فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 12

اس ابو ہاشم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس نے ایک کتاب تصنیف کی تھی جس پر انکار کیا گیا ؛نہ ہی اس کے بھائیوں نے اس پر موافقت کی اور نہ ہی اہل بیت نے۔اورنہ ہی اس نے اپنے والد سے علم حاصل کیا تھا۔

خواہ کچھ بھی ہو‘ وہ کتاب جو حسن کی طرف منسوب کی گئی ہے وہ اس کتاب کے متناقض ہے جو ابو ہاشم کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ :اس نے اس کتاب سے رجوع کرلیا تھا۔ اور یہ بات ممتنع ہے کہ ان دونوں نے یہ متناقض علوم اپنے والد محمدبن الحنفیہ سے حاصل کیے ہوں ۔ محمد کی طرف ان دومیں سے ایک کتاب کی نسب زیادہ مناسب ہے۔ پس اس سے قطعی طور پر یہ باطل ثابت ہوگیا محمد بن حنفیہ ایک ہی وقت میں دو مختلف عقائد کے قائل نہیں ہوسکتے۔ بلکہ یہ بات دو ٹوک اور قطعی یقینی ہے کہ محمد مرجئہ کے عقیدہ سے برأت کے ساتھ ساتھ معتزلہ کے عقیدہ سے بھی اس سے بڑھ کر بری ہیں ۔اور ان کے والدحضرت علی رضی اللہ عنہ مرجئہ اورمعتزلہ سے اس سے بڑھ کر بری ہیں ۔

جب کہ ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ علی جبائی کے شاگرد تھے؛ مگر انھوں نے جبائی کو چھوڑ دیا تھا ؛ اور اس کے مذہب سے جملہ طور پر رجوع کرلیا تھا۔ اگرچہ آپ کے ہاں ان کے مذہب کے اصولوں کی کچھ بقایا رہ گئی تھیں ۔لیکن آپ نے نفی صفات کے مسئلہ میں ان کی مخالفت کی ؛ اور ابن کلاب کے مذہب پر گامزن ہوگئے۔ اور قدر‘ ایمان اوراسماء و احکام کے مسائل میں ان کی مخالفت کی؛اورحسین بن نجار اورضرار بن عمرو کے رد سے بڑھ کر ان کارد کیا؛ حالانکہ یہ دونوں حضرات اس باب میں جمہور فقہاء اور جمہور محدثین کی طرح متوسط شمار کیے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ اس مسئلہ میں جہم کے عقیدہ کی طرف مائل ہوگئے ‘ مگر وعید کے مسئلہ پر ان کی مخالفت کی۔ پھر اہل سنت و الجماعت کا مذہب اختیار کیا اور اپنے آپ کو اہل سنت و محدثین کے مذہب کی طرف منسوب کرنے لگے جیسے احمد بن حنبل اور ان کے امثال رحمہم اللہ ؛ اور اسی عقیدہ کی مناسبت سے لوگوں میں مشہور بھی ہوئے۔آپ کے مذہب میں سے جس قدر عقیدہ کی تعریف کی گئی ہے ‘ وہ وہی ہے جو اہل سنت محدثین کے موافق ہے ؛ جیساکہ جامع جملے ۔اورجس قدر عقیدہ کی مذمت کی گئی ہے ؛ وہ جو مخالفین محدثین اہل سنت معتزلہ ‘ مرجئہ اور جہمیہ و قدریہ کے مذہب کے موافق ہے۔

آپ نے بصرہ میں زکریا بن یحییٰ ساجی[ابو یحییٰ زکریا بن یحییٰ بن عبدالرحمن بن محمد بن الضبي البصری الساجي اپنے زمانہ میں بصرہ کے سب سے بڑے محدث تھے۔حافظ اور ثقہ تھے۔ ۲۲۰ہجری میں پیدا ہوئے ۳۰۷ہجری میں وفات پائی ۔ الاعلام ۳؍۸۱۔ ] سے حدیث و سنت کا علم حاصل کرنا شروع کیا تھا۔پھر بغداد میں امام احمد حنبل رحمہ اللہ کے اصحاب اور دوسرے لوگوں سے علم حاصل کیا۔ امام اشعری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب’’ مقالات الاسلامیین‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ اہل سنت والجماعت محدثین کے مشرب و مسلک پر ہیں اور کہا ہے : ’’ہم نے جتنے بھی اعتقادات ذکر کیے ہیں ہم بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور اس مذہب پر عمل پیرا ہیں ۔‘‘

یہ مذہب جہمیہ اور قدریہ کے مذہب سے بہت دور ہے۔

[ معجون مرکب شیعہ مذہب]:

جب کہ رافضہ شیعہ-جیسا کہ ابن مطہر اوراس کے امثال متاخرین امامیہ -کا مذہب ایک اچھا خاصہ معجون مرکب ہے۔ انکار صفات باری میں انھوں نے جہمیہ کا مذہب اختیار کیاہے۔ افعال العباد کے مسئلہ میں وہ قدریہ کے پیرو ہیں ۔ امامت و تفضیل کے مسائل میں وہ روافض کے زاویہ نگاہ کے متبع ہیں ۔ اس سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ علم کلام آپ پر صاف جھوٹ ہے؛مزید براں اس میں مدح کاکوئی عنصرشامل نہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ پر عظیم ترین افتراء تویہ ہے کہ قرامطہ و اسماعیلیہ اپنے عقائد و افکار کوآپ کی جانب منسوب کرتے اور کہتے ہیں کہ آپ کو باطنی علم دیا گیا تھا؛ جو کہ علم ظاہر کے خلاف تھا۔صحیح سند کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:’’اس ذات کی قسم جس نے نباتات کو اگایا اور سب مخلوقات کو پیدا کیا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسا کوئی عہد نہیں لیا جو باقی لوگوں سے نہ لیا ہو۔سوائے اس کے جو کچھ آپ نے فرمایا تھا وہ میرے اس صحیفہ میں درج ہے۔اس کتاب میں :دیت‘قیدیوں کی رہائی کامسئلہ تھا اوریہ کہ کافر کے بدلہ میں مسلمان کوقتل نہیں کیا جائے گا؛ البتہ اللہتعالیٰ اگر اپنے کسی بندے کو کتاب اللہ کا فہم عطا کردے تو وہ ایک الگ بات ہے۔‘‘[البخاری ۔ کتاب الجہاد۔ باب فکاک الاسیر(ح:۳۰۴۷)،مسلم، کتاب الحج، باب فضل المدینۃ (ح:۱۳۷۰)۔الترمذي کتاب الدیات ‘باب: ماجاء لا یقتل مسلم بکافر۔]

صفحہ 2 از 12