عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے - دفاعِ اہلِ سنت…

عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

مسلمانوں کو اس معرکہ میں ہزار اونٹوں کے بوجھ برابر مال غنیمت ملا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حیرہ کے اطراف کے قلعوں کو فتح کرنے کے لیے فوجی دستے روانہ کیے، خوب مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت خالدؓ نے ان کسانوں سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جو آپؓ سے قتال کے لیے نہیں نکلے تھے۔ بلکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا اور ان کو ان کی زمینوں پر باقی رکھا کہ وہ اس کی کاشت کریں اور غلہ پیدا کریں اور انہیں ان کے عمل کا صلہ عطا کیا۔ جو لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ان کے لیے زکوٰۃ کا نصاب متعین کر دیا اور جو اپنے دین پر باقی رہے ان پر جزیہ عائد کیا۔ یہ اس سے کہیں کم تھا جو فارسی مالکان ان سے وصول کیا کرتے تھے۔ فارسی مالکان سے زمین نہیں چھینی لیکن ان زمینوں میں کام کرنے والوں کے ساتھ انصاف کیا۔ اس طرح لوگوں کو اس بات کا احساس ہوا کہ اس فتح کی برکت سے عدل اور انسانی بھائی چارگی کا نیا عنصر ان کی نگرانی کر رہا ہے۔ سیدنا خالدؓ نے مال غنیمت کا خمس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارسال فرمایا اور باقی مجاہدین کے مابین تقسیم کر دیا۔ جو مال غنیمت سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا، اس میں ہرمز کی ایک ٹوپی بھی تھی لیکن حضرت ابوبکر صديقؓ نے سيدنا خالد رضی اللہ عنہ کو ان کی اچھی خدمات کے صلے میں اسے ہدیہ میں دے دیا۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 131)

 اس کی قیمت ایک لاکھ تھی، اس پر جواہر جڑے ہوئے تھے۔ اہلِ فارس اپنی ٹوپیاں خاندان میں شرف و مقام کے اعتبار سے رکھتے تھے، جو شرف و منزلت میں کمال کو پہنچ چکا ہو اس کی ٹوپی کی قیمت ایک لاکھ ہوتی تھی اور ہرمز ان لوگوں میں سے تھا جو اہل فارس کے نزدیک شرف و منزلت میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 166)

(2) معرکہ مذار (ثني) ہرمز نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خط کو کسریٰ کے پاس روانہ کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں کسریٰ نے ہرمز کی مدد کے لیے قارن کی قیادت میں ایک فوج روانہ کی تھی لیکن ہرمز نے مسلم فوج کو معمولی سمجھا اور قارن کے پہنچنے سے پہلے ہی مسلمانوں سے ٹکرا گیا پھر تباہی و بربادی اس کی اور اس کی فوج کا مقدر قرار پائی اور شکست خوردہ لوگ بھاگ کر قارن سے جا ملے پھر آپس میں مل کر ایک دوسرے کو مسلمانوں سے قتال پر ابھارا اور مذار کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا۔ سیدنا خالدؓ نے مثنیٰ بن حارثہ اور ان کے بھائی معنیٰ کو ان کے پیچھے لگا رکھا تھا، انہوں نے بعض قلعہ فتح کیے اور جب ان دونوں کو فارسی فوج کے آنے کی خبر ملی تو فوراً حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو باخبر کیا اور سیدنا خالدؓ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فارسی فوج کی طرف کوچ کرنے کی اطلاع دی اور قتال کے لیے مستعد ہو کر روانہ ہوئے تاکہ دشمن اچانک حملہ نہ کر سکے۔ مذار کے مقام پر مسلمانوں کی فارسی فوج کے ساتھ مڈبھیڑ ہوئی۔ ذات السلاسل کی شکست کی وجہ سے فارسی فوج غصہ سے بھری ہوئی تھی۔ ان کا قائد قارن میدان میں اترا اور سیدنا خالدؓ کو دعوت مبارزت دی۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ میدان میں نکلے، لیکن آپؓ سے پہلے ہی معقل بن اعمش بن نباش نے اس کو قتل کر دیا۔ قارن نے اپنے میمنہ پر قباذ اور میسرہ پر انوشجان کو مقرر کر رکھا تھا۔ یہ دونوں ان قائدین میں سے تھے جو ذات السلاسل میں شریک تھے اور معرکہ سے فرار اختیار کر لیا تھا۔ ان دونوں کے مقابلہ میں دو مسلم بہادر ڈٹ گئے۔ قباذ کو تو سیدنا عدی بن حاتم طائیؓ نے قتل کیا اور انوشجان کو عاصم بن عمرو تمیمی نے قتل کر دیا اور طرفین سے گھمسان کی جنگ ہوئی اور فارسی فوج اپنے قائدین کے قتل کے بعد شکست خوردہ ہو گئی، ان میں سے تیس ہزار قتل ہوئے اور باقی کشتیوں پر سوار ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے اور پانی کی وجہ سے مسلمان ان کا پیچھا نہ کر سکے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مذار میں ٹھہر کر فارسی فوج سے چھینا ہوا سامان چھیننے والوں کے حوالے کر دیا، اور مال غنیمت تقسیم کیا اور جن لوگوں نے اس معرکہ میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی ان کو خمس میں سے عطا کیا اور باقی خمس مدینہ روانہ کر دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ، 168 التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 134)

صفحہ 2 از 4