12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف…

12 ہجری میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا حج اور شام کی طرف ان کو روانہ ہونے کا صدیقی فرمان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 7)

’’پانچ دن میں جب فوج چل چل کے رو پڑی، میرے خیال میں تم سے قبل کوئی انسان اس صحرا میں نہ چلا تھا۔‘‘

اس واقعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ جیسا تجربہ کار کمانڈر خطرات کی پروا نہیں کرتا۔ آپ نے صحرائی راستہ کو طے کرنے کے لیے پانی حاصل کرنے کے اسباب اختیار کیے اور اپنے مقصود کو پہنچ گئے اور لشکر خالد پانچویں دن مقام سویٰ پر پہنچ گیا، جو شام کی پہلی سرحد ہے اور رومی افواج کو پیچھے چھوڑ دیا، پانچ دن کے اندر صحرا کو طے کر لینا ایک عجوبہ تھا جب کہ یہ راستہ عجیب وغریب خطرات سے پر تھا لیکن سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے ارادہ و ایمان اور عزم و اقدام نے اسے آسان بنا دیا

(معرکۃ الیرموک: اللِّواء خلیل سعید بحوالہ ابوبکر الصدیق: خالد الجنابی: صفحہ 28)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ شام کی ابتدائی حدود ’’اَدک‘‘ پہنچے، اس پر حملہ کر کے محاصرہ کر لیا، بذریعہ مصالحت اس کو آزاد کرا لیا، پھر تدمر کا رخ کیا، وہاں کے لوگ قلعہ بند ہو گئے، پھر امان کا مطالبہ کیا۔ سیدنا خالدؓ نے ان سے بھی مصالحت کر لی پھر وہاں سے روانہ ہو کر قریتین پہنچے اور ان سے قتال کیا اور فتح حاصل کی پھر حوارین کا رخ کیا اور ثنیہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں اپنا پرچم لہرایا، یہ پرچم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جس کا نام عقاب تھا۔ جس وجہ سے اس جگہ کا نام ’’ثنیۃ العقاب‘‘ پڑ گیا۔

(ابوبکر الصدیق: دیکھیے نزار الحدیثی: خالد الجنابی:  صفحہ 68)

اور جب عذراء سے سیدنا خالدؓ کا گذر ہوا تو اس کو زیر کیا اور غسان کا بہت سا مال غنیمت حاصل کیا اور دمشق کے مشرق سے نکلے اور بصریٰ پہنچ گئے۔ صحابہ کرامؓ وہاں جنگ میں مصروف تھے، بصریٰ کے حاکم نے مصالحت کر لی اور شہر مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ الحمد للہ یہ پہلا شہر تھا جسے شام میں مسلمانوں نے فتح کیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے غسان سے حاصل شدہ مال غنیمت کا خمس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، پھر خالد بن ولید، ابوعبیدہ بن جراح، مرثد اور شرحبیل رضی اللہ عنہم مل کر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جن کا رومی تعاقب کر رہے تھے، پھر معرکہ اجنادین پیش آیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6  صفحہ 77)

اس طرح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اسلامی فوج کی مدد کے لیے بڑی صعوبتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بہت جلد اور اچانک شام پہنچے، جو عسکری تاریخ میں ندرت کا حامل ہے۔ چنانچہ لواء محمود شیت خطاب کہتے ہیں: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا صحرا کو پر خطر راستہ سے پوری راز داری کے ساتھ اچانک تیزی سے پار کرنا عسکری تاریخ میں مجھے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور میں نہیں سمجھتا ہوں کہ ہنی بال اور نپولین کا ’’الپس‘‘ کو عبور کرنا اور اسی طرح نپولین کا صحرائے سینا کو پار کرنا اور برطانوی افواج کا پہلی جنگ عظیم میں اسے پار کرنا خالد رضی اللہ عنہ کے اس سفرکے مقابلہ میں کسی اہمیت کے حامل ہوں۔ پہاڑوں کو پار کرنا صحرا کو پار کرنے کے مقابلہ میں آسان ہے کیونکہ پہاڑی علاقوں میں جا بجا پانی میسر ہوتا ہے جبکہ صحرا میں یہ سہولت نہیں ہوتی اور اسی طرح صحرائے سینا میں جا بجا پانی کے چشمے اور آباد علاقہ موجود ہیں لیکن جس صحرا کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے طے کیا وہاں یہ سہولت نہ تھی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا صحرا کو پار کر لینا رومیوں کے لیے انتہائی حیران کن بات تھی جس کی وہ کبھی توقع نہیں کر سکتے تھے۔

(قادۃ فتح العراق والجزیرۃ: صفحہ 193، بحوالہ الحرب النفسیۃ: جلد 2 صفحہ 163)

اسی لیے عراق و شام کے درمیان جن شہروں اور مقامات سے سیدنا خالدؓ کا اچانک گذر ہوا وہ بغیر قتال یا معمولی قتال کے زیر ہوتے گئے اور انہوں نے گھٹنے ٹیک دیے، ان کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ اس وقت اس طرح سے مسلمانوں کی اتنی عظیم قوت پہنچ جائے گی۔

(الحرب النفسیۃ: دیکھیے احمد نوفل: جلد 2 صفحہ 162)

تاریخ میں عسکری قائدین خالد رضی اللہ عنہ کی عسکری عبقریت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے چنانچہ جرمن جرنیل فنڈر گالٹیس ’’الأمَّۃ المسلَّحۃ‘‘ کا مؤلف اور پہلی جنگ عظیم میں جرمن اور ترک فوجی دستے کا ایک کمانڈر کہتا ہے کہ ’’خالد فنون حرب میں میرے استاد ہیں۔‘‘

(معارک خالد بن الولید ضد الفرس: صفحہ 167)



صفحہ 3 از 3