فتنہ ارتداد کے نتائج - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتنہ ارتداد کے نتائج

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

دین اسلام کے خلاف بغاوت کی کوشش خواہ فرد یا جماعت کی طرف سے ہو یا حکومت و سلطنت کی طرف سے، ناکام کوشش ہو گی۔ اس کا انجام واضح شکست اور بری ناکامی ہو گی کیونکہ یہ بغاوت و تمرد اللہ کے اس حکم کے خلاف ہوگا جو اس نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہے اور اسی طرح اس جماعت کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے جو اس کتاب کی گرویدہ ہو گی اور اپنے اندر اس کتاب کو نافذ کرے گی اور اس کا فیصلہ ہے کہ انجام کار تقویٰ شعاروں ہی کے لیے ہے اور ستائے ہوئے اور مستضعفین سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ظالموں پر غلبہ عطا کرے گا۔ یقیناً اللہ کے دین کے ساتھ مکر و سازش کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں ہلاکت وتباہی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

کناطح صخرۃٍ یوما لِیُوہِنَہَا

فَلَم یَضُرْہا و أَوْہٰی قَرْنہ الوَعِلُ

ترجمہ: چٹان کو سینگ مارنے والے بکرے کی طرح تاکہ وہ چٹان کو توڑ دے لیکن اس سے چٹان کا تو کچھ نقصان نہ ہوگا البتہ بکرا اپنا سینگ توڑ لے گا۔

(حركة الردة للعتوم: جلد 4 صفحہ 33)

7: جزیرہ عرب میں اداري تنظیم میں استقرار:

حروب ارتداد میں انتصار و فتح کے بعد جزیرہ عرب کو مختلف صوبوں کے درمیان تقسیم کیا گیا اور ہر صوبہ کے لیے امیر و والی مقرر کیے گئے۔

صوبہ

امیر اور والی

صوبہ

امیر اور والی

مکہ

سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ

زبید و رقع

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ 

طائف

سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ

جند

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ 

صنعاء

سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ

نجران

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ 

حضر موت

سیدنا زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ 

جرش

حضرت عبداللہ بن نور رضی اللہ عنہ 

خولان

سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ

بحرین

حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ 

عمان

سیدنا حذیفہ غلفانی رضی اللہ عنہ

یمامہ

حضرت سلیط بن قیس رضی اللہ عنہ 

(الدولة العربية الاسلامية لمنصور احمد الحرابي صفحہ 97)


صفحہ 3 از 3