فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 12

اب لوگوں میں سے بعض ’’الحوادث ‘‘کو آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘اور بعض دوسرے’’ جفر ‘‘کو۔کچھ دوسرے ’’بطاقہ ‘‘ اور دیگر علوم کو آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جن کے بارے میں یہ بات یقینی علم کیساتھ معلوم ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان سے بری ہیں ۔ ایسے ہی حضرت جعفر صادق پر اتنے جھوٹ باندھے گئے ہیں جن کی حقیقت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کی طرف علم نجوم کے احکام ‘رعود ‘ بروق اور قرعہ منسوب کیے گئے ہیں جو حقیقت میں پانسہ بازی کی ہی ایک قسم ہے۔ آپ کی طرف ’’منافع سورالقرآ ن ‘‘ نامی کتاب بھی منسوب کی گئی ہے۔ اوران کے علاوہ بھی دیگر بہت ساری چیزیں ہیں جن کے بارے میں علماء جانتے ہیں کہ حضرت جعفر رحمہ اللہ اس سے بری ہیں ۔ یہاں تک کہ آپ کی طرف مختلف انواع کی تفسیر بھی منسوب کی گئی ہے جو کہ باطنیہ کے طریقہ پر ہے۔ جیسا کہ ابو عبد الرحمن سلمی نے اپنی کتاب ’’حقائق التفسیر‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ اور اس نے وہاں پر اس تفسیر کے کچھ قطعات بھی بطور نمونہ ذکر کیے ہیں ۔یہ حقیقت میں کلمات قرآن میں تحریف؛اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو تبدیل کرناہے۔ آپ کے علوم کی معرفت رکھنے والا ہر انسان جانتا ہے کہ آپ ان اقوال و عقائداورکتاب اللہ کی تفسیر میں جھوٹ سے بری تھے۔ او رایسے ہی بعض لوگوں نے آپ کی طرف ایک اور کتاب بھی منسوب کی ہے جسے ’’رسائل إخوان الکدر‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے دو سو سال بعد سے زیادہ عرصہ بعد لکھی گئی ہے۔ جعفر صادق کا انتقال سن ایک سو اڑتالیس ہجری میں ہوا ہے۔ او ریہ کتاب ’’عبیدی باطنی اسماعیلی ‘‘دور حکومت میں اس وقت لکھی گئی جب یہ لوگ مصر پر غالب آگئے اور قاہرہ شہر آباد کیا۔ یہ ایسے لوگوں کی تصنیف ہے کہ فلسفہ و شریعت اور شیعیت کو ایک ہی جگہ جمع کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ ان عبیدیوں کا مسلک تھا۔ جن کا دعوی تھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد ہیں ۔ نسب کے ماہرین اہل علم جانتے ہیں کہ یہ نسب باطل[اور جھوٹ] ہے۔

جب کہ ان کا دادا ظاہری اور باطنی طور پر یہودی تھا؛ان کا سوتیلادادا مجوس میں سے تھا۔ اس نے ایک یہودیہ عورت سے شادی کرلی تھی۔یہ ان کا یہودی دادا اس مجوسی کے پاس لے پالک تھا۔ ان کی نسبت باہلہ کی طرف تھی۔ حالانکہ یہ لوگ باہلہ کے موالین میں سے تھے۔ پھر انہوں نے یہ دعوی کیا کہ وہ محمد بن اسماعیل بن جعفر کی اولاد میں سے ہے۔ اسماعیلیہ کو اسی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ حق ان کے ساتھ ہے اثنا عشریہ کے ساتھ نہیں ۔اس لیے کہ اثنا عشریہ موسیٰ بن جعفر کی امامت کے دعویدار ہیں ۔ جب کہ یہ لوگ اسماعیل بن جعفر کا کہتے ہیں ۔

ان کے ائمہ باطن میں زندیق اورملحدین ہیں جو کہ غالیہ فرقہ میں سے سب سے برے لوگ ہیں ۔اثنا عشریہ کی جنس میں سے نہیں ہیں ۔لیکن انہیں اس فاسد مذہب اور نسبت پر لگانے والے اثنا عشریہ اور ان کے امثال کے کرتوت ہیں ۔ان لوگوں نے اس فرقہ پر جھوٹ بولے تو جواب میں انہوں نے وہی جھوٹ بلکہ اس سے زیادہ ان پر بہتان گھڑے ۔ اثنا عشریہ نے ان کو ملحد کہا تو انہوں نے جواب میں انہیں جہمیہ اورقدریہ وغیرہ کہا۔

جب یہ اسماعیلیہ و نصیریہ ملاحدہ او ران کے امثال حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں ‘حالانکہ وہ طرقیہ عشریہ اور دوسرے لوگوں کی طرح ہیں ؛ تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ایسی باتیں بھی منسوب کرنے لگے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منزہ و مبرا رکھا ہے۔[اہل بیت پر جو جھوٹ باندھا گیا ہے وہ بیان سے باہر ہے]۔یہاں تک کہ شیعہ چور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خط میں ان کولوگوں کے اموال چوری کی اجازت دی ہے۔ جس طرح یہودخیابرہ اس بات کے مدعی تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک خط کے ذریعہ ان کا جزیہ معاف کردیا تھا۔اور ان کے اموال کا عشر ان کے لیے مباح کردیا تھا۔ان کے علاوہ بھی دیگر ایسے امور ہیں جو دین اسلام کے خلاف ہیں ۔[ کیا اس سے زیادہ گمراہی کا بھی امکان ہے؟]

تمام علماء کرام رحمہم اللہ کا اجماع ہے کہ یہ تمام باتیں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھی گئی ہیں ۔آپ ایسی باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ بری ہیں ۔ پھر اس پر بھی حد یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر گھڑے گئے بہتانوں کو اپنے تئیں ان کی مدح شمار کرتے ہیں ۔اوران کی وجہ سے انہیں سابقہ خلفاء راشدین پر فضیلت دیتے ہیں ۔اور ان خلفاء کے ان خرافات سے پاک ہونے کو ان کی ذات میں عیب شمار کرتے ہیں ۔ اور اس وجہ سے ان سے بغض رکھتے ہیں ۔یہاں تک کہ باطنیہ کے سرغنے جو اپنے عقائد کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب کرتے ہیں ، ان کا عقیدہ ہے کہ اسلام کا مقصد و غایت صرف اس بات کا اقرار ہے کہ افلاک ربوبیت کے مرتبہ پر فائز اور مدبر عالم ہیں ۔ ان کے سوا اور کوئی ان کا بنانے اور پیداکرنے والا نہیں ۔ ان کے خیال میں یہ دین اسلام کا باطنی پہلو ہے جس کو دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا یہ باطنی پہلو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سکھایا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خواص کو اس کی تعلیم دی۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ محمد بن اسماعیل بن جعفر تک پہنچا جن کو وہ ’’ القائم‘‘ کہتے ہیں ۔انکے ہاں اسکی حکومت اب بھی قائم ہے۔اور یہ کہ محمد بن عبداللہ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ]کی شریعت منسوخ ہوچکی ہے۔ اب امام پر ان خفیہ تاویلات کو ظاہرکرنا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لیکر امام تک رازہی چلی آرہی ہیں ۔

صفحہ 3 از 12