فتح عراق کے لیے صدیقی منصوبہ
علی محمد الصلابیجیسے ہی ارتداد کی جنگ ختم ہوئی اور جزیرہ عرب میں استقرار بحال ہو گیا جو فتنہ ارتداد سے منتشر ہوچکا تھا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتوحات کے سلسلہ میں اپنے منصوبہ کی تنفیذ شروع کر دی جس کے نقوش رسول اللہﷺ نے وضع کیے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے فتح عراق کے لیے دو افواج تیار کیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ عراق میں سیدنا مثنیٰ بن حارثہؓ ضم ہو گئے۔
(1) پہلی فوج حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں، جو اس وقت یمامہ میں تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں لکھا کہ وہ جنوب مغرب سے عراق پر حملہ آور ہوں اور انہیں حکم دیا کہ عراق میں نشیبی حصہ سے داخل ہوں اور اَبلہ۔ (یہ بصرہ سے قدیم ترین شہر ہے۔ شط العرب پر خلیج کے کنارے واقع ہے۔ یہاں کسریٰ کا فوجی اڈہ تھا) سے اپنی مہم کا آغاز کریں، لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دیں اگر وہ اسے قبول کر لیں تو ٹھیک ورنہ ان سے جزیہ وصول کریں اور اگر اس کے لیے بھی تیار نہ ہوں تو پھر ان سے قتال کریں اور انہیں حکم فرمایا: کسی کو اپنے ساتھ قتال کے لیے نکلنے پر مجبور نہ کریں اور جو ارتداد کا شکار ہو چکے ہوں اگرچہ بعد میں اسلام میں واپس آ گئے ہوں ان سے مدد نہ لیں اور جہاں سے گزر ہو وہاں کے مسلمانوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیں۔ اور پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا خالدؓ کی امداد کے لیے لشکر کی تیاری میں لگ گئے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ347)
(2) دوسری فوج سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی قیادت میں۔ یہ اس وقت نباج۔ (مکہ اور بصرہ کے درمیان راستہ پر ایک بستی ہے) اور حجاز کے درمیان تھے انہیں لکھا کہ وہ شمال مشرق سے عراق میں داخل ہوں اور مصیخ۔
(شام کی حدود پر عراق سے قریب ایک مقام ہے)
اپنی مہم کا آغاز کریں پھر عراق کے بالائی حصہ سے ہوتے ہوئے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے جا ملیں اور انہیں حکم دیا کہ جو لوگ اپنے گھر واپس ہونا چاہیں انہیں اجازت دے دو اور کسی کو اپنے ساتھ قتال کے لیے چلنے پر مجبور نہ کرو، جو چاہے قتال کے لیے آگے بڑھے اور جو چاہے رک جائے۔
(الفن العسکری الاسلامی: دیکھیے یسین سوید صفحہ 83 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 162)
اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد و عیاض رضی اللہ عنہما کو لکھا:
پھر وہ دونوں حیرہ کی طرف آگے بڑھیں، جو وہاں پہلے پہنچ جائے وہ اپنے ساتھی کا امیر ہے، اور فرمایا: جب تم دونوں حیرہ میں اکٹھے ہو جاؤ اور فارس کا فوجی اڈہ تباہ کر چکو اور پیچھے کی طرف سے کسی حملہ کا خطرہ باقی نہ رہا ہو تو تم میں سے ایک حیرہ میں مسلمانوں اور اپنے ساتھی کا پشت پناہ بن کر ٹھہر جائے اور دوسرا اللہ کے اور اپنے دشمن اہل فارس کے مرکز مدائن پر حملہ آور ہو۔
(التاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)
(3) حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپؓ کو اہل فارس سے جنگ پر ابھارا اور ان سے کہا: آپؓ مجھے میری قوم پر بھیج دیجیے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔ سيدنا مثنیٰؓ نے عراق لوٹ کر جہاد شروع کر دیا، پھر حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی مسعود بن حارثہ کو سيدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آپؓ سے مدد طلب کرنے کے لیے بھیجا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے ذریعہ سے سيدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کیا:
حضرت میں نے خالد بن ولیدؓ کو سر زمین عراق کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کا استقبال کرو، پھر ان کا ساتھ دو اور ان کی مدد کرو۔ ان کے کسی حکم کو مت ٹالو اور ان کی رائے کی مخالفت نہ کرو کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ صفت بیان کی ہے
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ ؕ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا۞ (سورۃ الفتح آیت 29)
ترجمہ: محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں، آپس میں رحم دل ہیں، تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں اور کبھی سجدے میں۔
جب تک وہ تمہارے ساتھ رہیں وہ امیر ہیں اور اگر وہ تمہارے پاس سے چلے جائیں تو تم اپنی پہلی پوزیشن پر ہو۔
(الوثائق السیاسۃ: حمید اللہ صفحہ 371)
سیدنا مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی قوم میں ایک شخص مذعور بن عدی نامی نے اپنے سے الگ ہو کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے خط کتابت شروع کی، لکھا:
میں بنو عجل سے تعلق رکھتا ہوں جو گھوڑے کی پشت نہیں چھوڑتے اور صبح سویرے حملہ آور ہوتے ہیں اور میرے ساتھ میرے خاندان کے لوگ ہیں جن کا ایک فرد سو آدمیوں پر بھاری ہے اور مجھے اس ملک کے جغرافیہ کا علم ہے میں جنگ پر دلیر ہوں، زمین کی معلومات رکھتا ہوں۔ آپؓ مجھے عراق کی مہم کا امیر بنا دیجیے، میں ان شاء اللہ اسے فتح کر لوں گا۔
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 372)
حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے مذعور بن عدی کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکرؓ کو خط ارسال کیا، اس میں لکھا:
میں خلیفہ رسول کو یہ خبر دینا چاہوں گا کہ میری قوم کا ایک فرد مذعور بن عدی جس کا تعلق بنی عجل سے ہے تھوڑے سے لوگوں کے ساتھ میری مخالفت پر اتر آیا ہے۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ آپؓ کو باخبر کر دوں تا کہ آپؓ اس سلسلہ میں اپنی رائے قائم کر سکیں۔
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 372)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مذعور بن عدی کے خط کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
اما بعد! تمہارا خط مجھے ملا، جو کچھ تم نے ذکر کیا ہے میں نے سمجھا، تم ویسے ہی ہو جیسا تم نے اپنے بارے میں بیان کیا ہے، تمہارا خاندان بہترین خاندان ہے۔ تمہارے سلسلہ میں میرا حکم ہے کہ تم حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ شامل ہو جاؤ اور انہی کے ساتھ رہو اور جب تک وہ عراق میں رہیں انہی کے ساتھ رہو اور جب وہ عراق سے روانہ ہوں تو ان کے ساتھ تم بھی روانہ ہو جاؤ۔
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 372)
اور سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو خط تحریر کیا:
تمہارے ساتھی عجلی نے مجھے خط تحریر کیا ہے جس میں بہت سی چیزوں کا مطالبہ کیا ہے، میں نے اس کے جواب میں اس کو حکم دیا ہے کہ وہ حضرت خالد بن ولیدؓ کو لازم پکڑے، یہاں تک کہ میں اس کے سلسلہ میں کوئی دوسری رائے قائم کروں اور اس خط کے ذریعہ سے تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم جب تک سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عراق سے چلے نہ جائیں وہیں رہو اور جب وہ وہاں سے چلے جائیں تو تم اپنی پوزیشن سنبھال لو اور تم مزید کی اہلیت رکھتے ہو اور ہر فضل کے مستحق ہو۔
(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 373)