دور صدیقی کی فتوحات
علی محمد الصلابیتمہید
امتِ اسلامیہ کے وجود کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی توحید اور کامل عبودیت کو زندگی میں نافذ کرنا ہے۔
ارشاد الہی ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (سورۃ الذاریات: آیت 56)
ترجمہ: میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔
جب انس و جن کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنا ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ امت مسلمہ اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور اس امانت کو تمام لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھائے، لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دے اور اللہ کے منہج پر لوگوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے اور اس امانت کو لوگوں تک پہنچانے میں جو رکاوٹیں سامنے آئیں ان کو دور کرے۔ اس طرح شریعت الہٰی کی سیادت تمام بنی نوع انسان پر عام ہو گی، سب کے سب اللہ تعالیٰ کی حاکمیت مطلقہ کے تابع ہوں گے۔ بایں طور کہ سب کے سب اللہ کی شریعت کے اتباع میں زندگی بسر کریں گے۔
(صفحات من تاریخ لیبیا الاسلامی للصَّلَّابی: صفحہ 167)
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کو مشروع قرار دیا تاکہ دین فطرت کے سننے اور ماننے سے جو چیزیں مانع ہوں ان کو زائل کیا جائے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب مشروع قتال جہاد ہے تاکہ دین اللہ کا ہو اور اللہ کا کلمہ بلند ہو، تو جو اس سے روکے اس سے باتفاق مسلمین قتال کیا جائے گا۔
(السیاسۃ الشرعیۃ لابن تیمیَّہ: صفحہ 18)
رسول اللہﷺ نے تبلیغ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کو ادا فرمایا چنانچہ آپﷺ نے بادشاہان عالم، زعماء وقائدین کے نام خطوط لکھے اور سفراء کو روانہ کیا۔ انسانی ضرورتیں اور جاہلی عادات، نفسیاتی موانع اور مادی رکاوٹیں جو اسلام کو سننے اور سمجھنے سے مانع تھیں انہیں ختم کرنے اور راستہ سے ہٹانے کے لیے افواج روانہ کیں۔ بلکہ بذات خود آپﷺ نے بعض جنگی مہمات اور غزوات کی قیادت کی۔ آخری غزوہ غزوئہ تبوک تھا جو 9 ہجری میں پیش آیا۔ ان تمام معرکوں اور غزوات میں لوگوں کو تین چیزوں کے درمیان اختیار دیا گیا کہ جس کو چاہیں اختیار کر لیں یا تو اسلام میں داخل ہو کر مسلمانوں کے بھائی بن جائیں، یا اپنے کفر پر باقی رہیں اور جزیہ ادا کریں، یا ان دونوں ہی کا انکار کریں اور ہمارے اور ان کے درمیان تلوار فیصل قرار پائے۔
(صفحات من تاریخ لیبیا الإسلامی للصّلّابی: صفحہ 168)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسی منہج کو اختیار کیا اور رسول اللہﷺ کی بشارتوں کو ثابت کر دکھانے کے لیے جو آپؓ نے بہت سے ممالک جیسے عراق وغیرہ کی فتح کے سلسلہ میں دی تھیں، لشکر بھیجے۔ رسول اللہﷺ نے عدی بن حاتم سے کہا تھا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اللہ اس دین کو پورا کرے گا یہاں تک کہ کجاوہ پر سوار عورت حیرہ سے چل کر خانہ کعبہ کا طواف کرے گی اس کو کسی کے جوار وپناہ کی ضرورت نہ ہو گی اور تم ضرور کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کو فتح کرو گے۔
(صحیح السیرۃ النبوۃ: صفحہ 580)
اور رسول اللہﷺ نے ان فتوحات کے لیے واضح نقوش وضع کیے اور ان بشارتوں نے امت کے لیے مادی و معنوی اور حسی سرمایہ فراہم کیا۔ مستشرقین، ان کے دم چھلے اور اعدائے اسلام نے اسلامی فتوحات کو دعوتی اسباب، ربانی اہداف اور بلند مقاصد سے الگ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور فتوحات کی تحریک پر باطل الزام تراشی کی ہے جو حجت وبرہان اور دلیل کے سامنے تاب نہیں لا سکتی۔
اسلامی فتوحات کی تحریک کی قیادت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی۔ اس کا بلند ہدف اور اعلیٰ مقصد لوگوں کے درمیان اللہ کے دین کو پھیلانا تھا اور لوگوں کی گردنوں کو طاغوت کے ظلم و استبداد سے نجات دلانا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے ساتھ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ نے فتح و مدد کی جو خبر دی تھی اس پر یقین تھا اور یہ یقین فتح مند نسلوں کے اخلاق میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر انہیں یقین تھا:
هُوَ الَّذِىۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَهٗ بِالۡهُدٰى وَدِيۡنِ الۡحَـقِّ لِيُظۡهِرَهٗ عَلَى الدِّيۡنِ كُلِّهٖ وَلَوۡ كَرِهَ الۡمُشۡرِكُوۡنَ ۞ (سورۃ الصف آیت 9)
ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچائی کا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام دوسرے دینوں پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی بر لگے۔
اِنَّا لَنَـنۡصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ يَقُوۡمُ الۡاَشۡهَادُ ۞ (سورۃ غافر آیت نمبر 51)
ترجمہ: یقین رکھو کہ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان لانے والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہی، اور اس دن بھی کریں گے جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے
آیے دیکھیں فتوحات اسلامی کے واقعات خود بخود حقائق کی خبر دیتے ہیں اور امت کے سچے سپوتوں کے لیے راستہ واضح کرتے ہیں۔