عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے - دفاعِ اہلِ سنت…

عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

(3) معرکہ ولجہ: مذار میں فارسی فوج کی شکست کی خبر کسریٰ کو پہنچی، اس نے اندرزغر کی قیادت میں ایک عظیم فوج روانہ کی اور اس کے پیچھے بہمن جاذویہ کی قیادت میں دوسری فوج روانہ کی۔ اندرزغر مدائن سے چل کر کسکر پہنچا اور وہاں سے ہوتا ہوا ولجہ پہنچ گیا۔ ادھر بہمن جاذویہ وسط سواد سے ہو کر نکلا اس کا مقصد تھا کہ مسلم فوج کو اپنے اور اندرزغر کے درمیان گھیر لے اور راستہ میں بہت سے معاونین اور دہقانوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس طرح فارسی فوج ولجہ میں جمع ہو گئی اور جب اندرزغر کو یہ محسوس ہوا کہ اس کی فوج بہت بڑی ہو گئی ہے تو اس نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب سیدنا خالدؓ کو فارسی فوج کے ولجہ میں جمع ہونے کی خبر ملی، اس وقت آپؓ بصرہ کے قریب ثنی کے مقام پر تھے۔ آپؓ نے مناسب سمجھا کہ بہتر یہ ہے کہ فارسی فوج پر تین جہات سے حملہ کریں تا کہ ان کی جمعیت منتشر ہو جائے اور اس طرح اچانک حملہ سے فارسی فوج پریشانی کا شکار ہو جائے اور پھر آپؓ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے تیاری میں لگ گئے اور پیچھے کی دفاعی لائن کو مامون رکھنے کے لیے سوید بن مقرن کو حکم دیا کہ وہ حضیر میں کھڑے رہیں اور اپنی فوج لے کر خود ولجہ پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر اس علاقہ کا مکمل جائزہ لیا، آپؓ کو پتہ چلا کہ معرکہ کا میدان ہموار اور عمدہ ہے۔ قتال کے لیے مناسب ہے۔ اس میں آزادی سے نقل وحرکت کی جا سکتی ہے۔ آپؓ فارسی فوج پر تین جہات سے حملہ آور ہونے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ آپ نے اپنے اس منصوبہ کو نافذ کیا، دو دستوں کو پیچھے اور دونوں کناروں سے فارسی فوج پر حملہ کے لیے روانہ کیا۔ معرکہ شروع ہوا، طرفین سے گھمسان کی جنگ ہوئی، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے سامنے سے حملہ تیز کر دیا اور مناسب وقت پر گھات میں لگے ہوئے دونوں دستے پیچھے سے فارسی فوج پر ٹوٹ پڑے اور اس طرح دشمن کو شکست فاش کھانا پڑی اور اندرزغر اپنے کچھ فوجیوں کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا لیکن سب کے سب راستہ میں پیاس سے مر گئے۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 52 ابوبکر الصدیق: خالد الجنابی صفحہ 48)

اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو خطاب کیا، انہیں بلاد عجم کی طرف رغبت دلائی اور بلاد عرب سے بے رغبتی پر ابھارا، فرمایا: کیا ہم نہیں دیکھتے کہ یہاں انواع و اقسام کے وافر کھانے ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی راہ میں جہاد اور اسلام کی طرف دعوت ہم پر فرض نہ ہوتی، صرف معیشت پیش نظر ہوتی تب بھی عقلمندی یہی تھی کہ ہم اس سر زمین کو حاصل کرنے کے لیے قتال کرتے اور بھوک و پیاس کو ان لوگوں کے لیے پیچھے چھوڑ دیتے جو تمہارے ساتھ نکلنے کے لیے تیار نہ ہوئے اور بیٹھے رہے۔ پھر مال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے اور پانچواں حصہ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس روانہ کیا اور مقاتلین کے اہل و عیال کو گرفتار کیا اور کسانوں پر جزیہ لاگو کیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 350)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے خطاب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عرب جاہلیت میں تھے مزید برآں آخرت کے طلب گار نہ تھے لیکن وہ اپنے اختلاف اور آپسی جھگڑوں کی وجہ سے دنیا بھی حاصل نہ کر سکے۔ حضرت خالدؓ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم آخرت کے طلب گار ہیں، ہم انتہائی بلند مقاصد لے کر اٹھے ہیں اسی کے لیے دعوت دیتے ہیں اور اسی کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ بفرض محال اگر ہمارا مقصد یہ نہ ہو اور ہم اس کے لیے جہاد نہ کریں تو عقل کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی معیشت کو درست کرنے کے لیے قتال کریں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا یہ ذکر کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ آپؓ طلب معیشت کو اپنے عظیم مقصد کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں بلکہ آپؓ نے اسے فرضی حالت میں ذکر کیا ہے گویا آپؓ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان سے دنیا کی خاطر قتال کریں تو بھلا ہم آخرت کی خاطر اور اللہ کی رضا کے لیے قتال کیوں نہ کریں۔

اس کلام سے ہمتیں بڑھتی ہیں، عزم پختہ ہوتے ہیں، قلب کو زندگی ملتی اور طاقتیں جوش میں آتی ہیں اور پھر اہلِ ایمان اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اپنی پوری طاقت و قدرت اور اسباب کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 139)

ایک روایت میں ہے کہ معرکہ ولجہ میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اہلِ فارس میں سے ایک ایسے شخص سے مبارزت کی جو ہزار آدمیوں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ آپؓ نے اس کو قتل کر دیا اور جب قتل سے فارغ ہوئے تو اس پر ٹیک لگا لی اور اپنا کھانا منگوایا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 350)

حضرت سیف اللہ رضی اللہ عنہ کے اس عظیم تصرف میں فارس کی تذلیل، ان کے جبروت اور کبر و غرور کو توڑنا اور ان کے عزائم کو کمزور کرنا دیکھا جا سکتا ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 138)

صفحہ 3 از 4