12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف…

12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف ان کو روانہ ہونے کا صدیقی فرمان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فراض میں دس دن قیام کیا، پھر 25 ذوالقعدہ 12 ہجری کو لشکر کو حیرہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ عاصم بن عمرو کو مقدمہ میں چلنے کا حکم دیا اور شجرہ بن الاعز کو ساقہ میں رکھا اور ظاہر یہ کیا کہ وہ ساقہ کے ساتھ چل رہے ہیں لیکن انتہائی رازدارانہ طریقہ سے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حج کے لیے مسجد حرام کی طرف روانہ ہو گئے اور مکہ جانے کے لیے غیر معروف راستہ اختیار کیا، جس پر کبھی چلا نہیں گیا تھا۔ اس سلسلہ میں سیدنا خالدؓ کو ایسے حالات پیش آئے جیسے کسی کو کبھی پیش نہیں آئے تھے۔ سیدنا خالدؓ کنارے کنارے چل رہے تھے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے اور اس سال 12 ہجری کا حج آپ کو مل گیا اور پھر حج سے واپس ہو کر فوج کے حیرہ پہنچنے سے قبل اس سے جا ملے۔ اس کی خبر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نہ ہو سکی لیکن جب حجاج واپس ہوئے تو ان کے ذریعہ سے خبر ملی، فوج کا ساتھ چھوڑنے کی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ پر عتاب کرتے ہوئے خط تحریر کیا

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 357)

اور سیدنا خالدؓ کو شام جانے کا حکم دیا۔ اس خط میں سیدنا ابوبکرؓ نے لکھا:

’’تم یرموک میں اسلامی فوج سے جا ملو، وہ پھنسے ہوئے ہیں۔ خبردار! جیسا تم نے کیا ہے دوبارہ نہ کرنا، اور اللہ کے فضل سے وہ تمہاری طرح نہیں گھرے ہیں اور ان مشکلات سے تمہاری طرح کوئی نہیں نمٹ سکتا ہے۔ اے ابو سلیمان! اخلاص اور نصیب مبارک ہو، اپنی ذمہ داری پوری کرو، اللہ تمہارے لیے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ خود پسندی تمہیں لاحق نہ ہو، ایسی صورت میں تم کو نقصان اور رسوائی ہو گی۔ خبردار! تم اپنے کسی عمل کی وجہ سے احسان نہ جتلاؤ، حقیقت میں اللہ ہی احسان کرنے والا ہے اور وہی بدلہ دینے والا ہے۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 202)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کامیاب قائدین کا کس قدر خیال رکھتے تھے، انہیں مشوروں اور نصیحتوں سے نوازتے تھے، جس سے انہیں بفضلہ تعالیٰ کامیابی وکامرانی حاصل ہوتی تھی۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیف اللہ خالد رضی اللہ عنہ کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ عراق کو چھوڑ کر شام کا رخ کریں۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں وہاں فتح سے نوازے۔

اس بات کی نصیحت کرتے ہیں کہ وہ جو بغیر خلیفہ کی اجازت کے حج کے لیے روانہ ہو گئے تھے ایسی حرکت دوبارہ نہ کریں۔

انہیں حکم فرمایا کہ میانہ روی اور استقامت اختیار کریں اور نیت کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے کوشش میں لگے رہیں۔

انہیں خود پسندی اور فخر و غرور سے منع فرمایا، اس سے عمل فاسد ہو جاتا ہے اور اس کے منہ پر مار دیا جاتا ہے۔ احسان جتلانے سے منع فرمایا کیونکہ احسان کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، توفیق دینا اسی کے ہاتھ میں ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 295)

دشمن کے حملہ کو روکنا، قوت جمع کرنا، معنوی قوت اور فوج کے حوصلہ کو برقرار رکھنا، معلومات جمع کرنا، منصوبے تیار کرنا اور اس کو پوری قوت، باریک بینی اور نادر احتیاط کے ساتھ نافذ کرنا وغیرہ، جنگی اصول و مبادی میں اسلامی فوج کی مہارت اور قدرت، عراقی معرکوں سے بالکل نمایاں ہے۔ خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ فتوحات عراق میں وسیع تر تجربہ حاصل کرنے کے بعد رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے شام روانہ ہوئے تھے۔ اور عراق میں اسلامی افواج کی قیادت کے لیے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے بعد مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا گیا، جبکہ سرزمین عراق میں انہیں وسیع تر تجربہ اور ایرانیوں سے جنگ میں بڑی مہارت حاصل ہو چکی تھی۔ تاریخ کے قارئین کے سامنے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ عراق کی جنگ میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے جو منصوبے وضع کیے تھے ان کا اعتماد اولاً اللہ تعالیٰ پر اور پھر دقیق معلومات فراہم کرنے پر تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا خبر رسانی اور جاسوسی کا محکمہ انتہائی تیز تھا اور ظاہر ہے اس کی تنظیم اور ترتیب مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ جیسے نادر الوجود قائد نے کی ہو گی کیونکہ جہاں ایک طرف سیدنا ابوبکرؓ کے اندر انتظام وتربیت کی ماہرانہ صلاحیت پائی جاتی تھی، وہیں سیدنا ابوبکرؓ اس علاقہ سے بخوبی واقف تھے کیونکہ سیدنا ابوبکرؓ کا تعلق بنو شیبان سے تھا جو بنو بکر کی ایک شاخ ہے اور جو عراق کے سرحدی علاقہ میں فرات کے کنارے آباد تھے، اس کا سلسلہ ’’ہیت‘‘ تک پہنچتا ہے، یہ لوگ اپنی جائے اقامت اور روابط کی وجہ سے مخبری کے ماہر تھے اور جب بھی ایرانی فوج حرکت میں آتی اس کے حرکت میں آتے ہی مناسب وقت میں مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی زبان پر اس کی خبر جاری ہوتی۔ چھوٹی بڑی کوئی بھی بات کسریٰ کے ایوان سلطنت میں رونما ہوتی تو اس کا علم مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو اسی وقت ہو جاتا۔

(معارک خالد بن الولید ضد الفرس: صفحہ 134)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے نام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خط میں تھا:

’’عراق کو چھوڑ دو اور وہاں کی امارت اس شخص کے حوالے کر دو جو تمہارے وہاں پہنچنے سے پہلے وہاں کا امیر تھا۔ پھر تم ہمارے ان ساتھیوں میں سے جو یمامہ سے عراق تمہارے ساتھ گئے ہیں اور جو راستہ میں تمہارے ساتھ ہوئے ہیں اور جو حجاز سے تمہارے پاس پہنچے ہیں ان میں سے نصف کو اپنے ساتھ لے کر شام پہنچو اور ابوعبیدہ بن الجراحؓ اور ان کے ساتھیوں سے جا ملو اور جب تم ان کے پاس پہنچ جاؤ تو امیر جماعت تم ہو۔ والسلام علیک وحمۃ اللہ۔‘‘

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 129)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے شام روانہ ہونے کی تیاری مکمل کی اور فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ نصف کو اپنے ساتھ شام لے کر جانے کے لیے اور نصف عراق میں مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ باقی رہنے کے لیے۔ البتہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے حصہ میں رکھا۔ مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کیا اور فرمایا: ’’سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فرمان پر جب تک مکمل عمل نہیں ہوگا میں راضی نہیں۔ نصف صحابہ کرامؓ کو اپنے ساتھ لے جائیں اور نصف کو ہمارے ساتھ چھوڑیں، واللہ انہی کے ذریعہ سے تو ہمیں فتح ونصرت کی امید ہے۔ تو آپ مجھے ان سے محروم نہ کریں۔‘‘

صفحہ 1 از 3