Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف ان کو روانہ ہونے کا صدیقی فرمان

  علی محمد الصلابی

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فراض میں دس دن قیام کیا، پھر 25 ذوالقعدہ 12 ہجری کو لشکر کو حیرہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ عاصم بن عمرو کو مقدمہ میں چلنے کا حکم دیا اور شجرہ بن الاعز کو ساقہ میں رکھا اور ظاہر یہ کیا کہ وہ ساقہ کے ساتھ چل رہے ہیں لیکن انتہائی رازدارانہ طریقہ سے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حج کے لیے مسجد حرام کی طرف روانہ ہو گئے اور مکہ جانے کے لیے غیر معروف راستہ اختیار کیا، جس پر کبھی چلا نہیں گیا تھا۔ اس سلسلہ میں سیدنا خالدؓ کو ایسے حالات پیش آئے جیسے کسی کو کبھی پیش نہیں آئے تھے۔ سیدنا خالدؓ کنارے کنارے چل رہے تھے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے اور اس سال 12 ہجری کا حج آپ کو مل گیا اور پھر حج سے واپس ہو کر فوج کے حیرہ پہنچنے سے قبل اس سے جا ملے۔ اس کی خبر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نہ ہو سکی لیکن جب حجاج واپس ہوئے تو ان کے ذریعہ سے خبر ملی، فوج کا ساتھ چھوڑنے کی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ پر عتاب کرتے ہوئے خط تحریر کیا

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 357)

اور سیدنا خالدؓ کو شام جانے کا حکم دیا۔ اس خط میں سیدنا ابوبکرؓ نے لکھا:

’’تم یرموک میں اسلامی فوج سے جا ملو، وہ پھنسے ہوئے ہیں۔ خبردار! جیسا تم نے کیا ہے دوبارہ نہ کرنا، اور اللہ کے فضل سے وہ تمہاری طرح نہیں گھرے ہیں اور ان مشکلات سے تمہاری طرح کوئی نہیں نمٹ سکتا ہے۔ اے ابو سلیمان! اخلاص اور نصیب مبارک ہو، اپنی ذمہ داری پوری کرو، اللہ تمہارے لیے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ خود پسندی تمہیں لاحق نہ ہو، ایسی صورت میں تم کو نقصان اور رسوائی ہو گی۔ خبردار! تم اپنے کسی عمل کی وجہ سے احسان نہ جتلاؤ، حقیقت میں اللہ ہی احسان کرنے والا ہے اور وہی بدلہ دینے والا ہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 202)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کامیاب قائدین کا کس قدر خیال رکھتے تھے، انہیں مشوروں اور نصیحتوں سے نوازتے تھے، جس سے انہیں بفضلہ تعالیٰ کامیابی وکامرانی حاصل ہوتی تھی۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ عراق کو چھوڑ کر شام کا رخ کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں وہاں فتح سے نوازے۔

اس بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ وہ جو بغیر خلیفہ کی اجازت کے حج کے لیے روانہ ہو گئے تھے ایسی حرکت دوبارہ نہ کریں۔

انہیں حکم فرمایا کہ میانہ روی اور استقامت اختیار کریں اور نیت کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے کوشش میں لگے رہیں۔

انہیں خود پسندی اور فخر و غرور سے منع فرمایا، اس سے عمل فاسد ہو جاتا ہے اور اس کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔ احسان جتلانے سے منع فرمایا کیونکہ احسان کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، توفیق دینا اسی کے ہاتھ میں ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 295)

دشمن کے حملہ کو روکنا، قوت جمع کرنا، معنوی قوت اور فوج کے حوصلہ کو برقرار رکھنا، معلومات جمع کرنا، منصوبے تیار کرنا اور اس کو پوری قوت، باریک بینی اور نادر احتیاط کے ساتھ نافذ کرنا وغیرہ، جنگی اصول و مبادی میں اسلامی فوج کی مہارت اور قدرت، عراقی معرکوں سے بالکل نمایاں ہے۔ خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ فتوحات عراق میں وسیع تر تجربہ حاصل کرنے کے بعد رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے شام روانہ ہوئے تھے۔ اور عراق میں اسلامی افواج کی قیادت کے لیے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے بعد مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا گیا، جبکہ سرزمین عراق میں انہیں وسیع تر تجربہ اور ایرانیوں سے جنگ میں بڑی مہارت حاصل ہو چکی تھی۔ تاریخ کے قارئین کے سامنے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ عراق کی جنگ میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے جو منصوبے وضع کیے تھے ان کا اعتماد اولاً اللہ تعالیٰ پر اور پھر دقیق معلومات فراہم کرنے پر تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا خبر رسانی اور جاسوسی کا محکمہ انتہائی تیز تھا اور ظاہر ہے اس کی تنظیم اور ترتیب مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ جیسے نادر الوجود قائد نے کی ہو گی کیونکہ جہاں ایک طرف سیدنا ابوبکرؓ کے اندر انتظام وتربیت کی ماہرانہ صلاحیت پائی جاتی تھی، وہیں سیدنا ابوبکرؓ اس علاقہ سے بخوبی واقف تھے کیونکہ سیدنا ابوبکرؓ کا تعلق بنو شیبان سے تھا جو بنو بکر کی ایک شاخ ہے اور جو عراق کے سرحدی علاقہ میں فرات کے کنارے آباد تھے، اس کا سلسلہ ’’ہیت‘‘ تک پہنچتا ہے، یہ لوگ اپنی جائے اقامت اور روابط کی وجہ سے مخبری کے ماہر تھے اور جب بھی ایرانی فوج حرکت میں آتی اس کے حرکت میں آتے ہی مناسب وقت میں مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی زبان پر اس کی خبر جاری ہوتی۔ چھوٹی بڑی کوئی بھی بات کسریٰ کے ایوان سلطنت میں رونما ہوتی تو اس کا علم مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو اسی وقت ہو جاتا۔

(معارک خالد بن الولید ضد الفرس: صفحہ 134)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے نام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خط میں تھا:

’’عراق کو چھوڑ دو اور وہاں کی امارت اس شخص کے حوالے کر دو جو تمہارے وہاں پہنچنے سے پہلے وہاں کا امیر تھا۔ پھر تم ہمارے ان ساتھیوں میں سے جو یمامہ سے عراق تمہارے ساتھ گئے ہیں اور جو راستہ میں تمہارے ساتھ ہوئے ہیں اور جو حجاز سے تمہارے پاس پہنچے ہیں ان میں سے نصف کو اپنے ساتھ لے کر شام پہنچو اور ابوعبیدہ بن الجراحؓ اور ان کے ساتھیوں سے جا ملو اور جب تم ان کے پاس پہنچ جاؤ تو امیر جماعت تم ہو۔ والسلام علیک وحمۃ اللہ۔‘‘

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 129)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے شام روانہ ہونے کی تیاری مکمل کی اور فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ نصف کو اپنے ساتھ شام لے کر جانے کے لیے اور نصف عراق میں مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باقی رہنے کے لیے۔ البتہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے حصہ میں رکھا۔ مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کیا اور فرمایا: ’’سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فرمان پر جب تک مکمل عمل نہیں ہوگا میں راضی نہیں۔ نصف صحابہ کرامؓ کو اپنے ساتھ لے جائیں اور نصف کو ہمارے ساتھ چھوڑیں، واللہ انہی کے ذریعہ سے تو ہمیں فتح ونصرت کی امید ہے۔ تو آپ مجھے ان سے محروم نہ کریں۔‘‘

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خط سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو سفر کرنے سے قبل موصول ہوا، جس کے اندر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم فرمایا تھا کہ کس کو اپنے ساتھ لے جائیں اور کس کو مثنیٰ کے لیے چھوڑ جائیں۔ فرمایا: ’’اے خالد! جس طرح تم اپنے ساتھ مجد و بزرگی کے حاملین کو لے جاؤ ان کے لیے بھی مجد و بزرگی کے حاملین کو چھوڑ جاؤ اور جب اللہ تعالیٰ شام میں تمہیں فتح عطا کر دے تو تم انہیں واپس عراق لوٹا دو اور تم بھی ان کے ساتھ ہو لو، پھر تم اپنے کام پر لگ جاؤ۔ ‘‘

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 170)

اس طرح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ، مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو راضی کرنے میں برابر لگے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے عوض انہیں بہادر جنگجوؤں کو دیتے رہے جو شجاعت وصبر میں معروف تھے، آخرکار حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ راضی ہو گئے۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 170)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور خطرناک، لق ودق اور طویل و عریض صحرا کو پار کرتے ہوئے شام کی طرف چل پڑے، راستہ کے ماہرین سے دریافت کیا: وہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے کہ ہم رومی افواج کے پیچھے سے گذر جائیں؟ کیونکہ اگر ہمارا ان سے سامنا ہو گیا تو پھر ہم مسلمانوں کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکیں گے۔ انہوں نے بتلایا کہ ہمیں صرف ایک ہی راستہ معلوم ہے، فوج اس کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ تنہا مسافر کو بھی اپنی جان کا خطرہ رہتا ہے۔ آپ یہ راستہ گھوڑوں اور ساز وسامان کے ساتھ پار نہیں کر سکتے۔ پانچ راتوں تک پانی کا نام ونشان نہیں۔

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے لیے ضروری ہے کہ رومی فوج کے پیچھے سے نکلیں اور پھر سیدنا خالدؓ نے اس راستہ کو اختیار کرنے کا عزم کر لیا، خطرات جیسے بھی ہوں۔ اس موقع پر رافع بن عمیر نے مشورہ دیا: خوب زیادہ پانی اپنے ساتھ لے لیں کیونکہ اس راستہ میں پانی نہیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ پیاسے اونٹوں کے شکم میں پانی بھر لیں اور اونٹوں کے ہوٹ کاٹ دیں تاکہ جگالی کرکے پانی ختم نہ کر دیں۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 171)

اور اپنے ساتھیوں کو نصیحت کی کہ مسلمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اللہ کی مدد کے ہوتے ہوئے کسی چیز کی پروا کرے۔ 

(الحرب النفسیۃ، دیکھیے احمد نوفل: جلد 2 صفحہ 155)

رہنما رافع بن عمیر انہیں لے کر ایسے راستہ سے روانہ ہوئے جو انتہائی دشوار گزار، پانی کی قلت اور باشندگان کی کمی میں معروف تھا۔ خاص کر وہ حصہ جو قراقر سے سویٰ تک پھیلا ہوا ہے لیکن یہ سب سے کم مسافت کا راستہ تھا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کے سامنے اس راستہ کو اختیار کرنے کے وجوہ و اسباب واضح کر دیے کہ اس طرح جلدی اور پوری رازداری کے ساتھ اچانک منزل تک پہنچ جائیں گے۔ رافع نے خالد رضی اللہ عنہ سے بیس بڑی اونٹنیوں کو ان کے لیے تیار کرنے کا مطالبہ پہلے کر لیا تھا۔ ان کا یہ مطالبہ پورا کیا گیا، کچھ دنوں تک انہیں پانی دینا بند کر دیا، جب خوب پیاسی ہو گئیں تو انہیں پانی پلایا، انہوں نے پیٹ بھر لیے، پھر ان کے ہونٹ کاٹ دیے اور ان کے منہ پر تھوتھی چڑھا دی تاکہ جگالی نہ کر سکیں۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: اب آپ گھوڑوں اور سازوسامان لے کر روانہ ہوں اور راستہ میں جب کسی منزل پر قیام کریں تو ان اونٹنیوں میں سے ذبح کریں اور اس طرح لوگوں کو پانی حاصل ہوگا۔

یہ لشکر قراقر (قراقر: یہ سماوہ کے دیہات میں چشمہ کلب پر واقع ہے اور سوی سماوہ کے دیہات میں چشمہ ہراء پر واقع ہے۔ یاقوت، المعجم: ۳جلد 3 صفحہ 271، جلد 4 صفحہ 317) سے ہوتا ہوا روانہ ہوا، جو صحرا کے حدود پر عراق کی آخری بستی تھی۔ جہاں سے راستہ شام کی پہلی بستی سول کو پہنچتا تھا۔ ان دونوں بستیوں کے درمیان پانچ راتوں کی مسافت تھی۔ دن میں آرام کرتے اور رات میں چلتے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے رافع بن عمیر پر پوری تحقیق کے بعد اعتماد کیا تھا اور اسی طرح محرز المحاربی کو ساتھ لیا، جو ستاروں کا ماہر تھا۔ یہ لوگ رات اور صبح کے وقت چلتے اور جب سورج بلند ہو جاتا اور دوپہر کا وقت ہو جاتا تو ٹھہر جاتے تاکہ ایک دن میں دو منزلیں طے کر لیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی جسمانی حالت کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں پیدل چلنے سے روک دیا تھا اور اونٹوں پر سوار ہو کر سفر کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ راستہ میں جہاں منزل کرتے چند اونٹ ذبح کرتے اور ان کا پانی نکال کر گھوڑوں کو پلاتے اور لوگ اپنے ساتھ لائے ہوئے پانی کو استعمال کرتے۔ پانچویں دن پانی ختم ہو گیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے پیاسے رہنے کا خوف دامن گیر ہوا۔ رافع سے کہا: اس کا کیا حل ہے؟ رافع کو آشوب چشم کی شکایت تھی، انہوں نے لوگوں سے کہا: اس علاقہ میں عوسج کے ایک چھوٹے درخت کو تلاش کرو۔ تلاش کے بعد انہیں اس کے تنے کا چھوٹا سا حصہ ملا، رافع نے انہیں وہاں کھدائی کرنے کا حکم دیا، جب کھدائی کی گئی تو پانی کا چشمہ برآمد ہوا۔ لوگوں نے خوب سیراب ہو کر پانی نوش کیا اور اس کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ صحیح سالم منزل کو پہنچ گئے۔

(ابوبکر الصدیق: نزار الحدیثی: خالد الجنابی: صفحہ 68)

اس سفر کے دوران میں بعض عربوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: اگر تم فلاں درخت تک صبح تک پہنچ گئے تو تمہیں اور تمہاری فوج کو نجات مل گئی اور اگر نہ پہنچ سکے تو تم سب کے لیے ہلاکت ہے۔

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو لے کر اس تیزی سے چلے کہ صبح صبح اس درخت کے پاس پہنچ گئے، اس موقع پر خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: عند الصباح یحمد القوم السری 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 7)

’’رات کے وقت چلنے والوں کی صبح کے وقت تعریف کی جاتی ہے۔‘‘

اسے سب سے پہلے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا تھا جو بعد میں ضرب مثل کے طور پر استعمال ہونے لگا۔

اس سفر سے متعلق ایک شخص نے کیا خوب کہا ہے:

للّٰہ درُّ رافع أنّٰی اہتدیٰ

فَوَّزَ مِنْ قَرَاقِرٍ إِلی سُوَیٰ

’’رافع جاسوس کے کیا کہنے، اس نے کس طرح قراقر سے سویٰ تک راہ پائی۔

‘‘خمسًا اذا ما سَارَہا الجیشُ بَکٰی

ما سَارَہا قَبْلَکَ إِنسیٌّ یُدیٰ

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 7)

’’پانچ دن میں جب فوج چل چل کے رو پڑی، میرے خیال میں تم سے قبل کوئی انسان اس صحرا میں نہ چلا تھا۔‘‘

اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ جیسا تجربہ کار کمانڈر خطرات کی پروا نہیں کرتا۔ آپ نے صحرائی راستہ کو طے کرنے کے لیے پانی حاصل کرنے کے اسباب اختیار کیے اور اپنے مقصود کو پہنچ گئے اور لشکر خالد پانچویں دن مقام سویٰ پر پہنچ گیا، جو شام کی پہلی سرحد ہے اور رومی افواج کو پیچھے چھوڑ دیا، پانچ دن کے اندر صحرا کو طے کر لینا ایک عجوبہ تھا جب کہ یہ راستہ عجیب وغریب خطرات سے پر تھا لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ارادہ و ایمان اور عزم و اقدام نے اسے آسان بنا دیا

(معرکۃ الیرموک: اللِّواء خلیل سعید بحوالہ ابوبکر الصدیق: خالد الجنابی: صفحہ 28)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ شام کی ابتدائی حدود ’’اَدک‘‘ پہنچے، اس پر حملہ کر کے محاصرہ کر لیا، بذریعہ مصالحت اس کو آزاد کرا لیا، پھر تدمر کا رخ کیا، وہاں کے لوگ قلعہ بند ہو گئے، پھر امان کا مطالبہ کیا۔ سیدنا خالدؓ نے ان سے بھی مصالحت کر لی پھر وہاں سے روانہ ہو کر قریتین پہنچے اور ان سے قتال کیا اور فتح حاصل کی پھر حوارین کا رخ کیا اور ثنیہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں اپنا پرچم لہرایا، یہ پرچم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جس کا نام عقاب تھا۔ جس وجہ سے اس جگہ کا نام ’’ثنیۃ العقاب‘‘ پڑ گیا۔

(ابوبکر الصدیق: دیکھیے نزار الحدیثی: خالد الجنابی:  صفحہ 68)

اور جب عذراء سے سیدنا خالدؓ کا گذر ہوا تو اس کو زیر کیا اور غسان کا بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور دمشق کے مشرق سے نکلے اور بصریٰ پہنچ گئے۔ صحابہ کرامؓ وہاں جنگ میں مصروف تھے، بصریٰ کے حاکم نے مصالحت کر لی اور شہر مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ الحمد للہ یہ پہلا شہر تھا جسے شام میں مسلمانوں نے فتح کیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے غسان سے حاصل شدہ مال غنیمت کا خمس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، پھر خالد بن ولید، ابوعبیدہ بن جراح، مرثد اور شرحبیل رضی اللہ عنہم مل کر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جن کا رومی تعاقب کر رہے تھے، پھر معرکہ اجنادین پیش آیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6  صفحہ 77)

اس طرح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اسلامی فوج کی مدد کے لیے بڑی صعوبتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بہت جلد اور اچانک شام پہنچے، جو عسکری تاریخ میں ندرت کا حامل ہے۔ چنانچہ لواء محمود شیت خطاب کہتے ہیں: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا صحرا کو پر خطر راستہ سے پوری راز داری کے ساتھ اچانک تیزی سے پار کرنا عسکری تاریخ میں مجھے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور میں نہیں سمجھتا ہوں کہ ہنی بال اور نپولین کا ’’الپس‘‘ کو عبور کرنا اور اسی طرح نپولین کا صحرائے سینا کو پار کرنا اور برطانوی افواج کا پہلی جنگ عظیم میں اسے پار کرنا خالد رضی اللہ عنہ کے اس سفرکے مقابلہ میں کسی اہمیت کے حامل ہوں۔ پہاڑوں کو پار کرنا صحرا کو پار کرنے کے مقابلہ میں آسان ہے کیونکہ پہاڑی علاقوں میں جا بجا پانی میسر ہوتا ہے جبکہ صحرا میں یہ سہولت نہیں ہوتی اور اسی طرح صحرائے سینا میں جا بجا پانی کے چشمے اور آباد علاقہ موجود ہیں لیکن جس صحرا کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے طے کیا وہاں یہ سہولت نہ تھی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا صحرا کو پار کر لینا رومیوں کے لیے انتہائی حیران کن بات تھی جس کی وہ کبھی توقع نہیں کر سکتے تھے۔

(قادۃ فتح العراق والجزیرۃ: صفحہ 193، بحوالہ الحرب النفسیۃ: جلد 2 صفحہ 163)

اسی لیے عراق و شام کے درمیان جن شہروں اور مقامات سے سیدنا خالدؓ کا اچانک گذر ہوا وہ بغیر قتال یا معمولی قتال کے زیر ہوتے گئے اور انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے، ان کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ اس وقت اس طرح سے مسلمانوں کی اتنی عظیم قوت پہنچ جائے گی۔

(الحرب النفسیۃ: دیکھیے احمد نوفل: جلد 2 صفحہ 162)

تاریخ میں عسکری قائدین خالد رضی اللہ عنہ کی عسکری عبقریت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے چنانچہ جرمن جرنیل فنڈر گالٹیس ’’الأمَّۃ المسلَّحۃ‘‘ کا مؤلف اور پہلی جنگ عظیم میں جرمن اور ترک فوجی دستے کا ایک کمانڈر کہتا ہے کہ ’’خالد فنون حرب میں میرے استاد ہیں۔‘‘

(معارک خالد بن الولید ضد الفرس: صفحہ 167)