فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 12

اس کا بیان تین طرح سے ہے :پہلی وجہ :یہ کہاجائے گا کہ لفظ موجود بھی لفظ حقیقت اور لفظ ماہیت اور لفظ ذات اورنفس کی طرح ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ وجود واجب و ممکن یاقدیم اور محدث میں تقسیم ہوتا ہے۔ یہ تمہارے اس قول کی منزلت پرہے کہ:حقیقت بھی واجب اورممکن یا قدیم اور محدث میں تقسیم ہوتی ہے۔ یا پھر آپ یوں کہہ لیں کہ ذات بھی ان ہی اقسام میں تقسیم ہوتی ہے۔اور ماہیت کی بھی تقسیم ایسے ہی ہوتی ہے۔ اور اس طرح کے دیگر عام اسما کا بھی یہی حال ہے۔ اور جیسا کہ یہ کہہ دیں : چیز واجب اور ممکن اورقدیم اور حادث میں تقسیم ہوتی ہے۔

پس اس صورت میں جب آپ یہ کہیں گے کہ یہ دونوں وجود یا وجوب میں مشترک ہیں تو ان میں سے ایک اپنی ماہیت یا حقیقت کے اعتبار سے دوسرے سے جداگانہ ہوگا تواسکی منزلت بھی یہی ہوگی؛گویاکہ یوں کہا جائے: یہ دونوں ماہیت اورحقیقت میں مشترک ہیں ۔ اور ان میں سے ایک دوسرے وجوب یا وجود کی وجہ سے جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ اور اگر آپ یہ کہیں کہ یہ دونوں وجود عام کلی میں مشترک ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی اپنی خاص حقیقت ہے۔

تو اس کے جواب میں کہا جائے گاکہ : ایسے ہی یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ :بیشک یہ دونوں اپنی عام کلی حقیقت میں مشترک ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنے خاص وجود کے ساتھ جدا اور ممتاز ہے۔ پس اس صورت میں جس چیز کو آپ کلی عام قراردیتے ہوں جیساکہ جنس و عرض عام اور جس چیز کو آپ خاص ممیز جزئی قراردیتے ہو۔ جیسا کہ فصل اور خاصیت۔لیکن آپ نے عموم وخصوص میں دو متساوی چیزوں کا ارادہ کیا ہے۔اور ایک کو آپ نے حال عموم میں مقدر مانا ہے اوردوسری کوحال خصوص میں ۔ یہ سب آپ کی بنائی ہوئی تقدیریں اور قیاسات ہیں ۔ وگرنہ ان میں سے ہر ایک میں اسے ہی تقدیر ممکن ہے جیسے کہ دوسری چیز میں آپ نے مقرر کی ہے۔اور نفس امر میں ان میں سے ہر عموم و خصوص میں اور مشترک اور ممیز ہونے میں دوسری چیز کے برابر ہے۔ تو اس صورت میں تمہارے بنائے ہوئے جنس اورعرض عام اور فصل اور خاص میں حقیقت میں کوئی فرق نہیں ۔ سوائے اس کے کہ تم متساوین میں سے ایک کو عام قرار دیتے ہو اور دوسرے کو خاص۔

دوسری وجہ:....ان سے کہا جائے کہ :جب آپ کہتے ہیں : دو موجود مسمی وجود میں مشترک ہیں ۔ تو اس صورت میں ان میں کسی ایک کا دوسرے سے کسی امر کی بنا پر ممتاز ہونا لازمی ہے۔

اس کے جواب میں آپ سے کہا جائے گا کہ: ممیز کے لیے اس کا خاص وجود ہوتا ہے۔ تو پھر آپ نے یوں کیوں کہا: کہ یہ مسمی کے وجود سے خارج میں ایک چیز ہوتی ہے تاکہ تم ایک دوسری حقیقت ثابت کرسکو۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے ہم نے کہا ہے :دو انسان مسمی انسانیت میں مشترک ہیں ۔ مگر ان میں سے ایک اپنی کسی خصوصیت کی وجہ سے دوسرے سے ممتاز اورجدا ہے۔تو اس ممتاز کی اپنی انسانیت ہے جو اس کے ساتھ خاص ہے۔تو اس کے لیے یہ حاجت نہیں ہے کہ ممیز کو غیر کو انسانیت قرار دیا جائے جس سے انسانیت کا اعراض ہوتا ہے۔لیکن ان لوگوں کا خیال ہے کہ کلی میں مشترک انواع میں دوسرے مواد کے بغیر جدائی وفصل ممکن نہیں ۔ اس جگہ پر اہل منطق کی ان غلطیوں پر بڑا طویل کلام ہے جو انہوں نے کلیات اور تقسیم کلیات ترکیب حدود ذاتیات اور دوسرے امور میں قیاس کے مواد اور یقینی اور غیر یقینی چیزوں میں کی ہیں ۔ یہ تمام باتیں دوسرے مواقع پر درج ہیں ۔

تیسری وجہ:....ان سے کہا جائے کہ: جب ہم کہتے ہیں : دو موجود مسمی وجود میں مشترک ہیں ۔ اور ان میں سے ایک کا کسی چیز کی وجہ سے دوسرے سے ممتاز و جدا ہونا ضروری ہے۔ تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ یہ کسی ایسی چیز میں مشترک ہیں جو کہ بعینہ خارج میں بھی موجود ہے۔ بلاشبہ ایسا ہونا ممتنع ہے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ا س جہت سے یہ دونوں آپ میں موافق اور متشابہ ہیں ۔

نفس مشترک فیہ صرف ذہن میں مشترک ہوتا ہے خارج میں نہیں ۔ وگرنہ نفس وجود میں ان کا اشتراک نہ ہوتا۔ پس اس لیے جب ہم کہتے ہیں کہ لفظ وجود عام کلی اور متشکک الفاظ میں سے اور اس کے معانی میں تفاضل پایا جاتا ہے۔ مگر ان کے اصل مسمی میں اتفاق کے باوجود مماثلت نہیں پائی جاتی۔ جیسا کہ لفظ سفید۔ برف کی سفیدی بہت زیادہ ہوتی ہے کہ برص کی سفیدی اس سے کم ہوتی ہے ۔یہی حال کالے رنگ کا بھی ہوتا ہے۔ کوے میں کالا رنگ زیادہ ہوتا ہے اور حبشی میں کم ہوتا ہے۔ اور یہی حال لفظ بلند کا بھی ہے۔ چھت بھی بلند ہوتی ہے اور آسمان بھی بلند ہوتا ہے۔ مگر دونوں کی بلندی میں بہت بڑا فرق ہے۔ اور لفظ واسع کا اطلاق سمندرپر بھی ہوتا ہے اور بڑے گھر کو بھی واسع کہتے ہیں ۔ایسے ہی وجود کا لفظ بذات خود واجب الوجود کے لیے بھی بولا جاتا ہے اور دوسرے کی وجہ سے ممکن الوجود پر بھی بولا جاتا ہے۔ بذات خود قائم پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور دوسرے کی وجہ سے قائم پر بھی۔اور قدیم پہلی کے چاند کو بھی کہتے ہیں اور اسے بھی کہتے ہیں جس کی کوئی ابتدا ہی نہیں ہو۔ اور محدث اس کو بھی کہتے ہیں جو آج ہی کے دن ایجاد کرلیا گیا ہو اور اسے بھی کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن عدم سے وجود بخشا ہو۔ اور لفظ حی انسان حیوان اورنباتات ے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اور اس حیی وقیوم کے لیے بھی بولا جاتا ہے جسے کبھی بھی موت نہیں آئے گی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی مخلوقات کے ان ہی اسماء سے بہت بلند و بالا ہیں ۔جیسا کہ الملک؛ السمیع البصیر العلیم؛ الخبیر اور اس طرح کے دیگر اسماء کا شمار بھی اسی باب میں ہوتا ہے۔

صفحہ 10 از 12