فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 12

جب یہ کہا جائے کہ: تمام عام الفاظ اور تمام عام معانی-خواہ وہ متماثل ہوں یا متفاضل- بیشک جن کے افراد آپس میں ایک دوسرے کے شریک یا موافق ہوتے ہیں ۔ اس میں کہیں بھی یہ نہیں آیا کہ خارج میں عام کا کوئی ایسا معنی ہے جو کہ عام ہے۔ اس لیے کہ لفظ عام اور اس کا معنی خود مشترک ہیں ۔بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض معین موجودات اس عام میں مشترک ہیں ۔ اور یہ عام صرف عالم کے علم میں ہوتا ہے۔جیسا کہ لفظ عام صرف بولنے والے کے الفاظ میں عام ہوتا ہے۔اور عام خط صرف کاتب کے خط میں ہی عام ہوسکتا ہے۔اس کے عام ہونے سے مراد بیرونی افراد کے لیے اس کا شامل ہونا ہے۔ نہ یہ کہ بذات خود موجود چیز خود اس کے ساتھ بھی متعین ہوگی اور خود ہی اس کے ساتھ بھی متعین ہوگی۔ اس لیے کہ بلاریب یہ بات حس اور عقل کے خلاف ہے۔

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ ابن سینا کا مذہب یہ ہے کہ اپنی ذات کے لیے واجب الوجود ہی تمام ثبوتی امور کے سلب کے ساتھ مقید ہوتا ہے۔سلب النقیضین یا امساک عن النقیضین کے ساتھ مقید کرنے سے نہیں ہوتا۔جیسا کہ قرامطہ میں سے سجستانی اور اس کے امثال نے کیا ہے۔ابن سینا نے ان کے قول :وجود مقید کو یوں تعبیر کیا ہے کہ حقائق یا ماہیات میں سے کوئی بھی چیز سے سامنا نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ ان کا اعتقاد ہے کہ وجود ممکنات سے سامنا کرسکتا ہے۔یہی ان کا قول ہے کہ واجب کا وجود خود اس کی ماہیت ہے۔

جمہور اہل سنت یہی کہتے ہیں ۔لیکن ان دونوں کے مابین فرق یہ ہے کہ ان کے نزدیک وجود مطلق جو کہ سلب ماہیات کے ساتھ مشروط ہوتو اس کی کوئی ماہیت وجود مقید سلبی کے علاوہ نہیں ہوتی۔

جب کہ انبیاء علیہم السلام اوران کے ماننے والے تمام عقلاء جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت اسی کے ساتھ خاص ہے اور موجود بھی ہے؛ مگر مخلوقات میں سے کسی بھی حقیقت کے متماثل نہیں ۔معتزلہ اور ان سے موافقت رکھنے والے ایک گروہ کا کہنا ہے :’’یہ حقیقت اپنی اصل حقیقت پر زائد وجود کے ساتھ موجود ہے۔‘‘

جب کہ جمہور کہتے ہیں : خارج میں مخلوق حقائق کی بھی وہی حقیقت ہے جو کہ موجود کی حقیقت ہے۔ان دونوں کے مابین فرق یہاں سے پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک کو ذہنی قراردیا جائے اور دوسرے کو خارجی۔جب حقیقت یا ماہیت کو اس چیز کا نام قراردیا جائے جو ذہن میں موجود ہے۔یہ خارج میں موجود چیز سے ہٹ کرہوتی ہے۔ اور جب یہ کہا جائے کہ’’الوجود الذہنی‘‘ تواس سے مراد ذہنی ماہیت ہوتی ہے۔ اورجب کہاجائے :خارجی ماہیت تو اس سے مراد خارجی وجود ہوتاہے۔اگر جب مخلوق میں ایسا جائز ہے تو خالق میں بالاولی جائز ہے۔ 

ابن سینا کے مذہب کا فاسد ہونا مکمل تصورکے بعد عقلی ضرورت کے تحت معلوم شدہ ہے۔ اس لیے کہ جب دو مودجود مسمی وجود میں مشترک ہوں اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے مجرد سلب کے علاوہ کسی وجہ سے ممیز نہ ہو کیونکہ بلاشبہ نفس الامر خالی عدم محض ہونے سے دو مشترکین میں تمیز کا سبب نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے کہ عدم محض کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ اور جو خود کچھ بھی نہ ہو اس کی وجہ سے نفس الامر میں امتیاز ممکن نہیں ہوتا۔ اور دو موجود چیزوں کے مابین فاصل جو کہ ان دومیں سے کسی ایک کے ساتھ خاص ہوصرف امر ثبوتی یا متضمن بالامر ثبوتی ہی ہوسکتا ہے۔یہ بات ان کے ہاں منطق میں طے شدہ ہے۔ سو پھر اللہ سبحانہ وتعالی رب کائنات کا وجود وجود ممکنات کے ساتھ مسمی وجود میں کیسے مماثل ہوسکتا ہے؟ اورعدم محض کے علاوہ کسی امر ثبوتی کی بنا پر مخلوقات سے ممتاز نہیں ہوسکتا۔

بلکہ اس تقدیر کی بنا پر جس بھی موجود کو مقدر مانا جائے وہ اس موجود سے زیادہ کامل ہوگا۔ اس لیے کہ وہ موجود ان کے نزدیک اپنے وجود میں امر ثبوتی کے ساتھ مختص ہے۔ جب کہ ان کے نزدیک یہ بھی ہے کہ واجب الوجود مسمی الوجود میں مماثلت کے باوجود محض امر عدمی کے ساتھ ہی مختص ہوسکتا ہے۔یہ قول ہر ممکن الوجود کی واجب الوجود کے ساتھ مماثلت فی الوجود کو مستلزم ہے۔ اور ان سے اس کا امتیاز صرف امور ثبوتیہ کے سلب کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ جب کہ کمال تووجود میں ہوتا ہے عدم میں نہیں ہوتا۔ پھر عدم محض میں توکوئی کمال ہے ہی نہیں ۔ سو اس بنا پر وہ ممکنات سے صرف تمام کمالات کے سلب کی وجہ سے ہی ممتاز ہوگا جب کہ ممکنات اس سے تمام کمالات کے اثبات کی بنا پر ممتاز ہونگی ۔یہ ممکنات کی کمال اور وجود میں تعظیم کی آخری حد ہوگی جس میں واجب الوجود نقص اور عدم سے موصوف ہوگا۔

نیز یہ وجود جو کہ اپنے غیر سے صرف عدمی امور کی بنا پر ممتاز ہوتا ہے خارج میں اس کا وجود ناممکن ہوگا۔ بلکہ ذہن کے بغیر اس کا امکان بھی نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ جب یہ ساری موجودات کے ساتھ مسمی وجود میں شریک ہے تو یہ کلی ہوا۔ اور وجود کلی صرف ذہن میں ہوسکتا ہے خارج میں نہیں ۔ نیز یہ کہ محض عدمی امور خارج میں ان کے ثبوت کو واجب نہیں کرتے۔ اس لیے کہ جو کچھ ذہن میں ہوتا ہے وہ خارجی حقائق کے سلب ہونے سے سلب خارج کا زیادہ حق دار تھا اگرچہ خارج میں یہ ممکن بھی ہوتاتو پھر اس وقت کیا عالم ہوگا جب کہ یہ ممتنع ہو۔

پس جب کلی صرف ذہن میں ہی ہوتا ہے۔اور عدمی قیود اس کو کلی ہونے سے خارج نہیں کرسکتی تو ثابت ہوا کہ خارج میں بھی یہ نہ ہو ۔مزید برآں کہ جوکچھ خارج میں ہے وہ صرف معین ہی ہوسکتا ہے۔ اس کا اپنا وجود ہے جو اس کے ساتھ خاص ہے۔ جو اس طرح نہ ہو وہ صرف ذہن میں ہی ہوسکتاہے۔ پس ان تین وجوہات اور دیگر وجوہ کی بنا پر ثابت ہوا کہ اس نے جو کچھ واجب الوجود کے متعلق ذکر کیا ہے وہ صرف ذہن میں متحقق ہوسکتا ہے خارج میں نہیں ۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو اسے امور عدمیہ کے ساتھ مقید کرتے ہیں ۔

صفحہ 11 از 12