12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف…

12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف ان کو روانہ ہونے کا صدیقی فرمان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خط سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو سفر کرنے سے قبل موصول ہوا، جس کے اندر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم فرمایا تھا کہ کس کو اپنے ساتھ لے جائیں اور کس کو مثنیٰ کے لیے چھوڑ جائیں۔ فرمایا: ’’اے خالد! جس طرح تم اپنے ساتھ مجد و بزرگی کے حاملین کو لے جاؤ ان کے لیے بھی مجد و بزرگی کے حاملین کو چھوڑ جاؤ اور جب اللہ تعالیٰ شام میں تمہیں فتح عطا کر دے تو تم انہیں واپس عراق لوٹا دو اور تم بھی ان کے ساتھ ہو لو، پھر تم اپنے کام پر لگ جاؤ۔ ‘‘

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 170)

اس طرح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ، مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو راضی کرنے میں برابر لگے رہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے عوض انہیں بہادر جنگجوؤں کو دیتے رہے جو شجاعت وصبر میں معروف تھے، آخرکار حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ راضی ہو گئے۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 170)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کو جمع کیا اور خطرناک، لق ودق اور طویل و عریض صحرا کو پار کرتے ہوئے شام کی طرف چل پڑے، راستہ کے ماہرین سے دریافت کیا: وہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے کہ ہم رومی افواج کے پیچھے سے گذر جائیں؟ کیونکہ اگر ہمارا ان سے سامنا ہو گیا تو پھر ہم مسلمانوں کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکیں گے۔ انہوں نے بتلایا کہ ہمیں صرف ایک ہی راستہ معلوم ہے، فوج اس کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ تنہا مسافر کو بھی اپنی جان کا خطرہ رہتا ہے۔ آپ یہ راستہ گھوڑوں اور ساز وسامان کے ساتھ پار نہیں کر سکتے۔ پانچ راتوں تک پانی کا نام ونشان نہیں۔

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے لیے ضروری ہے کہ رومی فوج کے پیچھے سے نکلیں اور پھر سیدنا خالدؓ نے اس راستہ کو اختیار کرنے کا عزم کر لیا، خطرات جیسے بھی ہوں۔ اس موقع پر رافع بن عمیر نے مشورہ دیا: خوب زیادہ پانی اپنے ساتھ لے لیں کیونکہ اس راستہ میں پانی نہیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ وہ پیاسے اونٹوں کے شکم میں پانی بھر لیں اور اونٹوں کے ہوٹ کاٹ دیں تاکہ جگالی کرکے پانی ختم نہ کر دیں۔

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 171)

اور اپنے ساتھیوں کو نصیحت کی کہ مسلمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ اللہ کی مدد کے ہوتے ہوئے کسی چیز کی پروا کرے۔ 

(الحرب النفسیۃ، دیکھیے احمد نوفل: جلد 2 صفحہ 155)

رہنما رافع بن عمیر انہیں لے کر ایسے راستہ سے روانہ ہوئے جو انتہائی دشوار گزار، پانی کی قلت اور باشندگان کی کمی میں معروف تھا۔ خاص کر وہ حصہ جو قراقر سے سویٰ تک پھیلا ہوا ہے لیکن یہ سب سے کم مسافت کا راستہ تھا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کے سامنے اس راستہ کو اختیار کرنے کے وجوہ و اسباب واضح کر دیے کہ اس طرح جلدی اور پوری رازداری کے ساتھ اچانک منزل تک پہنچ جائیں گے۔ رافع نے خالد رضی اللہ عنہ سے بیس بڑی اونٹنیوں کو ان کے لیے تیار کرنے کا مطالبہ پہلے کر لیا تھا۔ ان کا یہ مطالبہ پورا کیا گیا، کچھ دنوں تک انہیں پانی دینا بند کر دیا، جب خوب پیاسی ہو گئیں تو انہیں پانی پلایا، انہوں نے پیٹ بھر لیے، پھر ان کے ہونٹ کاٹ دیے اور ان کے منہ پر تھوتھی چڑھا دی تاکہ جگالی نہ کر سکیں۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ سے کہا: اب آپ گھوڑوں اور سازوسامان لے کر روانہ ہوں اور راستہ میں جب کسی منزل پر قیام کریں تو ان اونٹنیوں میں سے ذبح کریں اور اس طرح لوگوں کو پانی حاصل ہوگا۔

یہ لشکر قراقر (قراقر: یہ سماوہ کے دیہات میں چشمہ کلب پر واقع ہے اور سوی سماوہ کے دیہات میں چشمہ ہراء پر واقع ہے۔ یاقوت، المعجم: ۳جلد 3 صفحہ 271، جلد 4 صفحہ 317) سے ہوتا ہوا روانہ ہوا، جو صحرا کے حدود پر عراق کی آخری بستی تھی۔ جہاں سے راستہ شام کی پہلی بستی سول کو پہنچتا تھا۔ ان دونوں بستیوں کے درمیان پانچ راتوں کی مسافت تھی۔ دن میں آرام کرتے اور رات میں چلتے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے رافع بن عمیر پر پوری تحقیق کے بعد اعتماد کیا تھا اور اسی طرح محرز المحاربی کو ساتھ لیا، جو ستاروں کا ماہر تھا۔ یہ لوگ رات اور صبح کے وقت چلتے اور جب سورج بلند ہو جاتا اور دوپہر کا وقت ہو جاتا تو ٹھہر جاتے تاکہ ایک دن میں دو منزلیں طے کر لیں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی جسمانی حالت کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں پیدل چلنے سے روک دیا تھا اور اونٹوں پر سوار ہو کر سفر کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ راستہ میں جہاں منزل کرتے چند اونٹ ذبح کرتے اور ان کا پانی نکال کر گھوڑوں کو پلاتے اور لوگ اپنے ساتھ لائے ہوئے پانی کو استعمال کرتے۔ پانچویں دن پانی ختم ہو گیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے پیاسے رہنے کا خوف دامن گیر ہوا۔ رافع سے کہا: اس کا کیا حل ہے؟ رافع کو آشوب چشم کی شکایت تھی، انہوں نے لوگوں سے کہا: اس علاقہ میں عوسج کے ایک چھوٹے درخت کو تلاش کرو۔ تلاش کے بعد انہیں اس کے تنے کا چھوٹا سا حصہ ملا، رافع نے انہیں وہاں کھدائی کرنے کا حکم دیا، جب کھدائی کی گئی تو پانی کا چشمہ برآمد ہوا۔ لوگوں نے خوب سیراب ہو کر پانی نوش کیا اور اس کے بعد سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ صحیح سالم منزل کو پہنچ گئے۔

(ابوبکر الصدیق: نزار الحدیثی: خالد الجنابی: صفحہ 68)

اس سفر کے دوران میں بعض عربوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تھا: اگر تم فلاں درخت تک صبح تک پہنچ گئے تو تمہیں اور تمہاری فوج کو نجات مل گئی اور اگر نہ پہنچ سکے تو تم سب کے لیے ہلاکت ہے۔

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو لے کر اس تیزی سے چلے کہ صبح صبح اس درخت کے پاس پہنچ گئے، اس موقع پر خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: عند الصباح یحمد القوم السری 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 7)

’’رات کے وقت چلنے والوں کی صبح کے وقت تعریف کی جاتی ہے۔‘‘

اسے سب سے پہلے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا تھا جو بعد میں ضرب مثل کے طور پر استعمال ہونے لگا۔

اس سفر سے متعلق ایک شخص نے کیا خوب کہا ہے:

للّٰہ درُّ رافع أنّٰی اہتدیٰ

فَوَّزَ مِنْ قَرَاقِرٍ إِلی سُوَیٰ

’’رافع جاسوس کے کیا کہنے، اس نے کس طرح قراقر سے سویٰ تک راہ پائی۔

‘‘خمسًا اذا ما سَارَہا الجیشُ بَکٰی

ما سَارَہا قَبْلَکَ إِنسیٌّ یُدیٰ

صفحہ 2 از 3