سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہاں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی شان میں جو یہ فرمایا: تمہارا شیر دشمن کے شیر پر ٹوٹ پڑا اور اس پر غالب آکر اس کا گوشت چھین لیا۔ کیا خواتین خالد جیسے مرد جننے سے عاجز آ گئی ہیں
علی محمد الصلابیحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہاں سیدنا خالدؓ کی شان میں جو یہ فرمایا: تمہارا شیر دشمن کے شیر پر ٹوٹ پڑا اور اس پر غالب آکر اس کا گوشت چھین لیا۔ کیا خواتین خالد جیسے مرد جننے سے عاجز آ گئی ہیں؟
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 175)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے لیے شرافت کا تمغا اور ان کی خدمات کا اعتراف ہے اور آزمائش میں اچھی کارکردگی دکھانے والے بلند ہمت اور اہل فضل کی شان کو بلند کرنا ہے اور کم ہمت لوگوں کو ابھارنا ہے تاکہ وہ اپنی کوششیں تیز تر کر دیں اور بلند امور اور مکارم کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کریں۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 144)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جو افراد کی سب سے زیادہ معرفت رکھتے تھے کا یہ کہنا سیدنا خالدؓ کے حق میں عظیم شہادت اور بڑا اعجاز ہے، جو اسلام کی تاریخ میں اس شخص کو حاصل ہوا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ جو مسلمانوں کے خلیفہ اعظم ہیں عبقریت اور شجاعت میں خالد کے ہم پلہ کسی کو نہیں سمجھتے تھے اور بہادری اور مہارت میں ان کو لاثانی جانتے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ کی طرف سے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
(سیدنا خالد بن الولیدؓ، صادق عرجون: صفحہ 216)
(5) فتح حیرہ: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے امغیشیا میں جو کچھ کیا اس کی خبر جب حیرہ کے حاکم کو پہنچی تو اس کو یقین ہو گیا کہ اب حضرت خالدؓ ضرور حیرہ کا رخ کریں گے۔ لہٰذا اس نے اس کے لیے تیاری کی اور اپنے بیٹے کی قیادت میں فوج بھیجی پھر خود بھی اس کے پیچھے روانہ ہوا اور بیٹے کو حکم دیا کہ فرات کو بند کر دو تا کہ مسلمانوں کی کشتیاں ناکارہ رہ جائیں۔ مسلمانوں کو اچانک اس کا سامنا کرنا پڑا، وہ اس صورت حال سے پریشان ہوئے، پھر کسانوں کو کہلا بھیجا کہ بند کا کھولنا ضروری ہے تاکہ پانی جاری ہو۔ اس موقع پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟
دیکھیے! سیدنا خالدؓ کچھ شہسواروں کے ساتھ حاکم حیرہ کے بیٹے کی طرف بڑھے، راستہ میں اس کے کچھ شہسوار ملے، ان پر حملہ کر کے ان کو موت کی نیند سلا دیا پھر حاکم تک خبر پہنچنے سے قبل روانہ ہو گئے اور فرات کے منہ پر اس کے بیٹے کی فوج سے مڈبھیڑ ہوئی اور ان سے قتال کر کے انہیں شکست دے دی پھر فرات کا پانی کھول دیا اور دریا میں پانی جاری ہوگیا۔ پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج طلب کر کے حیرہ کی طرف رخ کیا، حاکم حیرہ کو اس کے بیٹے کے مرنے کی اطلاع اور اردشیر کے مرنے کی خبر ملی، وہ خوف زدہ ہو کر فرات پار کر کے بھاگ کھڑا ہوا اور قتال کی تاب نہ لا سکا۔ حضرت خالدؓ نے اپنی جگہ فوج کو ٹھہرا دیا اور حیرہ کے لوگ قلعہ بند ہو گئے اور مندرجہ ذیل طریقہ سے حیرہ کے قصور و محلات کے محاصرہ کا منصوبہ مکمل ہوا:
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ قصر ابیض کے محاصرہ کے لیے، اس میں ایاس بن قبیصہ طائی پناہ گزیں تھا۔
حضرت ضرار بن خطابؓ قصر عدسیین کے محاصرہ کے لیے، اس میں عدی بن عدی عبادی پناہ گزیں تھا۔
سیدنا ضرار بن مقرن رضی اللہ عنہ قصر بنی مازن کے محاصرہ کے لیے، اس میں ابنِ اکال پناہ گزیں تھا۔
حضرت مثنیٰ بن حارثہؓ قصر ابن بقیلہ کے محاصرہ کے لیے، اس میں عمرو بن عبدالمسیح پناہ گزیں تھا۔
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے امراء کے نام یہ فرمان نامہ جاری کیا کہ وہ پہلے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو ان کے اسلام کو مان لیں اور اگر وہ انکار کریں تو انہیں ایک دن کی مہلت دیں اور انہیں حکم دیا کہ دشمن کو موقع نہ دیں بلکہ ان سے قتال کریں اور مسلمانوں کو دشمن سے قتال کرنے سے نہ روکیں۔ دشمن نے مقابلہ آرائی کو اختیار کیا اور مسلمانوں پر پتھر برسانا شروع کر دیے پھر مسلمانوں نے ان پر تیروں کی بارش کی اور ان پر ٹوٹ پڑے اور قصروں اور قلعوں کو فتح کر لیا۔ پادریوں نے آواز لگائی: اے قصر والو! ہمیں تمہارے سوا کوئی قتل نہ کرنے پائے۔ قصر والوں نے آواز دی: اے عربو! ہم نے تمہاری تین شرائط میں سے ایک کو قبول کر لیا ہے لہٰذا تم رک جاؤ۔ اور ان قصور کے سردار باہر نکلے پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ہر قصر والے سے الگ الگ ملاقات کی اور ان کے اس کرتوت پر ملامت کی۔ ان لوگوں نے جزیہ پر حضرت خالدؓ سے مصالحت کر لی اور ایک لاکھ نوے ہزار درہم سالانہ پر مصالحت ہوئی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فتح کی خبر اور تحفے اور ہدیے سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں روانہ کیے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہدیے قبول کرلیے اور آپؓ نے اہلِ حیرہ کے لیے جزیہ کو ان چیزوں سے بچاؤ کا ذریعہ شمار کیا جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی۔
(یعنی ظلم و زیادتی نہ ہونے پائے) (مترجم)
اور عجمی عادات کا خاتمہ تصور کیا جو لوگوں کے مال سلب کرنے کے لیے حیلہ سازی کرتے تھے۔
(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 348)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اہل حیرہ کے لیے اپنے عہد نامہ میں لکھا:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ عہد نامہ ہے جو سیدنا خالد بن ولیدؓ نے عدی، عمرو بن عدی، عمرو بن عبدالمسیح، ایاس بن قبیصہ اور حیری بن اکال سے کیا ہے۔ یہ حیرہ والوں کے سردار ہیں اور حیرہ والے اس معاہدہ سے راضی ہیں اور اس کا انہیں حکدنا دیا ہے اور ان سے ایک لاکھ نوے ہزار درہم پر معاہدہ کیا ہے، جو ہر سال ان سے اس حفاظت کے عوض وصول کیا جائے گا جو دنیاوی مال ومتاع ان کے قبضہ میں ہے، خواہ وہ راہب ہوں یا پادری لیکن جن کے پاس کچھ نہیں، دنیا سے الگ ہیں، اس کو چھوڑ چکے ہیں اور محفوظ ہیں اگر ان کی حفاظت کی ضرورت نہیں تو ان پر کوئی جزیہ نہیں، یہاں تک کہ ان کی حفاظت کی جائے اگر انہوں نے اپنے کسی فعل یا قول کے ذریعہ سے غداری کی تو ذمہ ان سے بری ہے۔
یہ معاہدہ ربیع الاوّل 12 ہجری میں لکھا گیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 181)
اور ایک روایت میں ہے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حیرہ والوں کو تین امور میں سے کسی ایک کو قبول کرنے کا اختیار دیا:
ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ، تمہیں وہی حقوق ملیں گے جو ہمارے ہیں اور تم پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہم پر ہیں، خواہ یہاں سے منتقل ہو جاؤ یا یہیں مقیم رہو، یا اپنے دین پر باقی رہتے ہوئے جزیہ ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ یا پھر مقابلہ اور قتال۔ اللہ کی قسم! میں ایسے لوگوں کو لایا ہوں جو موت کے اس سے زیادہ حریص ہیں جتنا تم زندگی کے حریص ہو۔
ان لوگوں نے جزیہ ادا کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا، تو حضرت خالدؓ نے فرمایا: تم برباد ہو، کفر گمراہ کن میدان ہے، اس کو اختیار کرنے والا عربوں میں سب سے بڑا احمق ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 178)
سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے بعض ایمانی صفات واضح ہوتی ہیں، جو عراق کو فتح کرنے والی اسلامی فوج کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ یہ فوج انتہائی بلند ترین مقاصد کے لیے حرکت کر رہی تھی اور وہ مقصد لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا اور انسانیت کو ہدایت کی تبلیغ کرنا تھا۔ ممالک میں وسعت، اپنا قبضہ جمانا اور دنیاوی زندگی سے لطف اندوز ہونا مقصود نہ تھا۔ اسی طرح حضرت خالدؓ نے یہ واضح فرمایا کہ ان جنگوں میں مسلمانوں کی کامیابی کا اہم سبب شہادت کی طلب اور آخرت میں اللہ کی نعمتوں اور اس کی رضا کی تلاش کا انتہائی درجہ حریص ہونا تھا۔ مذکورہ عبارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریمﷺ کی سنت کو نافذ کرنے کے انتہائی حریص تھے۔ انسانوں کی ہدایت کی دلی رغبت ان کے اندر پائی جاتی تھی چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جب انہیں کفر پر باقی رہ کر جزیہ ادا کرنے کا اختیار دیا تو ان کی توبیخ فرمائی حالانکہ جزیہ ادا کرنے میں مسلمانوں کے لیے مالی مصلحت تھی لیکن سیدنا خالدؓ تو اس قوم کے سپوت تھے جن کی نگاہوں میں دنیا کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ انہوں نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دے رکھی تھی۔ رسول اللہﷺ نے ان کے لیے یہ بلند ترین اصول وضع کرتے ہوئے فرمایا تھا:
لان یہدی اللہ بک رجلا واحدا خیرلک من حمر النعم۔
ترجمہ: اگر تمہارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹ سے بہتر ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 148)
(البخاری: المغازی صفحہ 4210)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اہل حیرہ کے ہدیہ کو قبول فرمایا، جو انہوں نے برضا و رغبت پیش کیا تھا، پھر آپؓ نے اس خوف سے کہ کہیں اہلِ ذمہ پر ظلم اور زیادتی نہ ہو جائے، ان کے ساتھ عدل کرتے ہوئے اس ہدیے کو جزیہ شمار کر لیا۔ سیدنا ابوبکرؓ کے اس مؤقف میں لوگوں کے لیے اقامت عدل کا عظیم درس ہے۔ علی طنطاوی نے اسلامی فتوحات اور یورپ کی استعماری فتوحات کے درمیان بہترین موازنہ پیش کرتے ہوئے شاعر کے اس قول سے استدلال کیا ہے:
مَلَکْنَا فکانَ الْعَدْلُ مَنَّا سجیَّۃً
فلمّا مَلَکْتُم سال بالدم ابطحُ
ترجمہ: ہمیں جب حکومت و سلطنت ملی تو ہم نے عدل و انصاف کو اپنا شیوہ بنایا اور جب تمہارے ہاتھ حکومت آئی تو خون کی ندیاں بہ گئیں۔
وحلَّلتُمْ فکان العدل منا سَجِیَّۃً
غَدَوْنَا علی الأسری نَمُنُّ ونَصْفَحُ
ترجمہ: اور جب تم ہمارے قبضے میں آئے تو ہم نے عدل و انصاف سے کام لیا اور قیدیوں پر احسان کر کے اور ان کو معاف کرنے لگے۔
فَحَسْبُکُمْ ہدا التَّفاوت بیننا
فکلُّ إِنائٍ بالَّذی فیہ یَنْضَحُ
ترجمہ: ہمارے اور تمہارے درمیان یہ فرق کافی ہے۔ ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔
(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: الطنطاوی صفحہ 33)
حیرہ؛ اسلامی فوج کا مرکز: فتح حیرہ عظیم جنگی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے مسلمانوں کی نگاہ میں فتح فارس کی امیدیں بڑھ گئیں، کیونکہ عراق اور فارسی سلطنت کے لیے جغرافیائی اور ادبی حیثیت سے اس شہر کی بڑی اہمیت تھی۔ اس کو اسلامی فوج کے سپہ سالار اعظم نے اپنا مرکز اور صدر مقام قرار دیا، جہاں سے اسلامی افواج کو ہجوم و دفاع اور نظم و امداد کے احکام جاری کیے جاتے تھے اور قیدیوں کے امور کے نظم و ضبط سے متعلق تدبیر و سیاست کا مرکز بنایا اور وہاں سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے خراج اور جزیہ کو وصول کرنے کے لیے مختلف صوبوں پر عامل مقرر کیے اور اسی طرح سرحدوں پر امراء مقرر کیے تاکہ دشمن سے حفاظت ہو سکے اور خود یہاں ٹھہر کر نظام امن و استقرار بحال کرنے میں لگ گئے۔ آپؓ کی خبریں جاگیر داروں اور سرداروں کو ملیں، وہ آپؓ سے مصالحت کے لیے آگے بڑھے۔ سواد عراق اور اس کے اطراف میں کوئی باقی نہ رہا، جس نے مسلمانوں کے ساتھ مصالحت یا معاہدہ نہ کر لیا ہو.
(سیدنا خالد بن ولیدؓ، صادق عرجون صفحہ 222)