فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اَعْلَمُ النَّاس تھے

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں :اہل سنت والجماعت اس بات کو تسلیم نہیں کرتے ۔اہل سنت والجماعت کے علماء کرام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ’’ اعلم الناس حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما تھے۔‘‘ 

کئی علماء کرام نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے بڑے عالم تھے۔اس مسئلہ میں اپنی جگہ پر بڑے وسیع اور مضبوط دلائل ہیں ۔اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی شخص فیصلہ صادر کرتا نہ فتویٰ دیتا اور نہ وعظ کہہ سکتا تھا۔جب بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کسی دینی معاملہ میں شبہ ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس شبہ کا ازالہ کیا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات لوگوں پر مشتبہ ہو گئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا یہ شبہ دور کیا تھا۔ پھر انھیں آپ کی تدفین میں شبہ لاحق ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا ازالہ کیا۔ پھر مانعین زکوٰۃ سے نبرد آزما ہونے کے بارے میں تنازع بپا ہوا توآپ نے نص کی روشنی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر اس کی حقیقت واضح کی۔پھر [عمرہ کے لیے مسجد الحرام داخلے کے بارے میں شبہ ہوا؛ کیونکہ ] اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ اٰمِنِیْنَ﴾(الفتح:۲۷)

’’اگر اللہ نے چاہا تو تم خانہ کعبہ میں کامل امن و امان سے داخل ہو گے۔‘‘[توسیّدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس شبہ کو رفع کیا ]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی تشریح کی تھی کہ:’’ اللہتعالیٰ نے اپنے بندے کواختیار دیا تھا کہ دنیا و آخرت میں سے جسے چاہو پسند کرلے۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم باب قول النبی رضی اللّٰہ عنہم ، سدوا الابواب الا باب ابی بکر(ح:۳۶۵۴)، مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۲)]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو بتایا کہ کلالہ کسے کہتے ہیں ؛ پھراس بارے میں کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا۔[مصنف عبد الرزاق،(۱۹۱۹۰)، سنن الدارمی(۳؍۳۶۵۔۳۶۶)، سنن کبرٰی بیہقی(۶؍۲۲۴) ]

حضرت علی رضی اللہ عنہ اوردوسرے صحابہ نے بھی آپ سے [روایت حدیث میں ]استفادہ کیا تھا۔ جیسا کہ سنن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ’’جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا فائدہ اللہتعالیٰ چاہتے مجھے پہنچاتے؛اور جب کوئی اور دوسرا شخص مجھے حدیث سناتا تو میں اس سے حلف لیتا ؛جب وہ حلف اٹھاتا تو میں اس کی تصدیق کرتا ؛ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث سنائی اور انھوں نے سچ کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جو شخص بھی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور پھر وضوء کرکے دو رکعت نماز ادا کرتا اور اللہ سے اپنے گناہ کی مغفرت طلب کرتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔‘‘ [سنن ابی داؤد۔ کتاب الوتر۔ باب فی الاستغفار (ح:۱۵۲۱)، سنن ترمذی کتاب الصلاۃ، ۔ باب ما جاء فی الصلاۃ عند التوبۃ(ح:۴۰۶)، سنن ابن ماجۃ۔ کتاب اقامۃ الصلوات،باب ما جاء فی صلاۃ کفارۃ(ح:۱۳۹۵)۔]

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کوئی ایک فتوی بھی ایسا منقول نہیں جو نص کے خلاف ہو۔جبکہ حضرت عمر‘حضرت علی کے علاوہ دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسے فتاوی منقول ہیں جو نصوص کے خلاف ہیں ۔حتی کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے حضرت علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف پر ایک مجلد کتاب لکھی ہے۔ اور امام محمد بن نصر المروزی نے ان اختلافات پر ایک بڑی کتاب لکھی ہے۔صحابہ کرام کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کیساتھ دادا کی میراث میں اختلاف ہوا ہے ‘ مگر حق بات وہی ہے جو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمائی ہے۔ہم نے یہ مسئلہ ایک مستقل کتاب میں بیان کردیاہے۔اس میں ہم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول کے صحیح ہونے کی دس وجوہات بیان کی ہیں ۔ جب کہ جمہور صحابہ میں سے دس سے زائد حضرات اس مسئلہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہیں ۔ جن لوگوں سے اختلاف نقل کیا گیا ہے ‘ ان میں حضرت زیداورابن مسعود رضی اللہ عنہما شامل ہیں اور ان کے اقوال بھی اضطراب کا شکار ہیں ۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ حق بات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔

[فضائل شیخین]:

بہت سے علماء نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑے عالم تھے۔ ان اجماع نقل کرنے والوں میں شافعیہ کے ایک بڑے امام منصور بن عبد الجبار سمعانی مروزی کا نام بھی شامل ہے۔آپ اپنی کتاب ’’ تقویم الادلہ‘‘ میں کہتے ہیں :’’ علماء اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑے عالم تھے۔‘‘ اور ایسے ہوتا بھی کیوں نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود گی میں فتوی دیتے ؛ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے؛ برائی سے منع کرتے ؛ خطبہ ارشاد فرمایا کرتے ۔ آپ ایسا اس وقت کیا کرتے جب آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے نکلتے۔ اور جب آپ نے ہجرت کی۔او رحنین کے موقعہ پر اور دیگر مغازی میں بھی ایسا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اورآپ کے فرمودات کو برقرار رکھا۔یہ مرتبہ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوا۔ 

صفحہ 1 از 5