فتنہ ارتداد کے نتائج - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتنہ ارتداد کے نتائج

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

حروب ارتداد نے دور رس آثار و نتائج چھوڑے ہیں جو زمان و مکان کے ساتھ محدود نہ تھے بلکہ مختلف نسلوں، زمانوں، افکار، سلوکیات اور احکام کو شامل ہیں۔ بعد میں آنے والی نسلوں کو اس سے برابر غذا مل رہی ہے اور بہت سے فائدے ان کو حاصل ہو رہے ہیں۔ ان میں سے اہم ترین نتائج یہ ہیں:

1: دیگر تصورات اور افکار و نظریات سے اسلام ممتاز قرار پایا رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد بڑی تیزی سے تبدیلیاں آئیں۔ دیہاتی ارتداد کی زد میں تیزی سے آنے لگے۔ یہ مولفۂ قلوب تھے یا منافقین تھے یا وہ لوگ تھے جو آخر میں مجبوراً اسلام میں داخل ہو گئے یا وہ لوگ تھے جو حقیقت میں اسلام میں داخل ہی نہیں ہوئے تھے۔ پہلی دو اصناف میں بطور مثال عیینہ بن حصن فزاری کو پیش کیا جا سکتا ہے جس نے اسلام تو قبول کیا لیکن اس کے اسلام میں بڑا فتور تھا۔ اسی لیے جیسے ہی ارتداد کا فتنہ اٹھا اس کو قبول کر لیا اور طلیحہ اسدی نے دنیا کی خاطر اپنے دین کو بیچ دیا اور جب عیینہ کو گرفتار کر کے بیڑیوں میں مقید سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو مدینہ کے بچے اس کے پاس سے گذرتے اور اسے کھجور کی ٹہنیوں سے کونچ کر کہتے: اللہ کے دشمن! تو ایمان کے بعد کافر ہو گیا؟ وہ جواب دیتا: واللہ میں ایمان میں کبھی داخل ہی نہیں ہوا۔

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفح، 260 حرکۃ الردۃ: صفحہ 114)

اور انہی لوگوں میں سے جو اصلاً اسلام میں داخل ہی نہیں ہوئے یمن کا قبیلہ عنس تھا۔ یہ مدعی نبوت ظالم اسود عنسی کا قبیلہ تھا، جس نے یمن میں گل کھلائے اور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی۔ نصوص اسلام کے سلسلہ میں ان کے سوء فہم کی مثال جس سے یہ کفر کے مرتکب ہوئے یہ ہے کہ ان میں سے بعض نے زکوٰۃ کا انکار کرتے ہوئے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا:

خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيۡهِمۡ بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡ‌ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمۡ‌ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‏ ۞ (سورۃ التوبہ آیت 103)

ترجمہ: (اے پیغمبر) ان لوگوں کے اعمال میں سے صدقہ وصول کرلو جس کے ذریعے تم انہیں پاک کردو گے اور ان کے لیے باعث برکت بنو گے، اور ان کے لیے دعا کرو۔ یقینا تمہاری دعا ان کے لیے سراپا تسکین ہے، اور اللہ ہر بات سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قبائل عرب میں سے بعض مانعین زکوٰۃ کا یہ عقیدہ ہو چکا تھا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی رسول اللہﷺ کے لیے خاص تھی، آپﷺ کے بعد خلیفہ وقت کو اسے ادا نہیں کیا جائے گا اور اسی آیت سے انہوں نے استدلال کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس باطل تاویل اور فاسد فہم کی تردید فرمائی اور ان سے اس وقت تک قتال کیا جب تک انہوں نے زکوٰۃ خلیفہ کے حوالے نہ کر دی جیسا کہ رسول اللہﷺ کو ادا کرتے تھے۔

(تفسیر ابنِ کثیر: جلد 2 صفحہ 386 طبعۃ الحلبی)

قبائلی عصبیت زوروں پر نمایاں ہوئی، مسیلمہ کذاب بنو حنیفہ کو اپنی اتباع اور قریش کے لیے حق نبوت کے انکار پر ابھارتے ہوئے کہتا ہے: میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ مجھے بتلاؤ کہ بھلا کیسے قریش تمہارے مقابلہ میں نبوت اور امامت کے زیادہ مستحق ہو گئے؟ واللہ نہ تو وہ تم سے تعداد میں زیادہ ہیں اور نہ تم سے زیادہ دلیر اور بہادر ہیں اور تمہارا ملک ان کے ملک سے زیادہ وسیع و عریض ہے اور تمہارے پاس ان سے زیادہ مال و دولت ہے۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 124)

رجال بن عنفوہ حنفی جو قرآن پڑھنے اور دین کا علم حاصل کرنے کے بعد گمراہی کا شکار ہوا، رسول اللہﷺ اور مسیلمہ کے مابین حقیقت نبوت کے سلسلہ میں کہتا ہے: دو مینڈھے آپس میں ٹکرائے ان دونوں میں سے ہمارے نزدیک سب سے محبوب مینڈھا ہمارا مینڈھا ہے۔

(الاصابۃ لابن حجر: صفحہ 2761)

طلحہ نمری نے جب مسیلمہ کو دیکھا، اس کی بات سنی اور اس کا کذب اس پر نمایاں ہو چکا پھر بھی اس نے مسیلمہ سے کہا: میں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ تو کذاب ہے اور محمد صادق ہیں لیکن ربیعہ کا کذاب مجھے مضر کے صادق سے زیادہ محبوب ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 104)

بلکہ مسیلمہ کذاب خود جانتا تھا کہ وہ جھوٹا ہے چنانچہ معرکہ یمامہ پیش آیا اور مسلمان غالب آنا شروع ہو گئے تو اس کے ساتھیوں نے اس پر غضب ناک ہو کر اس سے کہا: کہاں ہے وہ فتح و نصرت جس کا توہم سے وعدہ کرتا تھا؟ تو اس نے کہا: اپنے حسب و خاندان کی خاطر قتال کرو اور جس دین کی بات میں کرتا تھا وہ دین نہیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 112)

ان کے تصورات، افکار، سلوکیات اور اعمال آپس میں گڈمڈ ہو گئے اور مرتدین اسلام کو ختم کرنے اور اس کو وجود سے مٹا دینے پر تل گئے اور شر کی قوتیں اس پر ٹوٹ پڑیں لیکن مسلمانوں کی وحدت اور رسول اللہﷺ سے تربیت یافتہ اسلامی معاشرہ کے مضبوط اساس و اصول کے گرد مجتمع ہو جانے کی وجہ سے ان کی تمام کوششیں اور سازشیں ناکام ہو گئیں۔

یہ اساس و اصول مقناطیسی قطب کے مانند قرار پایا جو اپنی طبیعت و خصائص کے پیش نظر ہر اس شخص کو اپنی طرف کھینچتا رہا جو اسلام کی اہلیت رکھتا تھا۔ اس وحدت و اجتماعیت نے اسلامی قوت کو نمایاں کیا، افراد اور جنگی سازو سامان کی کثرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ منفرد تصور و فکر اور بے نظیر تربیت کی قوت اور رونما ہونے والے واقعات کے ساتھ بے لاگ برتاؤ کی بنا پر اس معاشرہ کے افراد اپنے تعامل و کردار میں بالکل صریح اور واضح تھے جیسا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی یہ عبارت واضح تھی:

من کان یعبد محمدا فان محمدا قد مات، ومن کان یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت

ترجمہ: جو محمدﷺ کی عبادت کرتا رہا ہو وہ جان لے کہ محمدﷺ وفات پا چکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ہو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ زندہ و جاوید ہے اس پر موت طاری نہیں ہو سکتی۔

(دراسات فی عہد النبوۃ و الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 323)

صفحہ 1 از 3