فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 12

اس کے فاسد اصول کے مطابق نبی بغیر کسی واسطہ کے براہ راست اللہ تعالیٰ سے احکام حاصل کرتا ہے۔ اس لیے کہ وہ عقل سے اخذ کرتا ہے۔ اس کے نزدیک یہی بلاواسطہ اللہ تعالیٰ سے اخذ کرنا ہے۔ اس کے ان کے نزدیک ملائکہ کوئی منفصل چیز نہیں ہیں جو وحی لیکر نازل ہوں ۔ اور ان کے نزدیک رب مخلوقات سے جدا کسی وجود کا نام نہیں ۔بلکہ وہ ایک وجود مطلق ہے یا اللہ تعالیٰ کے متعلق بعض امور ثبوتیہ کی نفی کا نام ہے۔ یا پھر بعض امور ثبوتیہ اور سلبیہ کی نفی کا نام ہے۔ اور کہتے ہیں : وہ وجود مخلوقات کانام ہے۔ یا پھر ان میں حال کا نام ہے۔ یا پھر نہ یہ ہے اور نہ ہی وہ ۔ ان کے نزدیک ہر نبی و رسول کی انتہا و غایت یہی ہے۔

نبوت ان کے نزدیک اس قوت تخیلہ کا سے اخذ کرنے کا نام ہے جو عقلی معانی کو خیالی تمثیل میں ڈھالتی ہے۔ اسے وہ قوت قدسیہ کا نام دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ولایت کو نبوت سے بلند مقام دیا ہے۔

ان ہی کی جنس سے ملحد قرامطہ بھی ہیں ۔ لیکن یہ لوگ تصوف عبادت گزاری تحقیق و الوہیت کے دعوی کے لبادہ میں ظاہر ہوئے۔ اور دوسرا گروہ شیعیت اور موالات کے روپ میں ظاہر ہوا۔ پہلا گروہ اپنے مشائخ کی اتنی تعظیم کرتے ہیں کہ انہیں انبیا کرام علیہم السلام سے بلند مقام تک پہنچادیتے ہیں ۔ اور ولایت کی اتنی تعظیم کرتے ہیں کہ اسے نبوت سے افضل قرار دیتے ہیں ۔ اور یہ دوسرا گروہ امامت کی اتنی تعظیم کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک ائمہ انبیا کرام علیہم السلام سے بھی افضل ہوتے ہیں اور امام نبی سے افضل ہے۔ جیسا کہ اسماعیلیہ کا عقیدہ ہے ۔ان میں سے ہر ایک گروہ فلاسفہ کا ستوں شمار ہوتا ہے جو نبی کو فلسفی قراردیتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں : نبوت قدسی قوت کے ساتھ مختص ہے۔ پھر ان میں سے بعض ایسے ہیں جو نبی کو فلسفی پر ترجیح دیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو فلسفی کو نبی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ نبوت ایک کسبی چیز ہے۔ جب کہ ان لوگوں کا کہناہے کہ: نبوت تین صفات سے عبارت ہے۔جس میں یہ تین صفات پائی جائیں وہ نبی ہے۔

۱۔ اس کے پاس انتہائی طاقتور قوت قدسیہ ہو تاکہ وہ بغیر سیکھنے کے علم حاصل کرسکے۔

۲۔ ہیولی عالم میں اس کی نفس کی تاثیر قوی ہو۔

۳۔ اس کی پاس قوت تخیل ہو جس سے وہ عقل حاصل کرے اور اپنے نفس میں دیکھ سکے اور اپنے نفس کے اندر سن سکے۔ نبوت کے متعلق یہ کلام ابن سینا اور اس کے امثال کا ہے۔ اور اس سے یہ عقیدہ امام غزالی نے اپنی کتاب میں کتب مضنون بہا علی غیر اہلہا میں لیا ہے۔ 

یہ جس قدر چیزیں انہوں نے ذکر کی ہیں تو اہل ایمان اور عوام الناس میں سیبھی کسی ایک ایسی کو حاصل ہوسکتی ہیں جو عموم اہل ایمان سے افضل بھی نہ ہو چہ جائے کہ وہ نبی ہو۔ اس مسئلہ پر ہم نے اپنی جگہ پر تفصیل کے ساتھ کلام کردیا ہے۔

جب ان لوگوں کو مسئلہ نبوت میں کلام کرنے کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے اپنے اسلاف دہریہ کے عقیدہ کے مطابق اس امر کا اظہار کیا ۔وہ دہریہ جن کا عقیدہ ہے کہ افلاک قدیم اور ازلی ہیں ۔اورفاعل کے لیے کوئی مفعول اس کی اپنی قدرت اوراختیار سے نہیں ہوتا۔ نیز انہوں نے اللہ تعالیٰ کی متعلق جزئیات کے علم کاانکار کیاہے۔ اس کے علاوہ دیگر بھی ان کے مذہب کے فاسد اصول ہیں ۔ مگر اس گروہ نے ان کی راہ پر چلتے ہوئے ان کے اصولوں کے مطابق نبوت میں کلام کیا۔

جب کہ قدما جیسے ارسطو اوراس کے امثال ان کے نبوت میں کوئی سیر حاصل کلام نہیں ہے۔ان میں سے بعض لوگ نبی بننا چاہتے تھے جیسا کہ سہروردی مقتول بھی کوشش کررہا تھا کہ وہ نبی بن جائے۔ اس نے نظر اور الوہیت کے مابین جمع کیا تھا اورباطنیہ کے طریق کار پر گامزن تھا۔ نیز اہل فرس اوراہل یونان کے فلسفہ کوبھی جمع کیا تھا۔ روشنیوں کی بڑی تعظیم کرتا تھا۔اورپرانے مجوسیوں کے دین کے زیادہ قریب تھا۔ یہ بھی اسماعیلیہ باطنیہ کی کاپی تھا۔ جادوگری اور پانسہ بازی میں ید طولی رکھتا تھا۔ صلاح الدین رحمہ اللہ کے زمانہ میں مسلمانوں نے اسے شہر حلب میں زندیقیت کی وجہ سے قتل کردیا تھا۔

یہی حال ابن سبعین کا ہے جو مغرب سے مکہ آیا تھا۔اس کی بھی چاہت یہ تھی کہ وہ نبی بن جائے ۔اس نے اس غار حراء کی تجدید کی جہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع میں وحی نازل ہوئی تھی۔

اس ے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کہاکرتا تھا: آمنہ کے بیٹے نے جھوٹ بولا اورکہا:’’لا نبِی بعدِی۔‘‘ 

میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ یہ انسان فلسفہ اور متصوفین کے متفلسفہ اور اس سے متعلقہ علوم کا ماہر تھا۔

یہ اور ابن عربی اوران کے امثال جیسے صدر قونوی ؛ابن فارض تلمسانی وغیرہ کا منتہائے امر وحدۃ الوجود کاعقیدہ تھا۔ اور یہ کہ بلاشبہ خالق قدیم واجب الوجودوہی وجود ممکن محدث مخلوق ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ پھر جب دیکھا کہ مخلوقات متعدد ہیں تو کبھی یہ کہنے لگے کہ: مظاہر اورمجالی۔ جب ان سے کہا جاتا کہ:اگر مظاہر امر وجودی تعدد الوجود ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔ یا اس طرح کا کلام کیا جاتا جس سے واضح ہوتا ہو کہ وجود کی دو قسمیں ہیں : خالق اور مخلوق۔ تو اس کے جواب میں کہتے : ہم اپنے ہاں کشف میں اس چیزکو ثابت مانتے ہیں جو صریح عقل کے خلاف ہوتی ہے۔اور جو کوئی ہماری طرح محقق بننا چاہتا ہے اس کے لیے جمع بین النقیضین کرنا لازم ہے ۔ اور یہ ایک جسم ایک وقت میں دو جگہ پر ہوسکتا ہے۔ 

صفحہ 7 از 12