فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 12

ان کا ایک تیسرا قول بھی ہے:وجود مطلق شرط اطلاق کے بغیر جسے یہ کلی طبیعی کا نام دیتے ہیں خارج میں اس کا وجود صرف معین طور پر ہی ہوسکتا ہے۔ یہ قول بھی اپنے سے پہلے دو اقوال کی جنس سے ہے۔ ان میں سے بعض خیال کرتے ہیں کہ خارج میں وہ ثابت ہوتاہے۔ اوروہ معینات کا ایک جز ہے۔پس اس صورت میں ہرمبدع واجب الوجود یا تو مخلوقات کے ساتھ قائم عرض ہوگا یا پھر ان میں سے ایک جز ہوگا۔ پھر یہ واجب عرض میں ممکن کا محتاج ہوگا یا اس میں سے ایک جز کا۔ جیسے حیوانات میں حیوانیت کی منزلت ہوتی ہے۔ یہ خود حیوانات کی خالق نہیں ۔ اور نہ ہی انسانیت انسان کو پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ کسی چیز کے جز یا عرض کا اس چیزکا خالق ہونا ممکن نہیں ۔ بلکہ خالق اس سے جدا اور منفصل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جز اور عرض اس(اصل چیز) میں داخل ہوتے ہیں ۔ داخل چیزکے لیے اپنے کل کاخلق اور مبدع ہونے ممکن نہیں ہوتا۔

یہ لوگ جو کچھ اللہ رب العالمین کی صفات بیان کرتے ہیں ان کی موجودگی میں اس کے لیے ممتنع ہے کہ وہ موجودات میں سے کسی ایک چیز کا خالق ہو چہ جائے کہ وہ تمام مخلوقات کا خالق ہو؛ ان امور کی مکمل تفصیل دوسری جگہ پر موجود ہے ۔

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ ان ملاحدہ کے عقیدہ کی حقیقت خالق کا انکار کرنا نبوت کی حقیقت معاد اور شرائع کا انکار کرنا ہے۔ اس چیز کو یہ لوگ موالا ت علی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس عقیدہ پر تھے۔ جیسا کہ قدریہ جہمیہ اور رافضہ دعوی کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے عقیدہ پر تھے۔ اوریہ عقیدہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ماخوذ ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں باطل اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹا الزام ہیں ۔


صفحہ 12 از 12