فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہل فقہ و رائے سے مشورہ کرتے وقت شوری میں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دوسروں پر مقدم رکھا کرتے تھے۔یہی وہ دو شخصیات تھیں جو علمی مسائل میں گفتگو کیا کرتے تھے؛اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو باقی تمام صحابہ پر مقدم کیا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر بدر کے جنگی قیدیوں کے متعلق اوردیگر امور میں مشورہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے حق میں فرمایا:

’’ جب تم دونوں کسی بات پر متفق ہو جاؤگے تو میں تمہاری مخالفت نہیں کیا کروں گا۔‘‘[مسند احمد(۴؍۲۲۷) ]

سنن میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میرے بعد حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرو۔‘‘ [سنن ترمذی ، کتاب المناقب باب (۱۶؍۳۵) (حدیث:۳۶۶۲)، سنن ابن ماجۃ۔ المقدمۃ۔ باب فضل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (حدیث:۹۷)۔]

یہ مقام ان دوحضرات کے علاوہ کسی کو نہ مل سکا۔بلکہ آپ نے فرمایا:

’’ تم پر میری سنت اور میرے بعد میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے ۔‘‘[تخریج گزرچکی ہے]۔

اس میں خلفاء اربعہ کی اتباع کا حکم دیاگیا ہے ‘اور ان میں سے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو اقتداء کے ساتھ بطور خاص ذکر کیاہے۔مسلمانوں کے لیے اقوال و افعال کی سنت میں متقدٰی کا مرتبہ متبع کے مرتبہ سے اوپر ہوتا ہے۔

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ دوران سفر بہت سے مسلمان تھے....۔ایک لمبی حدیث ہے ؛ جس میں آپ نے فرمایا۔ ’’اگر لوگ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی اطاعت کریں تو راہ راست پر قائم رہیں گے۔‘‘[مسلم ۱؍۴۷۲] 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ وہ کتاب اللہ سے فتوی دیا کرتے؛جب وہاں کوئی بات نہ ملتی تو سنت میں حل تلاش کرتے ؛اگر وہاں بھی کوئی نص نہ پاتے تو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے۔یہ معاملہ حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ نہیں کیا کرتے تھے۔ ابن عباس حبر امت تھے ؛اور اپنے زمانہ کے صحابہ میں سب سے بڑے عالم تھے ۔ آپ ترجیحاًحضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے۔یہ بھی ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حق میں یہ دعا فرمائی تھی:

’’ اے اللہ ! اسے دین کا فہم عطا کر اورقرآن کی تفسیر سکھا دے۔‘‘ [صحیح مسلم ، کتاب المساجد۔ باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ(ح:۶۸۱)، مطولاً۔]

حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کو باقی تمام صحابہ میں خصوصیت حاصل تھی۔ان میں بھی زیادہ خصوصیت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ اس لیے کہ آپ عام طور پر رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر علوم دین اور مصالح مسلمین کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ ابوبکر ابن ابی شیبہ نے روایت کیاہے ؛ آپ فرماتے ہیں : ہم سے ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ؛ ان سے اعمش نے اور ان سے ابراہیم نے ؛ان سے حضر ت علقمہ رضی اللہ عنہ نے۔آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ:’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مختلف امور کے سلسلہ میں بات چیت کیا کرتے تھے، میں بھی ان کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔‘‘

صحیحین میں حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اصحاب صفہ غریب لوگ تھے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بارفرما یا:

’’ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے کو ان میں سے لے جائے ۔اور اگر چار کا ہو تو پانچواں اورچھٹا ان میں سے لے جائے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی لے گئے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمی لے گئے۔‘‘

حضرت عبدالرحمن کہتے ہیں :’’ ....ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کھانا کھایا اور وہیں عشاء کی نماز ادا کی اس کے بعد بھی اتنی دیر ٹھہرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ لگ گئی۔اس کے بعد اپنے گھر میں آئے ان سے ان کی بی بی نے کہا کہ تمہیں تمہارے مہمانوں سے کس نے روک لیا؟ یا یہ کہ تمہارے مہمان انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ بولے: کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا :آپ کے آنے تک ان لوگوں نے کھانے سے انکار کیا؛ کھانا ان کے سامنے پیش کیا گیا تھا مگر انہوں نے نہ مانا....۔‘‘ [صحیح بخاری:حدیث نمبر۵۷۵]

ایک روایت میں آپ فرماتے ہیں : ’’ میرے والد رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے۔ اور ایک موقع پر آپ نے فرمایا: ’’ہجرت کے موقع پر میرے اباجی کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور کوئی نہ تھا۔‘‘اور جنگ بدر میں سائبان کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔‘‘

[نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ] فرمایا:

’’میں سب لوگوں سے زیادہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال او ررفاقت کاممنون ہوں ۔اگر میں کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودّت کسی شخص کے ساتھ مختص نہیں ۔‘‘ [بخاری (ح:۳۶۵۴)مسلم، (ح:۲۳۸۲)]

یہ سب سے صحیح ترین اور مشہور حدیث ہے جسے کئی صحیح اسناد سے صحاح ستہ میں روایت کیا گیا ہے ۔

صحیحین میں حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :

’’میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، اسی دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑے ہوئے اور اپنے دونوں زانوں ننگے کیے ہوئے آئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تمہارا ساتھی کسی سے جھگڑ پڑا ہے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سلام کے بعد عرض کیا: میرے اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تنازع تھا۔ میں نے جلد بازی سے کام لیا، پھر مجھے ندامت کا احساس ہوا تو میں نے کہا:’’ معاف کردیجیے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے، میں اس مقصد سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ۔ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے ابوبکر! اللہ تمھیں معاف فرمائے۔‘‘

صفحہ 2 از 5