اور کسی انسان کے دل و دماغ کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی۔ اس کی اور اس طرح کے بے شمار احسانات کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے رب سے بے مثال محبت کی۔ چنانچہ بلا کسی تردد کے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اہل و عیال کو قربان کر دیا اور اس کے اسباب آسان کر دیے، جس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس کو اچھی طرح ادا کیا۔

(الایمان واثرہ فی الحیاۃ: القرضاوی صفحہ 1205)

2: اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ۔ (سورۃ المائدہ آیت 54)

ترجمہ: مومنوں کے مقابلہ میں نرم اور کافروں کے مقابلہ میں سخت۔

یہ کامل ایمان والے کی صفت ہے کہ مومن اپنے بھائی اور دوست کے لیے انتہائی متواضع اور نرم اور کافر دشمن کے لیے سخت ہوتا ہے۔

(تفسیر القاسمی: جلد 6 صفحہ 255)

 اسی لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپؓ کی فوج مسلمانوں کی مدد و نصرت میں لگ گئے اور آپؓ بذات خود مرتدین سے قتال کے لیے نکل پڑے اور گیارہ فوجی دستے اہل ایمان سے ظلم کو ہٹانے اور مرتدین کی قوت کو توڑنے کے لیے روانہ کیے۔ وہ مرتدین جنہوں نے کمزور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی تھی ان کا کوئی عذر قبول نہ کیا اِلا یہ کہ ان سے مسلمانوں کو بدلہ دلایا اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا اور اسلامی فوج کے دیگر قائدین نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت ابوبکرؓ معاشرہ میں رعایا کے حقوق و احوال کی رعایت کا پورا اہتمام کرتے، لونڈیوں، خواتین اور بوڑھی عورتوں اور بڑی عمر والوں کے ساتھ تعامل کی کیفیت ہمارے سامنے آ چکی ہے۔ عہد صدیقی میں یہ صفات عام ہوئیں اور لوگوں کی زندگیوں میں رچ بس گئیں۔

3: يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌

ترجمہ: اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔

اللہ کے دشمن سے جہاد کی صفت، عصر صدیقی میں مرتدین سے جنگ اور ان کی قوت توڑنے کی شکل میں اور بعد میں ہونے والی اسلامی فتوحات کی شکل میں نمایاں ہوئی، جس کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ آئے گی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دشمنان اسلام سے اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے، اللہ واحد کی عبادت کو ثابت کرنے اور اللہ کے حکم اور اسلام کے نظام کو زمین میں قائم کرنے کے لیے جہاد کیا۔ اسلامی قیادت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں جزیرہ عرب کو سارے عالم کی فتح کا مرکز بنانے میں کامیاب ہوئی اور جزیرہ عرب منبع صافی قرار پایا جہاں سے اسلام پوری روئے زمین میں ان نفوس کے واسطہ سے پھیلا جن کو زندگی نے تجربہ کار بنا دیا، تعلیم و تربیت، جہاد اور انسانیت کی سعادت مندی کے لیے نفاذ شریعت جیسے مختلف میدان میں متعدد تجربات کے مالک قرار پائے۔

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ 491)

حروب ارتداد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو جہاد کیا وہ منجانب اللہ اسلامی فتوحات کا پیش خیمہ تھا۔ اس جہاد میں اسلامی پرچم نمایاں ہوئے، قدرتیں ظاہر ہوئیں، طاقتیں اجاگر ہوئیں، میدانی قیادتوں کا انکشاف ہوا اور قائدین نے مختلف انواع و اقسام کے جنگی اسلوب اور منصوبے وضع کیے، سچی، مطیع اور سلیقہ مند فوجی صلاحیتیں نمایاں ہوئیں، انہیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ کس لیے قتال کرتے ہیں؟ کس کے لیے یہ ساری قربانیاں پیش کر رہے ہیں؟ اس لیے ان کا عمل نمایاں اور قربانی و فدائیت عظیم رہی۔

(تاریخ صدر الاسلام للشجاع: صفحہ 142، 143)

اللہ کے فضل و کرم اور پھر سیدنا ابوبکرؓ کی معیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جہاد سے تاریخ میں پہلی مرتبہ جزیرہ عرب اسلام کے پرچم تلے متحد ہو گیا۔ اسلامی دارالخلافہ مدینہ نے اپنا نفوذ پورے جزیرہ عرب پر پھیلا دیا اور پوری امت ایک سربراہ کے پیچھے ایک مبدأ اور ایک فکر کے تحت چلنے لگی۔ یہ فتح و کامیابی اسلامی دعوت کی کامیابی تھی اور اسی طرح اختلاف اور عصبیت کے عوامل و اسباب پر غلبہ حاصل کرکے اسلامی وحدت کی کامیابی تھی اور اسی طرح یہ واضح برہان تھی کہ اسلامی حکومت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سخت ترین مشکلات پر غلبہ حاصل کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ: دیکھیے جمیل المصری: صفحہ 256)

اس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کی راہ میں جہاد کرتے، کسی کی ملامت، تنقید اور اعتراض کا خوف نہ کھاتے کیونکہ وہ دین میں مضبوط تھے اور حق کو ثابت کرنے اور باطل کو پامال کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

(تفسیر المنیر: جلد 6 صفحہ 233)

4: ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ۞ (سورۃ الجمعة آیت 4)

ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔

 وہ اللہ کے محبوب، اللہ ان کا محبوب، مومنوں کے مقابلہ میں نرم اور کافروں کے مقابلہ میں سخت، اللہ کی راہ میں جہاد، ملامت گروں کی ملامت کی پروا نہ کرنا وغیرہ مذکورہ صفات یہ اللہ رب العالمین کا فضل و کرم ہیں جن کے ذریعہ سے اپنے اولیاء کو بزرگی عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مزید فضل و کرم سے نوازتا ہے کیونکہ اللہ کے فضل و کرم بے پایاں ہیں۔

(تفسیر القاسمی: جلد 1 صفحہ 258)

اللہ کا فضل بڑا وسیع ہے۔ کون اس کے مستحق ہیں اور کون اس کے مستحق نہیں ان کو خوب جانتا ہے۔

(تفسیر المنیر: جلد 6 صفحہ 233)