Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دور صدیقی میں اسلامی معاشرہ کے اوصاف

  علی محمد الصلابی

جب ہم خلافت راشدہ کے ابتدائی دور میں اسلامی معاشرہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے مختلف خصائص آتے ہیں:

1: یہ بالعموم ایک مسلم معاشرہ تھا، اسلام کے کامل معنیٰ کے ساتھ۔ اللہ اور آخرت پر گہرا ایمان تھا۔ اسلامی تعلیمات کو واضح متانت و سنجیدگی اور لزوم کے ساتھ نافذ کیے ہوئے تھا۔ تاریخ کے اندر مختلف معاشرہ میں واقع ہونے والے گناہوں کے مقابلہ میں اس معاشرہ میں گناہوں کی تعداد بہت ہی کم تھی۔ دین ہی اس کی زندگی تھا۔ معمولی چیز نہ تھی کہ اس سے بسا اوقات استفادہ کر لیا جائے، بلکہ اس کی حیثیت حیات و روح کی تھی۔ صرف تعبدی شعائر کی حد تک نہیں کہ جس کی ادائیگی کا صحیح طریقہ سے اہتمام کیا جائے بلکہ ان کی اخلاقیات، تصورات، اہتمامات، قیم، معاشرتی روابط، خاندانی اور پڑوسی تعلقات، خرید و فروخت، طلب رزق، امانت، تعامل، غیر مستطیع کی کفالت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، حکام و والیان کے اعمال کی نگرانی وغیرہ جیسے امور میں اس کا اہتمام اور نفاذ پایا جاتا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاشرہ کا ہر فرد اس صفت سے متصف تھا کیونکہ دنیا کی زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا، حتیٰ کہ نبی کریمﷺ کے معاشرہ میں بھی جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے منافقین موجود تھے، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے اور باطن میں دشمن تھے، ضعیف الایمان، ناکارہ، سست اور خائن بھی موجود تھے لیکن معاشرہ میں ان کا کوئی وزن نہ تھا اور نہ ان کے اندر معاشرہ کے دھارے کو پھیرنے کی طاقت تھی اور دور دورہ ان لوگوں کا تھا جو سچے مومن، اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والے اور دین حق کی تعلیمات کا التزام کرنے والے تھے۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 101)

2: یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جس میں امت کے حقیقی معنیٰ بدرجہ اتم موجود تھے۔ امت مجرد انسانوں کا ایک مجموعہ نہیں جنہیں زبان، زمین اور مصالح نے اکٹھا کر دیا ہو۔ یہ تو جاہلیت کے روابط ہیں۔ ان کی اساس پر اگر کوئی امت وجود پذیر ہوتی ہے تو وہ جاہلی امت ہے۔ ربانی معنیٰ میں امت وہ ہے جو عقیدہ کی اساس پر وجود پذیر ہو، زبان، رنگ، قومیت اور زمینی مصالح رابطہ کی اساس قرار نہ پائیں۔ تاریخ کے اندر امت اسلامیہ میں عقیدہ کا رابطہ جس قدر اجاگر ہوا کہیں اور نہیں ہوا۔ امت اسلامیہ ہی نے ایک طویل عرصہ تک امت کے صحیح معنیٰ ثابت کیے۔ یہ امت زمین، قومیت، رنگ اور زمینی مصالح پر قائم نہیں ہوتی بلکہ عقیدہ کی اساس پر قائم ہوتی ہے جو عقیدہ عربی، حبشی، رومی اور فارسی کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے اور فاتحین اور مفتوحین کے مابین کامل دینی اخوت کی اساس پر تعلقات استوار کرتا ہے۔ اگر اس امت نے ایک طویل عرصہ تک امت کے یہ معنیٰ ثابت کر کے دکھائے ہیں تو اسلام کا ابتدائی دور انتہائی بہترین دور ہے، جس میں اسلام کے تمام معانی پائے گئے جس میں امت کا مفہوم بھی شامل ہے، اس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 101)

3: یہ ایک اخلاقی معاشرہ تھا جو دین کے اوامر و توجیہات سے مستفاد واضح اخلاقی اصول پر قائم تھا اور یہ اصول صرف مرد و خواتین کے تعلقات کو شامل نہیں اگرچہ یہ اس معاشرہ کی واضح ترین خصوصیت تھی بلکہ یہ معاشرہ عریانیت، اختلاط اور حیا سوز قول و فعل اور اشارہ نیز زنا سے خالی تھا۔ اِلا یہ کہ شاذ و نادر، جس سے کوئی بھی معاشرہ مطلقاً بچ نہیں سکتا۔ لیکن اخلاقی اصول مرد و خواتین کے تعلقات سے کہیں زیادہ وسیع تر تھے۔ یہ اصول سیاست، اقتصاد، اجتماع، فکر اور تعبیر کو بھی شامل تھے۔ حکومت و سلطنت، اسلامی اخلاقیات پر قائم تھی، اقتصادی تعلقات، خرید و فروخت، تبادل اور استغلال مال بھی اسلامی اخلاقیات پر قائم تھے۔ غمز و لمز، عیب جوئی، چغل خوری، قذف اور بہتان طرازی کا گزر نہیں تھا۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 102)

4: یہ ایک سنجیدہ معاشرہ تھا۔ اہم ترین امور میں مشغول تھا۔ ردی اور ناکارہ امور میں نہیں الجھتا تھا۔ لیکن متانت و سنجیدگی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ترش روئی اور سختی اختیار کی جائے بلکہ یہ ایک ایسی روح ہے جو لوگوں کے اندر ہمت کو بیدار کرتی ہے اور نشاط و عمل اور حرکت پر ابھارتی ہے۔ اسی طرح لوگوں کی دلچسپیاں ظاہری امور کی دلچسپیوں سے بالاتر تھیں۔ اس معاشرہ میں ان بیکار اور سست معاشروں کے اوصاف نہیں تھے جو گھروں اور گلی کوچوں میں حیرانی و پریشانی کا شکار رہتے ہیں اور شدید بیکاری کی وجہ سے وقت گزاری کے وسائل تلاش کرتے ہیں۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 102)

5: یہ معاشرہ ہمہ وقت عمل کے لیے تیار تھا۔ ہر جانب آپ فوجی روح واضح طور سے محسوس کریں گے، صرف میدان قتال میں نہیں۔ اگرچہ قتال فی سبیل اللہ نے اس معاشرہ کی ذندگی کا بڑا حصہ لے رکھا تھا لیکن تمام شعبوں میں یہ روح کار فرما تھی۔ ہر ایک ہمہ وقت عمل کے لیے تیار رہتا تھا، جب بھی اس سے مطالبہ ہو ڈٹ جائے۔ اس لیے عسکری یا مدنی تربیت دینے اور تیار کرنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ وہ خود بخود تیار تھے۔ عقیدہ کی جو خوراک ان کو دی گئی تھی اس کا یہ اثر تھا کہ ان کے اندر ہر میدان میں نشاط پیدا ہو چکا تھا۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 102)

6: یہ ایک عبادت گزار معاشرہ تھا۔ روح عبادت ان کے جملہ تصرفات میں نمایاں تھی۔ صرف رضائے الہٰی کے لیے فرائض و نوافل کی ادائیگی میں نہیں بلکہ تمام اعمال کی ادائیگی میں عمل کو وہ عبادت سمجھتے تھے۔ اس کو روح عبادت کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ حاکم اپنی رعیت پر روح عبادت کے ساتھ حکمرانی کرتا اور معلم روح عبادت کے ساتھ لوگوں کو قرآن پڑھاتا اور دین کی تعلیم دیتا اور تاجر روح عبادت کے ساتھ بیع و شراء میں اللہ کا خیال رکھتا، شوہر اپنے گھریلو امور کو روح عبادت کے ساتھ ادا کرتا، بیوی گھر کے کام کاج روح عبادت کے ساتھ ادا کرتی۔ رسول اللہﷺ کی یہ تعلیم کار فرما تھی:

کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ

ترجمہ: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 103)

دور صدیقی کے یہ اہم خصائص ہیں جو خلافت راشدہ کا آغاز تھا، ان خصائص نے اسے بلند ترین مسلم معاشرہ قرار دیا اسی وجہ سے یہ دور اسلامی تاریخ میں مثالی دور قرار پایا یہ اسلام کی تیز رفتار نشر و اشاعت میں ممد و معاون ثابت ہوا۔ فتوحات کی تحریک پوری تاریخ میں تیز ترین تحریک ثابت ہوئی اور پچاس سال سے کم مدت میں مغرب میں بحر اوقیانوس سے لے کر مشرق میں ہندوستان تک پھیل گئی۔ یہ ایسی ظاہر حقیقت ہے جو ریکارڈ میں لانے اور نمایاں کرنے کی مستحق ہے اور اسی طرح مفتوحہ علاقوں کے لوگوں کا بغیر کسی زور زبردستی کے اسلام میں داخل ہونا اس کی اہم ترین خصوصیت تھی۔ مذکورہ خصائص اس اسلامی معاشرہ کا حقیقی سرمایہ تھے۔ جب لوگوں نے اسلام کو اس عجیب صورت میں نافذ العمل پایا تو ان کے اندر اسلام کی محبت پیدا ہوئی اور انہوں نے خود بخود یہ پسند کیا کہ وہ اس دین کو اختیار کر کے مسلمان ہو جائیں۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: صفحہ 103)