فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

پھرحضرت عمر رضی اللہ عنہ نادم ہوئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کو آئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہ پاکر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈر کردوبار کہا:اے اللہ کے رسول! مجھ سے زیادتی سرزد ہو ئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اللہتعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا تھا۔ تم نے مجھے جھٹلایا، مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری تصدیق کی اور اپنی جان و مال سے میری ہمدردی کی۔ اب کیا تم میرے رفیق کو میرے لیے رہنے دو گے یا نہیں ؟ ‘‘ آپ نے دو مرتبہ یہ الفاظ دہرائے۔ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کسی نے رنج نہ پہنچایا۔‘‘ [البخاری،(ح:۳۶۶۱)]

امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ آپ خیر کے کام میں سبقت لے گئے تھے۔‘‘

اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ابوسفیان نے احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؛ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سوال کیا تھا؛ اس کے لیے وہ خود اور دیگر تمام لوگ جانتے تھے کہ یہی لوگ اسلام کے اصل سردار ہیں ؛ اور اسلام ان لوگوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک رحمہ اللہ سے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے منصب و مقام کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا:’’ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو جو درجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں حاصل تھا، وہ آپ کی وفات کے بعد بھی اسی مرتبہ پر فائز ہیں ۔‘‘ یہ سن کر ہارون نے دوبار کہا:’’ اے مالک! آپ نے مجھے تشفی بخش جواب دے دیا۔‘‘

صحبت میں کثرت کے ساتھ اختصاص ؛ کمال مودت و الفت و محبت ؛علم اوردین میں مشارکت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ دوسروں لوگوں سے بڑھ کر اس معاملہ کے حق دار تھے۔ جوکوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال سے واقف ہے ؛ اس کے لیے یہ بات کھلی ہوئی اور واضح ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ علم و فقہ کے حصول میں اس طرح سے قائم تھے کہ دوسرے لوگ اس سے عاجز آگئے تھے ؛ آپ باقی لوگوں کے لیے مسائل کی وضاحت کرتے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسا قول منقول نہیں جو خلاف نص ہو۔یہ بات علم میں آپ کے تبحر ومہارت کی نشانی ہے[اس سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی علمی فوقیت کا اظہار ہوتا ہے]۔جب کہ باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کئی اقوال نصوص کے خلاف منقول ہیں اس لیے کہ ان لوگوں تک یہ نصوص[ شرعی دلائل ] نہ پہنچ پائی تھیں ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نصوص[ شرعی دلائل ]سے موافقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موافقات سے زیادہ ہیں ۔یہ بات ہر وہ انسان جانتا ہے جسے علمی مسائل؛ ان میں علماء کے اقوال اور شرعی ادلہ اور ان کے مراتب کی معرفت ہو۔اس کی مثال بیوہ کی عدت کو لیجیے ۔اس مسئلہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہی نص کے موافق ہے کسی دوسرے کا نہیں ۔ایسے ہی حرام کا مسئلہ بھی ہے ۔ اس مسئلہ میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی نسبت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اوردوسرے صحابہ کرام کا قول نصوص[ شرعی دلائل ]کے زیادہ موافق ہے۔ اور ایسے ہی وہ عورت جسے اس کے شوہر نے طلاق کا اختیار دے رکھا ہو؛ اور ایسے ہی وہ عورت جس کا مہر اس کے سپرد کردیا گیا ؛ اورخلیہ ؛ بریہ ؛ بائین؛ اور طلاق البتہ ؛ اوردوسرے بہت سارے فقہی مسائل کا یہی حال ہے۔

بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اُمم سابقہ میں مُلہَم موجود تھے، اگر میری امت میں کوئی ملہم من اللہ ہوا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی رضی اللّٰہ عنہم ، باب مناقب عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ ، (ح:۳۶۸۹)، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ عنہ (ح: ۲۳۹۸)، عن عائشۃ، رضی اللّٰہ عنہا ۔]

بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مجھے خواب میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں دودھ تھا، وہ میں نے پی لیا، یہاں تک کہ سیری کا اثر میرے ناخنوں میں ظاہرہونے لگا، پھرجو بچ گیا میں نے وہ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ نے عرض کیا:’’ پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ فرمایا:’’ دودھ سے علم مراد ہے۔‘‘ [صحیح بخاری، حوالہ سابق(حدیث:۳۶۸۱)، صحیح مسلم، حوالہ سابق (حدیث: ۲۳۹۱) ]

ترمذی کی ایک روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر میں مبعوث نہ کیا گیا ہوتا تو عمر مبعوث ہوتے ۔‘‘

ترمذی میں ہی حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہوتے ۔‘‘ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔[سنن ترمذی، کتاب المناقب ، باب(۱۷؍۵۲)، (حدیث:۳۶۸۶)]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں پڑھانے کے لیے؛ جوکہ اسلام کا اصلی ستون ہے؛ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنایا۔ اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کرنے سے پہلے مناسک حج ادا کرانے کے لیے بھی آپ کو ہی امیربنایا گیا؛ اور مکہ میں منادی کرائی گئی کہ : اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے او رنہ ہی کوئی ننگا ہوکر بیت اللہ کا طواف کرے۔

پھر آپ کے پیچھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجاتو آپ نے پوچھا : کیا امیر بن کر آئے ہو یا مامور بن کر؟ تو عرض کی : مامور بن کر۔ پس اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر امیر مقرر کیا۔ آپ کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بات سننے اور حکم ماننے کا حکم دیا تھا۔یہ اس غزوہ تبوک کے بعد کا واقعہ ہے جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں جانشین مقرر کیا گیاتھا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مرتب کردہ کتاب صدقات سب سے آخری اور صحیح ترین کتاب ہے ؛ اسی لیے فقہاء کا اس پر عمل رہا ہے۔ اس کے علاوہ جو کتابیں تھیں ؛ وہ متقدم اور منسوخ تھیں ۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ناسخ ومنسوخ میں بھی دوسروں سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

صفحہ 3 از 5