عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے - دفاعِ اہلِ سنت…

عراق میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے معرکے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

(4) معرکہ أُلَّیس اور فتح امغیشیا: اس معرکہ میں بعض عرب نصاریٰ اہلِ فارس کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف فارسی فوج کے لیے معاؤن بنے، ان عربوں کا قائد عبد الاسد عجلی تھا اور فارسیوں کا قائد جابان تھا۔ اس کو بہمن جاذویہ نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ مسلمانوں سے اس وقت تک نہ ٹکرائے جب تک وہ پہل نہ کریں اور جب حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو عرب نصاریٰ اور حیرہ کے قرب وجوار کے عربوں کے جمع ہونے کی خبر ملی، تو آپ ان کی طرف روانہ ہو گئے۔ آپؓ کی توجہ ان پر حملہ کرنے کی طرف مرکوز تھی، آپؓ کو عربوں کے ساتھ فارسی فوج کے ضم ہو جانے کی خبر نہ تھی، جب مسلمانوں کی فوج پہنچی تو جابان نے اپنی فوج کو ان پر حملہ آور ہونے کا حکم دے دیا لیکن ان لوگوں نے سیدنا خالدؓ کو اہمیت نہ دی اور کھانے پر اکٹھے ہو گئے۔ مگر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو کھانے کا موقع نہ دیا اور گھمسان کی جنگ ہوئی۔ دشمن کی ہمت اس وجہ سے بڑھی کہ ان کو توقع تھی کہ بہمن جاذویہ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ ان سے ملنے والا ہے۔ مسلمان اس گھمسان کی جنگ میں ڈٹے رہے۔ سیدنا خالدؓ نے قسم کھاتے ہوئے کہا: اے اللہ! اگر تو نے ان کی مشکیں ہمارے حوالے کیں تو جو ہمارے قبضہ میں آئے گا اس کو باقی نہیں چھوڑیں گے، جب تک کہ ان کے خون سے ان کی ندیاں نہ بہا دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا کی اور ان کی مشکیں مسلمانوں کے حوالے کیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے: قید کرو قید کرو، صرف اسی کو قتل کرو جو اَڑ جائے۔ شہسوار، فوج کی فوج قیدیوں کو ہانکتے ہوئے لائے۔ حضرت خالدؓ نے کچھ لوگوں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان کی گردنیں مار مار کر دریا میں ڈالتے رہیں، ایک رات اور دن ایسا ہی کیا گیا۔ دوسرے دن اور تیسرے دن ان کو دوڑا دوڑا کر پکڑا گیا، یہاں تک کہ نہرین تک پہنچے اور اسی مسافت کی مقدار الیس کے چہار جانب ان کو دوڑا کر پکڑا گیا اور ان کی گردنیں قلم کی گئیں۔ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالدؓ سے کہا: اگر آپؓ پورے روئے زمین کے لوگوں کو قتل کر دیں تب بھی ان کا خون نہیں بہے گا۔ جب سے آپؓ نے دریا کو بہنے سے اور زمین کو خون جذب کرنے سے روک دیا ہے، ان کا خون منجمد ہوتا جا رہا ہے لہٰذا آپؓ اس پر پانی جاری کریں اور اپنی قسم پوری کریں۔ حضرت خالدؓ نے دریا کا پانی بند کر دیا تھا، دوبارہ اسے کھول دیا اور تازہ خون بہنے لگا، اسی وجہ سے اس کا نام نہر الدم (دریائے خون) پڑ گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 173)

جب دشمن کو شکست ہو گئی اور وہ معسکر چھوڑ کر بھاگ گئے اور مسلمان ان کی تلاش سے واپس آ گئے تو وہ ان کے معسکر میں داخل ہوئے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کھانے کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: میں تمہیں یہ دے رہا ہوں، یہ تمہارا ہے، اور فرمایا: رسول اللہﷺ جب پکے ہوئے کھانے کے پاس پہنچتے تو اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتے۔ مسلمان شام کا کھانا کھانے کے لیے بیٹھ گئے، جن حضرات نے انواع و اقسام کے کھانے نہیں دیکھے تھے اور پتلی روٹیاں نہیں جانتے تھے، کہنے لگے: یہ پتلی سفید کیا چیز ہے؟ جو لوگ جانتے تھے وہ لوگ ان کا جواب دیتے ہوئے بطور مذاق کہتے: کیا آپ لوگوں نے رقیق العیش (خوشحال) کے بارے میں سنا ہے؟ وہ کہتے: ہاں۔ تو وہ کہتے: یہ وہی چیز ہے، اسی وجہ سے اس کا نام رقاق (پتلی روٹی) پڑ گیا۔ اور عرب اسے قری کہتے تھے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 173)

جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ الیس سے فارغ ہوئے تو وہاں سے روانہ ہو کر امغیشیا پہنچے، وہاں کے لوگ اس کو جلدی ہی خالی کر کے سواد میں پھیل چکے تھے۔ آپؓ نے اس کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا، وہاں سے مسلمانوں کو بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا، جو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا تھا۔ شہسوار کا حصہ ڈیڑھ ہزار درہم تک پہنچا، علاوہ اس مال کے جو اچھی کارکردگی والوں کو ملا۔ جب خمس اور فتح کی خبر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو پہنچی اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کے عظیم کارنامے کا پتہ چلا تو آپؓ نے فرمایا: اے قریشیو! تمہارا شیر دشمن کے شیر پر ٹوٹ پڑا اور اس پر غالب آکر اس کا گوشت چھین لیا۔ کیا خواتین سیدنا خالدؓ جیسے مرد جننے سے عاجز آگئی ہیں؟

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 175)

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فتح کی خبر بنو عجل کے ایک فرد جندل کے ذریعہ سے بھیجی تھی، وہ بڑا بہادر اور راستہ کا ماہر تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ کے پاس خبر لے کر پہنچا۔ الیس کی فتح، مال غنیمت کی مقدار، قیدیوں کی تعداد، خمس میں جو حاصل ہوا اور اچھی کارکردگی پیش کرنے والوں کی خبر دی۔ جب وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور آپؓ نے اس کی بہادری اور خبر دینے میں ثابت قدمی دیکھی، پوچھا: تمہارا کیا نام ہے؟ کہا: جندل۔ فرمایا: بہت خوب جندل۔

نَفْسُ عصامٍ سَوَّدَتْ عِصَامَا

وعوَّدَتْہُ الکرَّ والإقْدَامَا

ترجمہ: عصام کے نفس نے عصام کو سردار بنایا اور اس کو پینترا بدلنے اور آگے بڑھنے کا عادی بنا دیا۔

اور جندل کو قیدیوں میں سے ایک لونڈی دینے کا حکم فرمایا اور اس سے اس کی اولاد ہوئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 174)


صفحہ 4 از 4