فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 12

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام 

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ علم الکلام کی اصل و اساس ہیں ۔ آپ کے خطبات سے لوگوں نے علم الکلام حاصل کیا۔ لہٰذا لوگ اس فن میں آپ کے شاگرد ہیں ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:ہم کہتے ہیں : یہ جھوٹ ہے؛ علاوہ ازیں اس میں فخر کی کوئی بات نہیں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس علم الکلام سے پاک رکھا تھا جوکہ کتاب و سنت کی تصریحات کے منافی ہے۔ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو حدوثِ اجسام سے حدوث عالم پر استدلال کرتا ہو۔ نیز حدوثِ اجسام کو اعراض اور حرکت و سکون کی دلیل سے ثابت کرتا اور کہتا ہو کہ اجسام اس کو مستلزم ہیں ۔اس سے علیحدہ نہیں ہوسکتے۔اورجس سے پہلے کوئی حوادث نہ گزر ہوں وہ خود حادث ہے۔اور اس پر ان حوادث کی بنیاد رکھتے ہیں جن کی کوئی انتہاء ہی نہیں ۔ بخلاف ازیں پہلی مرتبہ اس کا اظہار پہلی صدی کے بعد جعد بن درہم اور جہم بن صفوان کی طرف سے ہوا۔ پھر عمرو بن عبید اور[ واصل بن عطاء]ابوہذیل العلاف اور ان کے امثال نے اس میں حصہ لیا۔عمرو بن عبید اور واصل بن عطاء ان دونوں نے جب انفاذ و عیدمیں علم کلام کا اظہار کیا کرتے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جو انسان جہنم میں داخل ہوگیا تو پھر وہ وہاں سے کبھی بھی نہیں نکلے گا۔ اور تقدیر کا انکار کرنے لگے۔ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پاک رکھا تھا۔

جو خطبات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہیں ، ان میں معتزلہ کے اصول خمسہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جو بھی باتیں منقول ہیں ‘ وہ سب آپ پر جھوٹ ہیں ۔ متقدمین معتزلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تعظیم نہیں کیا کرتے تھے، بلکہ ان میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عدالت و ثقاہت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ جنگ جمل کے لڑنے والوں کے بارے میں وہ کہا کرتے تھے:

’’فریقین میں سے ایک فاسق ہے، مگر متعین طور پر یہ نہیں معلوم کہ وہ کون ہے۔‘‘یا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں یا پھر حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما ۔اور جب ان میں سے کوئی ایک گواہی دے تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔ جب کہ اکیلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گواہی کے بارے میں ان کے دو قول ہیں ۔ یہ قول عمرو بن عبید اور ان جیسے دوسرے معتزلہ کے ہاں معروف ہے۔‘‘[ابن طاہر بغدادی اپنی کتاب ’’ اصول الدین ‘‘ص ۲۹۰ میں فرماتے ہیں :واصل بن عطاء ‘ عمرو بن عبید اور نظام اور اکثر قدریہ کہتے ہیں کہ : ہم انفرادی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور انکے اصحاب سے محبت کرتے ہیں ؛ اور طلحہ و زبیر اوران کے متبعین سے بھی انفرادی طور پر ولاء کااظہار کرتے ہیں ۔اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کیساتھ انکی جماعت کا ایک آدمی گواہی دے تو اس کی گواہی مان لیں گے ‘اورایسے ہی طلحہ و زبیر کے ساتھ بھی اگر ان کی جماعت کا کوئی آدمی گواہی دیدے تو ہم مان لیں گے۔ لیکن اگر طلحہ اور علی رضی اللہ عنہما اکیلے باگلے کی ایک بالی پر بھی گواہی دیں تو تب بھی اسے نہیں مانیں گے۔ اس لیے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک فاسق ہے۔ فاسق دائمی جہنمی ہوتا ہے ‘وہ نہ ہی مومن ہے او رنہ ہی کافر۔دیکھیں : ابو الحسن أشعری کی کتاب : مقالات اسلامیین ۲؍۱۴۵۔]

متأخرین شیعہ کے برعکس تمام متقدمین شیعہ ہاشمی اور دوسرے لوگ ؛صفات الٰہی اور مسئلہ تقدیر کے قائل تھے۔ متاخرین شیعہ نے صراحت کے ساتھ تجسیم کے عقیدہ کا اظہار کیا تھا؛ اور اس بارے میں ان سے انتہائی برے اقوال نقل کیے گئے ہیں ۔جب کہ ان کا دعوی ہے کہ انہوں نے یہ عقیدہ اہل بیت سے اخذ کیا ہے۔ [علامہ اشعری نے اپنی کتاب ’’ مقالات الاسلامیین ‘‘ ۱؍۱۰۶میں مسئلہ تجسیم میں روافض کے عقائد ذکر کیے ہیں اورانہیں چھ اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ پھر ان کے بارے میں کہاہے : ’’ توحید میں یہ لوگ معتزلہ اور خوارج کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔یہ ان کے متأخرین شیعہ کا عقیدہ ہے۔ جب کہ ان کے اولین تشبیہ کا عقیدہ رکھتے تھے۔ جب کہ اعمال العباد کے بارے میں ایک گروہ ہشام بن حکم کا عقیدہ رکھتا ہے کہ انسان کی افعال ایک طرح سے اختیاری ہیں اور ایک طرح سے اضطراری ۔ اور دوسرا گروہ جہمیہ کا عقیدہ رکھتا ہے کہ : اعمال میں کوئی جبر نہیں ؛ اور نہ ہی تفویض ہے جیسے کہ معتزلہ کا عقیدہ ہے ۔جب کہ تیسرے گروہ کا عقیدہ ہے کہ اعمال اللہ تعالیٰ کی مخلوق نہیں ہیں ۔یہ لوگ معتزلی بھی ہیں اور امامت کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں ۔]

امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے جب پوچھا گیا کہ: قرآن خالق ہے یا مخلوق ؟ تو انھوں نے فرمایا:

’’وہ نہ ہی خالق ہے اور نہ ہی مخلوق؛ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ اللہ کا کلام ہے۔‘‘

[واصل بن عطاء اور محمد بن حنفیہ کی شاگردی]

رہا رافضی کا یہ قول کہ : ’’ واصل بن عطاء نے ابو ہاشم بن محمد بن الحنفیہ سے علم حاصل کیا تھا۔‘‘

[اس کا جواب یہ ہے کہ]: اس میں کوئی شک نہیں کہ حسن بن محمد بن حنفیہ [حسن بن محمد بن حنفیہ نے سب سے پہلے مسئلہ ارجاء پر کتاب لکھ کر قدریہ وغیرہ کا رد کیا ہے۔ [سزکین م۱؍ج۴؍ص ۱۵]۔ ]نے معتزلہ کے قول کے برعکس ’’ارجاء ‘‘ کے مسئلہ پر ایک کتاب تالیف کی تھی۔کئی اہل علم نے اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ یہ اس معتزلی مذہب سے متناقض ہے ؛ جس کا اظہار واصل بن عطاء کیا کرتا تھا۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ :اس نے ابو ہاشم سے علم حاصل کیا تھا۔[ابو ہاشم عبداللہ بن محمدبن علی بن ابی طالب۔ ابن حجر رحمہ اللہ تہذیب التہذیب ۶؍۱۶ پر آپ کے حالات زندگی تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : امام زہری فرماتے ہیں :’’ عبد اللہ اور حسن دونوں محمد بن علی [المعروف ابن حنفیہ ] کے بیٹے ہیں ۔ان دونوں میں سے حسن زیادہ ثقہ راوی تھا۔ ابو اسامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ ان میں سے ایک مرجئی تھا او ردوسرا شیعہ ۔‘‘ اور ابن حجر نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ : حضرت زبیر فرماتے ہیں :’’ ابو ہاشم شیعوں کا ساتھی تھا۔‘‘ اور یہ بھی کہاہے کہ : ’’ عبداللہ سبائیت کی روایات جمع کیا کرتا تھا۔‘‘]

صفحہ 1 از 12