Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے

  علی محمد الصلابی

حضرت خالدؓ جس وقت عراق پہنچے ان کے ساتھ دو ہزار مجاہد تھے جو مرتدین سے قتال کر چکے تھے۔ عراق پہنچتے ہی آپؓ نے ربیعہ کے قبائل میں سے آٹھ ہزار مجاہدین کو اور جمع کر لیا اور آپؓ نے عراق میں تین امراء کو خط لکھا جن کے ساتھ جہاد کے لیے افواج تھیں، وہ امراء یہ تھے: مذعور بن عدی عجلی، سلمی بن قین تمیمی اور حرملہ بن مریطہ تمیمی۔ ان تینوں نے آپؓ کی بات مان لی اور اپنی افواج لے کر آپؓ کے ساتھ ضم ہو گئے۔ ان کی تعداد حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی فوج کے ساتھ آٹھ ہزار تھی۔ اس طرح مسلمانوں کی فوج کی کل تعداد اٹھارہ ہزار ہو گئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)

 سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ سب ابلہ کے مقام پر جمع ہوں گے۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی، نزار الحدیثی: صفحہ 46)

عراق کی طرف روانہ ہونے سے حضرت قبل خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو انذار نامہ (Warning) ارسال کیا، فرمایا:

اما بعد! اسلام قبول کر لو سلامت رہو گے یا اپنے اور اپنی قوم کے لیے امان کا معاہدہ کر لو اور جزیہ ادا کرنے کا اقرار کر لو، ورنہ پھر اپنے سوا کسی کو ملامت نہ کرنا۔ میں ایسے لوگوں کو لے کر تمہارے پاس آیا ہوں جنہیں موت اتنی ہی محبوب ہے جتنی محبوب تمہیں زندگی ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 164)

آپؓ نے یہ اسلوب اختیار کیا جو ایک نفسیاتی جنگ ہے تاکہ ہرمز اور اس کے لشکر کے دلوں میں خوف و رعب طاری کر دیں اور ان کی قوت کو کمزور اور ان کی عزیمت میں ضعف پیدا کر دیں۔ جب سيدنا خالد رضی اللہ عنہ دشمن کے قریب پہنچے تو فوج کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا اور حکم فرمایا کہ ہر حصہ الگ الگ راستہ سے روانہ ہو۔ ایک ہی راستہ پر سب کو نہیں رکھا تاکہ جنگ کے اصولوں میں سے اہم ترین اصول فوجی دستوں کو مامون و محفوظ رکھنے پر عمل ہو۔ پہلے دستہ پر حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ اور دوسرے دستہ پر سيدنا عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کو متعین کیا اور ان دونوں کے بعد حضرت خالدؓ خود روانہ ہوئے، اور ان دونوں سے حضیر پر ملنے کا وعدہ کیا تا کہ وہاں جمع ہو کر دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں۔ (بصرہ سے چار میل کے فاصلے پر پانی کا چشمہ ہے۔ المجعم: یاقوت جلد 2 صفحہ 277)

(حضرت ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی صفحہ 46)

(1) معرکہ ذات السلاسل: ہرمز کو جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے روانہ ہونے کی خبر ملی اور اسے معلوم ہوا کہ مسلمانوں نے حضیر کے مقام پر جمع ہونے کو طے کیا ہے تو وہ ان سے پہلے وہاں پہنچ گیا اور اپنے ہراول پر دو قائدین قباذ اور انوشجان کو مقرر کیا اور جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ دشمن حضیر کا رخ کر چکا ہے تو آپؓ حضیر کے بجائے کاظمہ کی طرف مڑ گئے، وہاں بھی ہرمز پہلے پہنچ گیا، پانی پر قبضہ کر لیا اور اپنی فوج کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب کر لیا اور جب سيدنا خالدؓ وہاں پہنچے تو ایسی جگہ اترنا پڑا جہاں پانی نہ تھا۔ آپؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اپنے سامان اتارو اور پھر ان سے لڑکر پانی پر قابض ہو جاؤ، قسم ہے! پانی ان کو ملے گا جو دونوں گروہوں میں سب سے زیادہ صبر کرنے والے اور دونوں لشکروں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہیں۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 51 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 165)

مسلمانوں نے اپنے سامان سواریوں سے اتارے، شہسوار کھڑے رہے اور پیادہ آگے بڑھے، پھر کفار پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں پر احسان کیا، بدلی آئی اور مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے بارش ہوئی۔ مسلمانوں نے پانی پیا اور اس سے مسلمانوں کو قوت ملی۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جو اہلِ ایمان اور اولیائے کرام کے ساتھ اللہ کی معیت اور نصرت و امداد پر شاہد ہیں۔ مسلمانوں نے ہرمز سے مقابلہ کیا۔ اس کی خباثت مشہور تھی۔ ضرب المثل کے طور پر اس کی خباثت بیان کی جاتی تھی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے لیے اس نے ایک سازش تیار کی۔ اپنے دفاعی دستہ سے کہا کہ وہ سیدنا خالدؓ کو مبارزت کی دعوت دیتا ہے اور یہ لوگ اچانک چپکے سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیں، پھر وہ خود دونوں افواج کے درمیان نکلا اور سیدنا خالدؓ کو دعوت مبارزت دی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو بھینچ لیا۔ ہرمز کے دفاعی دستہ نے سيدنا خالدؓ پر اچانک حملہ کر دیا اور انہیں گھیرے میں لے لیا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ہرمز کو قتل کر دیا۔ ادھر سيدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی یہ خیانت دیکھی شہسواروں کی ایک جماعت کے ساتھ ہرمز کے دفاعی دستے پر ٹوٹ پڑے اور ان سب کو موت کی نیند سلا دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 165)

اور مسلم فوج حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پیچھے دشمن پر ٹوٹ پڑی اور فارسی فوج کو شکست فاش دی۔ یہ پہلا معرکہ تھا جس میں سیدنا ابوبکرؓ کی فراست صادق آئی جو حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ سے متعلق فرمایا تھا: وہ فوج شکست نہیں کھا سکتی جس میں ان جیسے لوگ ہوں۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 163)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بہادری اور جرأت مندی کی بہترین مثال قائم کی۔ آپؓ نے فارس کے قائد ہرمز کا قصہ تمام کر دیا، اس کی فوج اس کو آپؓ سے نہ بچا سکی اور پھر ان سے تنہا لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچے اور ان سب کا معاملہ تمام کیا۔ فارسیوں نے اپنے آپ کو زنجیروں میں باندھ رکھا تھا تاکہ میدان جنگ سے فرار نہ اختیار کریں۔ لیکن بہادر شیروں کے سامنے کچھ کام نہ آیا چنانچہ زنجیروں سے اپنے آپ کو باندھنے کی وجہ سے اس معرکہ کو ذات السلاسل کا نام دیا گیا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 133 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 165)

مسلمانوں کو اس معرکہ میں ہزار اونٹوں کے بوجھ برابر مال غنیمت ملا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حیرہ کے اطراف کے قلعوں کو فتح کرنے کے لیے فوجی دستے روانہ کیے، خوب مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت خالدؓ نے ان کسانوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جو آپؓ سے قتال کے لیے نہیں نکلے تھے۔ بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا اور ان کو ان کی زمینوں پر باقی رکھا کہ وہ اس کی کاشت کریں اور غلہ پیدا کریں اور انہیں ان کے عمل کا صلہ عطا کیا۔ جو لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ان کے لیے زکوٰۃ کا نصاب متعین کر دیا اور جو اپنے دین پر باقی رہے ان پر جزیہ عائد کیا۔ یہ اس سے کہیں کم تھا جو فارسی مالکان ان سے وصول کیا کرتے تھے۔ فارسی مالکان سے زمین نہیں چھینی لیکن ان زمینوں میں کام کرنے والوں کے ساتھ انصاف کیا۔ اس طرح لوگوں کو اس بات کا احساس ہوا کہ اس فتح کی برکت سے عدل اور انسانی بھائی چارگی کا نیا عنصر ان کی نگرانی کر رہا ہے۔ سیدنا خالدؓ نے مال غنیمت کا خمس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارسال فرمایا اور باقی مجاہدین کے مابین تقسیم کر دیا۔ جو مال غنیمت سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا، اس میں ہرمز کی ایک ٹوپی بھی تھی لیکن حضرت ابوبکر صديقؓ نے سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ان کی اچھی خدمات کے صلے میں اسے ہدیہ میں دے دیا۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 131)

 اس کی قیمت ایک لاکھ تھی، اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے۔ اہلِ فارس اپنی ٹوپیاں خاندان میں شرف و مقام کے اعتبار سے رکھتے تھے، جو شرف و منزلت میں کمال کو پہنچ چکا ہو اس کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ ہوتی تھی اور ہرمز ان لوگوں میں سے تھا جو اہل فارس کے نزدیک شرف و منزلت میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 166)

(2) معرکہ مذار (ثني) ہرمز نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خط کو کسریٰ کے پاس روانہ کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں کسریٰ نے ہرمز کی مدد کے لیے قارن کی قیادت میں ایک فوج روانہ کی تھی لیکن ہرمز نے مسلم فوج کو معمولی سمجھا اور قارن کے پہنچنے سے پہلے ہی مسلمانوں سے ٹکرا گیا پھر تباہی و بربادی اس کی اور اس کی فوج کا مقدر قرار پائی اور شکست خوردہ لوگ بھاگ کر قارن سے جا ملے پھر آپس میں مل کر ایک دوسرے کو مسلمانوں سے قتال پر ابھارا اور مذار کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا۔ سیدنا خالدؓ نے مثنیٰ بن حارثہ اور ان کے بھائی معنیٰ کو ان کے پیچھے لگا رکھا تھا، انہوں نے بعض قلعہ فتح کیے اور جب ان دونوں کو فارسی فوج کے آنے کی خبر ملی تو فوراً حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو باخبر کیا اور سیدنا خالدؓ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فارسی فوج کی طرف کوچ کرنے کی اطلاع دی اور قتال کے لیے مستعد ہو کر روانہ ہوئے تاکہ دشمن اچانک حملہ نہ کر سکے۔ مذار کے مقام پر مسلمانوں کی فارسی فوج کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی۔ ذات السلاسل کی شکست کی وجہ سے فارسی فوج غصہ سے بھری ہوئی تھی۔ ان کا قائد قارن میدان میں اترا اور سیدنا خالدؓ کو دعوت مبارزت دی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ میدان میں نکلے، لیکن آپؓ سے پہلے ہی معقل بن اعمش بن نباش نے اس کو قتل کر دیا۔ قارن نے اپنے میمنہ پر قباذ اور میسرہ پر انوشجان کو مقرر کر رکھا تھا۔ یہ دونوں ان قائدین میں سے تھے جو ذات السلاسل میں شریک تھے اور معرکہ سے فرار اختیار کر لیا تھا۔ ان دونوں کے مقابلہ میں دو مسلم بہادر ڈٹ گئے۔ قباذ کو تو سیدنا عدی بن حاتم طائیؓ نے قتل کیا اور انوشجان کو عاصم بن عمرو تمیمی نے قتل کر دیا اور طرفین سے گھمسان کی جنگ ہوئی اور فارسی فوج اپنے قائدین کے قتل کے بعد شکست خوردہ ہو گئی، ان میں سے تیس ہزار قتل ہوئے اور باقی کشتیوں پر سوار ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اور پانی کی وجہ سے مسلمان ان کا پیچھا نہ کر سکے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مذار میں ٹھہر کر فارسی فوج سے چھینا ہوا سامان چھیننے والوں کے حوالے کر دیا، اور مال غنیمت تقسیم کیا اور جن لوگوں نے اس معرکہ میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی ان کو خمس میں سے عطا کیا اور باقی خمس مدینہ روانہ کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ، 168 التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 134)

(3) معرکہ ولجہ: مذار میں فارسی فوج کی شکست کی خبر کسریٰ کو پہنچی، اس نے اندرزغر کی قیادت میں ایک عظیم فوج روانہ کی اور اس کے پیچھے بہمن جاذویہ کی قیادت میں دوسری فوج روانہ کی۔ اندرزغر مدائن سے چل کر کسکر پہنچا اور وہاں سے ہوتا ہوا ولجہ پہنچ گیا۔ ادھر بہمن جاذویہ وسط سواد سے ہو کر نکلا اس کا مقصد تھا کہ مسلم فوج کو اپنے اور اندرزغر کے درمیان گھیر لے اور راستہ میں بہت سے معاونین اور دہقانوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس طرح فارسی فوج ولجہ میں جمع ہو گئی اور جب اندرزغر کو یہ محسوس ہوا کہ اس کی فوج بہت بڑی ہو گئی ہے تو اس نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب سیدنا خالدؓ کو فارسی فوج کے ولجہ میں جمع ہونے کی خبر ملی، اس وقت آپؓ بصرہ کے قریب ثنی کے مقام پر تھے۔ آپؓ نے مناسب سمجھا کہ بہتر یہ ہے کہ فارسی فوج پر تین جہات سے حملہ کریں تا کہ ان کی جمعیت منتشر ہو جائے اور اس طرح اچانک حملہ سے فارسی فوج پریشانی کا شکار ہو جائے اور پھر آپؓ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے تیاری میں لگ گئے اور پیچھے کی دفاعی لائن کو مامون رکھنے کے لیے سوید بن مقرن کو حکم دیا کہ وہ حضیر میں کھڑے رہیں اور اپنی فوج لے کر خود ولجہ پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر اس علاقہ کا مکمل جائزہ لیا، آپؓ کو پتہ چلا کہ معرکہ کا میدان ہموار اور عمدہ ہے۔ قتال کے لیے مناسب ہے۔ اس میں آزادی سے نقل وحرکت کی جا سکتی ہے۔ آپؓ فارسی فوج پر تین جہات سے حملہ آور ہونے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ آپ نے اپنے اس منصوبہ کو نافذ کیا، دو دستوں کو پیچھے اور دونوں کناروں سے فارسی فوج پر حملہ کے لیے روانہ کیا۔ معرکہ شروع ہوا، طرفین سے گھمسان کی جنگ ہوئی، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سامنے سے حملہ تیز کر دیا اور مناسب وقت پر گھات میں لگے ہوئے دونوں دستے پیچھے سے فارسی فوج پر ٹوٹ پڑے اور اس طرح دشمن کو شکست فاش کھانا پڑی اور اندرزغر اپنے کچھ فوجیوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا لیکن سب کے سب راستہ میں پیاس سے مر گئے۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 52 ابوبکر الصدیق: خالد الجنابی صفحہ 48)

اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو خطاب کیا، انہیں بلاد عجم کی طرف رغبت دلائی اور بلاد عرب سے بے رغبتی پر ابھارا، فرمایا: کیا ہم نہیں دیکھتے کہ یہاں انواع و اقسام کے وافر کھانے ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی راہ میں جہاد اور اسلام کی طرف دعوت ہم پر فرض نہ ہوتی، صرف معیشت پیش نظر ہوتی تب بھی عقلمندی یہی تھی کہ ہم اس سر زمین کو حاصل کرنے کے لیے قتال کرتے اور بھوک و پیاس کو ان لوگوں کے لیے پیچھے چھوڑ دیتے جو تمہارے ساتھ نکلنے کے لیے تیار نہ ہوئے اور بیٹھے رہے۔ پھر مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے اور پانچواں حصہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس روانہ کیا اور مقاتلین کے اہل و عیال کو گرفتار کیا اور کسانوں پر جزیہ لاگو کیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 350)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے خطاب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عرب جاہلیت میں تھے مزید برآں آخرت کے طلب گار نہ تھے لیکن وہ اپنے اختلاف اور آپسی جھگڑوں کی وجہ سے دنیا بھی حاصل نہ کر سکے۔ حضرت خالدؓ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم آخرت کے طلب گار ہیں، ہم انتہائی بلند مقاصد لے کر اٹھے ہیں اسی کے لیے دعوت دیتے ہیں اور اسی کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ بفرض محال اگر ہمارا مقصد یہ نہ ہو اور ہم اس کے لیے جہاد نہ کریں تو عقل کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی معیشت کو درست کرنے کے لیے قتال کریں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا یہ ذکر کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپؓ طلب معیشت کو اپنے عظیم مقصد کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں بلکہ آپؓ نے اسے فرضی حالت میں ذکر کیا ہے گویا آپؓ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان سے دنیا کی خاطر قتال کریں تو بھلا ہم آخرت کی خاطر اور اللہ کی رضا کے لیے قتال کیوں نہ کریں۔

اس کلام سے ہمتیں بڑھتی ہیں، عزم پختہ ہوتے ہیں، قلب کو زندگی ملتی اور طاقتیں جوش میں آتی ہیں اور پھر اہلِ ایمان اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اپنی پوری طاقت و قدرت اور اسباب کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 139)

ایک روایت میں ہے کہ معرکہ ولجہ میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اہلِ فارس میں سے ایک ایسے شخص سے مبارزت کی جو ہزار آدمیوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ آپؓ نے اس کو قتل کر دیا اور جب قتل سے فارغ ہوئے تو اس پر ٹیک لگا لی اور اپنا کھانا منگوایا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 350)

حضرت سیف اللہ رضی اللہ عنہ کے اس عظیم تصرف میں فارس کی تذلیل، ان کے جبروت اور کبر و غرور کو توڑنا اور ان کے عزائم کو کمزور کرنا دیکھا جا سکتا ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 138)

(4) معرکہ أُلَّیس اور فتح امغیشیا: اس معرکہ میں بعض عرب نصاریٰ اہلِ فارس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف فارسی فوج کے لیے معاؤن بنے، ان عربوں کا قائد عبد الاسد عجلی تھا اور فارسیوں کا قائد جابان تھا۔ اس کو بہمن جاذویہ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ مسلمانوں سے اس وقت تک نہ ٹکرائے جب تک وہ پہل نہ کریں اور جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو عرب نصاریٰ اور حیرہ کے قرب وجوار کے عربوں کے جمع ہونے کی خبر ملی، تو آپ ان کی طرف روانہ ہو گئے۔ آپؓ کی توجہ ان پر حملہ کرنے کی طرف مرکوز تھی، آپؓ کو عربوں کے ساتھ فارسی فوج کے ضم ہو جانے کی خبر نہ تھی، جب مسلمانوں کی فوج پہنچی تو جابان نے اپنی فوج کو ان پر حملہ آور ہونے کا حکم دے دیا لیکن ان لوگوں نے سیدنا خالدؓ کو اہمیت نہ دی اور کھانے پر اکٹھے ہو گئے۔ مگر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو کھانے کا موقع نہ دیا اور گھمسان کی جنگ ہوئی۔ دشمن کی ہمت اس وجہ سے بڑھی کہ ان کو توقع تھی کہ بہمن جاذویہ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ ان سے ملنے والا ہے۔ مسلمان اس گھمسان کی جنگ میں ڈٹے رہے۔ سیدنا خالدؓ نے قسم کھاتے ہوئے کہا: اے اللہ! اگر تو نے ان کی مشکیں ہمارے حوالے کیں تو جو ہمارے قبضہ میں آئے گا اس کو باقی نہیں چھوڑیں گے، جب تک کہ ان کے خون سے ان کی ندیاں نہ بہا دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا کی اور ان کی مشکیں مسلمانوں کے حوالے کیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے: قید کرو قید کرو، صرف اسی کو قتل کرو جو اَڑ جائے۔ شہسوار، فوج کی فوج قیدیوں کو ہانکتے ہوئے لائے۔ حضرت خالدؓ نے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان کی گردنیں مار مار کر دریا میں ڈالتے رہیں، ایک رات اور دن ایسا ہی کیا گیا۔ دوسرے دن اور تیسرے دن ان کو دوڑا دوڑا کر پکڑا گیا، یہاں تک کہ نہرین تک پہنچے اور اسی مسافت کی مقدار الیس کے چہار جانب ان کو دوڑا کر پکڑا گیا اور ان کی گردنیں قلم کی گئیں۔ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالدؓ سے کہا: اگر آپؓ پورے روئے زمین کے لوگوں کو قتل کر دیں تب بھی ان کا خون نہیں بہے گا۔ جب سے آپؓ نے دریا کو بہنے سے اور زمین کو خون جذب کرنے سے روک دیا ہے، ان کا خون منجمد ہوتا جا رہا ہے لہٰذا آپؓ اس پر پانی جاری کریں اور اپنی قسم پوری کریں۔ حضرت خالدؓ نے دریا کا پانی بند کر دیا تھا، دوبارہ اسے کھول دیا اور تازہ خون بہنے لگا، اسی وجہ سے اس کا نام نہر الدم (دریائے خون) پڑ گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 173)

جب دشمن کو شکست ہو گئی اور وہ معسکر چھوڑ کر بھاگ گئے اور مسلمان ان کی تلاش سے واپس آ گئے تو وہ ان کے معسکر میں داخل ہوئے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کھانے کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: میں تمہیں یہ دے رہا ہوں، یہ تمہارا ہے، اور فرمایا: رسول اللہﷺ جب پکے ہوئے کھانے کے پاس پہنچتے تو اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتے۔ مسلمان شام کا کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گئے، جن حضرات نے انواع و اقسام کے کھانے نہیں دیکھے تھے اور پتلی روٹیاں نہیں جانتے تھے، کہنے لگے: یہ پتلی سفید کیا چیز ہے؟ جو لوگ جانتے تھے وہ لوگ ان کا جواب دیتے ہوئے بطور مذاق کہتے: کیا آپ لوگوں نے رقیق العیش (خوشحال) کے بارے میں سنا ہے؟ وہ کہتے: ہاں۔ تو وہ کہتے: یہ وہی چیز ہے، اسی وجہ سے اس کا نام رقاق (پتلی روٹی) پڑ گیا۔ اور عرب اسے قری کہتے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 173)

جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ الیس سے فارغ ہوئے تو وہاں سے روانہ ہو کر امغیشیا پہنچے، وہاں کے لوگ اس کو جلدی ہی خالی کر کے سواد میں پھیل چکے تھے۔ آپؓ نے اس کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا، وہاں سے مسلمانوں کو بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا، جو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا تھا۔ شہسوار کا حصہ ڈیڑھ ہزار درہم تک پہنچا، علاوہ اس مال کے جو اچھی کارکردگی والوں کو ملا۔ جب خمس اور فتح کی خبر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو پہنچی اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کے عظیم کارنامے کا پتہ چلا تو آپؓ نے فرمایا: اے قریشیو! تمہارا شیر دشمن کے شیر پر ٹوٹ پڑا اور اس پر غالب آکر اس کا گوشت چھین لیا۔ کیا خواتین سیدنا خالدؓ جیسے مرد جننے سے عاجز آگئی ہیں؟

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 175)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فتح کی خبر بنو عجل کے ایک فرد جندل کے ذریعہ سے بھیجی تھی، وہ بڑا بہادر اور راستہ کا ماہر تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس خبر لے کر پہنچا۔ الیس کی فتح، مال غنیمت کی مقدار، قیدیوں کی تعداد، خمس میں جو حاصل ہوا اور اچھی کارکردگی پیش کرنے والوں کی خبر دی۔ جب وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور آپؓ نے اس کی بہادری اور خبر دینے میں ثابت قدمی دیکھی، پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ کہا: جندل۔ فرمایا: بہت خوب جندل۔

نَفْسُ عصامٍ سَوَّدَتْ عِصَامَا

وعوَّدَتْہُ الکرَّ والإقْدَامَا

ترجمہ: عصام کے نفس نے عصام کو سردار بنایا اور اس کو پینترا بدلنے اور آگے بڑھنے کا عادی بنا دیا۔

اور جندل کو قیدیوں میں سے ایک لونڈی دینے کا حکم فرمایا اور اس سے اس کی اولاد ہوئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 174)