فتنہ ارتداد کے نتائج - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتنہ ارتداد کے نتائج

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ارتداد کے واقعات کے نتائج میں سے اسلامی تصور کو تحریف و تشویہ سے محفوظ رکھنا ہے اور اسلامی فکر جاہلی عصبیت اور گڈمڈ ولاء سے پاک ہو گئی اور ہر طرح کی ملاوٹ سے خالص ہو گئی۔ اسلامی تصور کسی طرح کی مداہنت کو قبول نہیں کر سکتا، حالات و ظروف کیسے ہی کیوں نہ ہوں، اور اسلامی قوت افراد اور جنگی سازو سامان پر منحصر نہیں ہے بلکہ ایمان و روح کی معنوی قوت پر منحصر ہے۔ اصل لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا ہے ان سے قتال کرنا نہیں بلکہ دعوت مقدم ہے لوگوں کی ہدایت کا شوق و حرص ہر چیز پر مقدم ہے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 324)

2: معاشرہ کے لیے ٹھوس بنیاد کے وجود کي ضرورت:

ارتداد کے احداث نے اسلامی سلطنت کی بنیاد میں اصلی معاون کو ظاہر کیا اور مضبوط عناصر کا انکشاف کیا۔ اس حکومت کے افراد یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین منتشر افراد نہ تھے بلکہ وہ اس حکومت اور معاشرہ کی اساس و بنیاد کی حیثیت رکھتے تھے اور وہ بھی کھوکھلی اور سادہ بنیاد نہیں بلکہ مضبوط اور ٹھوس بنیاد اور سمجھ بوجھ کے مالک اور اپنی حقیقت اور دشمن کی حقیقت سے واقف اور اپنے اردگرد کے خطرات کو سمجھنے والے اور مکمل بیداری کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرنے والے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ قوی و عزیز سے ان کا تعلق استوار تھا۔ اسی لیے یہ اپنے تمام دشمنوں پر غالب آئے اور راستہ سے تمام رکاوٹوں کو دور کیا اور ان بنیادی لوگوں نے اسلام اور حکومت اسلام کی حفاظت کی اور مرتدین کی قوت کو توڑنے کے لیے بڑی فوج جمع کی اور اپنے اردگرد لوگوں کے حالات کو سنوارا اور اس کے بعد اللہ کے فضل پھر ان لوگوں کی کوششوں سے امت کے وجود و بقاء اور ترقی کی حفاظت ہوئی۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 325)

3: جزیرہ عرب کو اسلامي فتوحات کا مرکز بنانا:

رسول اللہﷺ کی وفات کے ساتھ ہی اختلاف رونماء ہوئے اور بہت سے قبائل نے خلیفہ سے بغاوت کر دی۔ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مل کر انتہائی مشکل اور عظیم کام انجام دیا اور قبائل کو حکومت کے تابع کرنے میں کامیاب ہوئے اور سیدنا ابوبکرؓ نے تربیتی، تعلیمی، جنگی اور اداری منصوبہ کی تنفیذ میں بذات خود حصہ لیا اور واضح ترین کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ عرب قبائل اسلامی خلافت کے ساتھ جڑ گئے اور اس کے بعد جزیرہ عرب اسلامی فتوحات کا مرکز قرار پایا اور ایسا اسلام کا سر چشمہ قرار پایا جس سے اسلام کے دھارے پھوٹنے لگے اور یہاں سے لوگ نکل کر پوری روئے زمین میں فاتح، معلم اور مربی کی حیثیت سے پھیل گئے۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 326)

جزیرہ عرب فتوحات کا مرکز تھا، اگر مرکز نہ ہو یا مرکز میں استقرار کی جگہ اضطراب پایا جائے تو بھلا فتح کیسے حاصل ہو گی؟ لیکن جزیرہ عرب کے مرکز قرار پا جانے کے بعد جزیرہ عرب کی تمام طاقتوں کو جنگی مہم کے لیے جمع کرنا ممکن ہو گیا۔

(الطریق الی المدائن: احمد عادل کمال: صفحہ 182)

4: اسلامي فتوحات کی تحریک کے لیے قائدین تیار کرنا:

ارتداد کا فتنہ جب برپا ہوا تو سچے اور جھوٹے نمایاں ہوئے، طاقت و قوت کی خوب آزمائش ہوئی۔ اس سے جہاں امت کے اندر پوشیدہ قیمتی جواہر کا انکشاف ہوا وہیں دوسری طرف گھٹیا کھوٹے سکوں کی حقیقت ظاہر ہوئی اور نفیس، ٹھوس اور ڈھلے ہوئے ہیرے اور جواہرات کو ان کا مقام ملا اور فتوحات کی تحریک میں زمام امور کو سنبھالا۔ تاریخی مصادر اور مراجع ہمیں ایسے قائدین سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں جن کا تعلق نہ مہاجرین و انصار اور نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تھا لیکن اللہ کی کتاب سے انہوں نے تربیت حاصل کی تھی، پھر فتنہ ارتداد نے ان کو نکھارا اور دوسروں سے ممتاز کیا اور فتح مند افواج کی قیادت حاصل ہوئی اور سب لوگوں نے ان کی مہارت، فدائیت اور ایمان صادق کی شہادت دی۔

مدینہ میں مرکزی قیادت اور میدان قتال کی قیادتوں کے مابین تفاہم، تعاون اور رابطہ موجود تھا۔ باوجود یہ کہ ان کے مابین طویل مسافت تھی لیکن مرکزی قیادت اور میدانی قیادتوں کے اعمال میں خوشگوار توازن بالکل نمایاں اور واضح تھا۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 328)

5: فتنہ ارتداد اور فقہ واقع:

قرآن و حدیث کی متعدد نصوص میں ارتداد کا ذکر موجود ہے، جس کا شکار بعض لوگ ہو سکتے ہیں۔ ان تمام نصوص کی حیثیت نظری رہی، ابھی تک واقع میں بشکل عام عملی طور پر یہ چیز وجود پذیر نہ ہوئی تھی، لیکن جب ارتداد کا فتنہ رونما ہوا تو عملی طور پر مسلمانوں کے سامنے یہ چیز آئی۔ ان نصوص کی روشنی میں اس کے احکام مستنبط کیے اور استنباط شدہ احکام ان نصوص کو سمجھنے کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے اور یہ چیز ان مرتدین کے سلسلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مؤقف سے متعلق ان کے مابین رونما ہونے والے مباحثہ سے بالکل نمایاں ہے۔ وہ ان نصوص کی طرف رجوع کرتے، ان کو پڑھتے اور بحث و گفتگو کرتے اور جلد ہی ایک ہی صورت پر متفق ہو جاتے، خواہ یہ ان کی تقیم و توصیف سے متعلق ہو یا طریقہ تعامل سے۔ نص و واقع سے متعلق مذکورہ عملی تعامل کے نتیجہ میں فقہ اسلامی کے بہت سے ابواب وجود میں آئے جن کے اندر ارتداد سے متعلق دقیق تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ عمل فقہی مشعلِ راہ قرار پایا اور بعد میں آنے والوں نے استنباط اور تطبیق کے سلسلہ میں اس سے استفادہ کیا۔

(دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 329)

6: ولا یحیق المکر السیئ الا باہلہ

ترجمہ: اور بری تدبیروں کا وبال ان تدبیر والوں ہی پر پڑتا ہے۔

صفحہ 2 از 3