عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے - دفاعِ اہلِ سنت…

عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

حضرت خالدؓ جس وقت عراق پہنچے ان کے ساتھ دو ہزار مجاہد تھے جو مرتدین سے قتال کر چکے تھے۔ عراق پہنچتے ہی آپؓ نے ربیعہ کے قبائل میں سے آٹھ ہزار مجاہدین کو اور جمع کر لیا اور آپؓ نے عراق میں تین امراء کو خط لکھا جن کے ساتھ جہاد کے لیے افواج تھیں، وہ امراء یہ تھے: مذعور بن عدی عجلی، سلمی بن قین تمیمی اور حرملہ بن مریطہ تمیمی۔ ان تینوں نے آپؓ کی بات مان لی اور اپنی افواج لے کر آپؓ کے ساتھ ضم ہو گئے۔ ان کی تعداد حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی فوج کے ساتھ آٹھ ہزار تھی۔ اس طرح مسلمانوں کی فوج کی کل تعداد اٹھارہ ہزار ہو گئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)

 سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ سب ابلہ کے مقام پر جمع ہوں گے۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی، نزار الحدیثی: صفحہ 46)

عراق کی طرف روانہ ہونے سے حضرت قبل خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو انذار نامہ (Warning) ارسال کیا، فرمایا:

اما بعد! اسلام قبول کر لو سلامت رہو گے یا اپنے اور اپنی قوم کے لیے امان کا معاہدہ کر لو اور جزیہ ادا کرنے کا اقرار کر لو، ورنہ پھر اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرنا۔ میں ایسے لوگوں کو لے کر تمہارے پاس آیا ہوں جنہیں موت اتنی ہی محبوب ہے جتنی محبوب تمہیں زندگی ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 164)

آپؓ نے یہ اسلوب اختیار کیا جو ایک نفسیاتی جنگ ہے تاکہ ہرمز اور اس کے لشکر کے دلوں میں خوف و رعب طاری کر دیں اور ان کی قوت کو کمزور اور ان کی عزیمت میں ضعف پیدا کر دیں۔ جب سيدنا خالد رضی اللہ عنہ دشمن کے قریب پہنچے تو فوج کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا اور حکم فرمایا کہ ہر حصہ الگ الگ راستہ سے روانہ ہو۔ ایک ہی راستہ پر سب کو نہیں رکھا تاکہ جنگ کے اصولوں میں سے اہم ترین اصول فوجی دستوں کو مامون و محفوظ رکھنے پر عمل ہو۔ پہلے دستہ پر حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ اور دوسرے دستہ پر سيدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کو متعین کیا اور ان دونوں کے بعد حضرت خالدؓ خود روانہ ہوئے، اور ان دونوں سے حضیر پر ملنے کا وعدہ کیا تا کہ وہاں جمع ہو کر دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں۔ (بصرہ سے چار میل کے فاصلے پر پانی کا چشمہ ہے۔ المجعم: یاقوت جلد 2 صفحہ 277)

(حضرت ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی صفحہ 46)

(1) معرکہ ذات السلاسل: ہرمز کو جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے روانہ ہونے کی خبر ملی اور اسے معلوم ہوا کہ مسلمانوں نے حضیر کے مقام پر جمع ہونے کو طے کیا ہے تو وہ ان سے پہلے وہاں پہنچ گیا اور اپنے ہراول پر دو قائدین قباذ اور انوشجان کو مقرر کیا اور جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ دشمن حضیر کا رخ کر چکا ہے تو آپؓ حضیر کے بجائے کاظمہ کی طرف مڑ گئے، وہاں بھی ہرمز پہلے پہنچ گیا، پانی پر قبضہ کر لیا اور اپنی فوج کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب کر لیا اور جب سيدنا خالدؓ وہاں پہنچے تو ایسی جگہ اترنا پڑا جہاں پانی نہ تھا۔ آپؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اپنے سامان اتارو اور پھر ان سے لڑکر پانی پر قابض ہو جاؤ، قسم ہے! پانی ان کو ملے گا جو دونوں گروہوں میں سب سے زیادہ صبر کرنے والے اور دونوں لشکروں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہیں۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 51 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 165)

مسلمانوں نے اپنے سامان سواریوں سے اتارے، شہسوار کھڑے رہے اور پیادہ آگے بڑھے، پھر کفار پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں پر احسان کیا، بدلی آئی اور مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے بارش ہوئی۔ مسلمانوں نے پانی پیا اور اس سے مسلمانوں کو قوت ملی۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جو اہلِ ایمان اور اولیائے کرام کے ساتھ اللہ کی معیت اور نصرت و امداد پر شاہد ہیں۔ مسلمانوں نے ہرمز سے مقابلہ کیا۔ اس کی خباثت مشہور تھی۔ ضرب المثل کے طور پر اس کی خباثت بیان کی جاتی تھی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے لیے اس نے ایک سازش تیار کی۔ اپنے دفاعی دستہ سے کہا کہ وہ سیدنا خالدؓ کو مبارزت کی دعوت دیتا ہے اور یہ لوگ اچانک چپکے سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیں، پھر وہ خود دونوں افواج کے درمیان نکلا اور سیدنا خالدؓ کو دعوت مبارزت دی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو بھینچ لیا۔ ہرمز کے دفاعی دستہ نے سيدنا خالدؓ پر اچانک حملہ کر دیا اور انہیں گھیرے میں لے لیا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو قتل کر دیا۔ ادھر سيدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی یہ خیانت دیکھی شہسواروں کی ایک جماعت کے ساتھ ہرمز کے دفاعی دستے پر ٹوٹ پڑے اور ان سب کو موت کی نیند سلا دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 165)

اور مسلم فوج حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پیچھے دشمن پر ٹوٹ پڑی اور فارسی فوج کو شکست فاش دی۔ یہ پہلا معرکہ تھا جس میں سیدنا ابوبکرؓ کی فراست صادق آئی جو حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ سے متعلق فرمایا تھا: وہ فوج شکست نہیں کھا سکتی جس میں ان جیسے لوگ ہوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بہادری اور جرأت مندی کی بہترین مثال قائم کی۔ آپؓ نے فارس کے قائد ہرمز کا قصہ تمام کر دیا، اس کی فوج اس کو آپؓ سے نہ بچا سکی اور پھر ان سے تنہا لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچے اور ان سب کا معاملہ تمام کیا۔ فارسیوں نے اپنے آپ کو زنجیروں میں باندھ رکھا تھا تاکہ میدان جنگ سے فرار نہ اختیار کریں۔ لیکن بہادر شیروں کے سامنے کچھ کام نہ آیا چنانچہ زنجیروں سے اپنے آپ کو باندھنے کی وجہ سے اس معرکہ کو ذات السلاسل کا نام دیا گیا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 133 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 165)

صفحہ 1 از 4