سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہاں سیدنا خالد رضی اللہ…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہاں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی شان میں جو یہ فرمایا: تمہارا شیر دشمن کے شیر پر ٹوٹ پڑا اور اس پر غالب آکر اس کا گوشت چھین لیا۔ کیا خواتین خالد جیسے مرد جننے سے عاجز آ گئی ہیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ، تمہیں وہی حقوق ملیں گے جو ہمارے ہیں اور تم پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہم پر ہیں، خواہ یہاں سے منتقل ہو جاؤ یا یہیں مقیم رہو، یا اپنے دین پر باقی رہتے ہوئے جزیہ ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ یا پھر مقابلہ اور قتال۔ اللہ کی قسم! میں ایسے لوگوں کو لایا ہوں جو موت کے اس سے زیادہ حریص ہیں جتنا تم زندگی کے حریص ہو۔

ان لوگوں نے جزیہ ادا کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا، تو حضرت خالدؓ نے فرمایا: تم برباد ہو، کفر گمراہ کن میدان ہے، اس کو اختیار کرنے والا عربوں میں سب سے بڑا احمق ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 178)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے بعض ایمانی صفات واضح ہوتی ہیں، جو عراق کو فتح کرنے والی اسلامی فوج کے اندر بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔ یہ فوج انتہائی بلند ترین مقاصد کے لیے حرکت کر رہی تھی اور وہ مقصد لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا اور انسانیت کو ہدایت کی تبلیغ کرنا تھا۔ ممالک میں وسعت، اپنا قبضہ جمانا اور دنیاوی زندگی سے لطف اندوز ہونا مقصود نہ تھا۔ اسی طرح حضرت خالدؓ نے یہ واضح فرمایا کہ ان جنگوں میں مسلمانوں کی کامیابی کا اہم سبب شہادت کی طلب اور آخرت میں اللہ کی نعمتوں اور اس کی رضا کی تلاش کا انتہائی درجہ حریص ہونا تھا۔ مذکورہ عبارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریمﷺ کی سنت کو نافذ کرنے کے انتہائی حریص تھے۔ انسانوں کی ہدایت کی دلی رغبت ان کے اندر پائی جاتی تھی چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جب انہیں کفر پر باقی رہ کر جزیہ ادا کرنے کا اختیار دیا تو ان کی توبیخ فرمائی حالانکہ جزیہ ادا کرنے میں مسلمانوں کے لیے مالی مصلحت تھی لیکن سیدنا خالدؓ تو اس قوم کے سپوت تھے جن کی نگاہوں میں دنیا کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ انہوں نے آخرت کو دنیا پر ترجیح دے رکھی تھی۔ رسول اللہﷺ نے ان کے لیے یہ بلند ترین اصول وضع کرتے ہوئے فرمایا تھا:

لان یہدی اللہ بک رجلا واحدا خیرلک من حمر النعم۔

ترجمہ: اگر تمہارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹ سے بہتر ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 148)

(البخاری: المغازی صفحہ 4210)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اہل حیرہ کے ہدیہ کو قبول فرمایا، جو انہوں نے برضا و رغبت پیش کیا تھا، پھر آپؓ نے اس خوف سے کہ کہیں اہلِ ذمہ پر ظلم اور زیادتی نہ ہو جائے، ان کے ساتھ عدل کرتے ہوئے اس ہدیے کو جزیہ شمار کر لیا۔ سیدنا ابوبکرؓ کے اس مؤقف میں لوگوں کے لیے اقامت عدل کا عظیم درس ہے۔ علی طنطاوی نے اسلامی فتوحات اور یورپ کی استعماری فتوحات کے درمیان بہترین موازنہ پیش کرتے ہوئے شاعر کے اس قول سے استدلال کیا ہے:

مَلَکْنَا فکانَ الْعَدْلُ مَنَّا سجیَّۃً

فلمّا مَلَکْتُم سال بالدم ابطحُ

ترجمہ: ہمیں جب حکومت و سلطنت ملی تو ہم نے عدل و انصاف کو اپنا شیوہ بنایا اور جب تمہارے ہاتھ حکومت آئی تو خون کی ندیاں بہ گئیں۔

وحلَّلتُمْ فکان العدل منا سَجِیَّۃً

غَدَوْنَا علی الأسری نَمُنُّ ونَصْفَحُ

ترجمہ: اور جب تم ہمارے قبضے میں آئے تو ہم نے عدل و انصاف سے کام لیا اور قیدیوں پر احسان کر کے اور ان کو معاف کرنے لگے۔

فَحَسْبُکُمْ ہدا التَّفاوت بیننا

فکلُّ إِنائٍ بالَّذی فیہ یَنْضَحُ

ترجمہ: ہمارے اور تمہارے درمیان یہ فرق کافی ہے۔ ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: الطنطاوی صفحہ 33)

حیرہ؛ اسلامی فوج کا مرکز: فتح حیرہ عظیم جنگی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے مسلمانوں کی نگاہ میں فتح فارس کی امیدیں بڑھ گئیں، کیونکہ عراق اور فارسی سلطنت کے لیے جغرافیائی اور ادبی حیثیت سے اس شہر کی بڑی اہمیت تھی۔ اس کو اسلامی فوج کے سپہ سالار اعظم نے اپنا مرکز اور صدر مقام قرار دیا، جہاں سے اسلامی افواج کو ہجوم و دفاع اور نظم و امداد کے احکام جاری کیے جاتے تھے اور قیدیوں کے امور کے نظم و ضبط سے متعلق تدبیر و سیاست کا مرکز بنایا اور وہاں سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے خراج اور جزیہ کو وصول کرنے کے لیے مختلف صوبوں پر عامل مقرر کیے اور اسی طرح سرحدوں پر امراء مقرر کیے تاکہ دشمن سے حفاظت ہو سکے اور خود یہاں ٹھہر کر نظام امن و استقرار بحال کرنے میں لگ گئے۔ آپؓ کی خبریں جاگیر داروں اور سرداروں کو ملیں، وہ آپؓ سے مصالحت کے لیے آگے بڑھے۔ سواد عراق اور اس کے اطراف میں کوئی باقی نہ رہا، جس نے مسلمانوں کے ساتھ مصالحت یا معاہدہ نہ کر لیا ہو.

(سیدنا خالد بن ولیدؓ، صادق عرجون صفحہ 222)


صفحہ 2 از 2