فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 12

ان اصناف کے بارے دوسرے مقامات پر تفصیل کیساتھ کلام گزر چکا ہے۔ بلاشبہ ان لوگوں کی کثرت جہالت میں مبتلا علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ شیعیت کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ جیساکہ ابن عربی ابن سبعین اور ان کی مانند دوسرے لوگوں کا حال تھا۔پس لوگوں کوان کے حقائق سامنے لانے اور ان امور کو بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جن کی وجہ سے حق اور باطل میں پہچان حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے کہ ان لوگوں کا اپنے متعلق دعوی ہے کہ وہ روئے زمین کے سب سے افضل لوگ ہیں ۔اور لوگ ان کے اشارات کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ چیز آسان کردی تو میں نے ان کے حقائق کو بیان کردیا۔اور ان کے متعلق کتابیں لکھیں جن سے ان کو بھی علم ہوگیا کہ ان کے عقیدہ کی حقیقت یہ ہے۔اور نقل صحیح اورعقل صریح اور کشف مطابق سے اس کا بطلان بھی ثابت ہوگیا۔جس کی وجہ سے ان کے علماء و فضلاء نے حق کی طرف رجوع کیا۔اور پھر یہی حضرات لوگوں کے سامنے ان کا تناقض ثابت کرنے اور انہیں حق کی طرف واپس بلانے لگے۔ ان کی گمراہی کے اصولوں میں سے یہ بھی تھا کہ : وجود مطلق خارج میں بھی پایا جاتا ہے۔یا تووہ مطلق بغیر کسی شرط کے ہوتا ہے یا پھرمطلق مشروط ہوتا ہے۔مطلق غیر مشروط وہ ہے جسے وہ کلی طبیعی کا نام دیتے ہیں ۔ جب کہا جائے کہ یہ تو خارج میں موجود ہے۔ اور جو معین مقید خارج میں موجود ہووہ ذہن میں مطلق ہوتا ہے اور خارج میں مقید۔ رہے وہ لوگ جن کا یہ خیال ہے کہ جو چیز ذہن میں مطلق ہوتی ہے وہ خارج میں بحالت تحقق مطلق ہوتی ہے تو یقیناً ایسا انسان بہت بڑی ایسی غلطی کا ارتکاب کررہا ہے جس میں بہت سارے اہل منطق و فلسفہ گمراہ ہوگئے۔ رہ گیا مطلق بشرط اطلاق وہ ایسا مقید وجود ہے جس سے تمام ثبوتی اور سلبی امور سلب کر لیے گئے ہیں ۔جیسا کہ انسان ہر قید سے خالی سے ہوتا ہے۔ جب آپ یہ کہیں کہ: وہ موجودہے یا معدوم ۔ ایک ہے یہ اکثر یا پھر ذہن میں ہے یا خارج میں ۔تو یہ شرط اطلاق کی حقیقت مطلقہ سے زائد ایک قید ہوگی۔اور اس طرح اس وجود کو ہر ثبوتی و سلبی قید سے مجرد قبول کرنا ہوتا ہے۔ آپ اس کی ثبوتی یا سلبی کو ئی صفت نہیں بیان کرسکتے۔ائمہ باطنیہ جیسے الاقالید الملکوتیہ کے مصنف ابو یعقوب سجستانی اور اس کی امثال کے ہاں اسے واجب الوجود کہتے ہیں ۔ لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو رفع نقیضین کو نہیں پہچانتے ۔ وہ کہتے ہیں : نہ ہی موجود ہے اور نہ ہی معدوم ۔ اور ان میں سے کوئی کہتا ہے: میں نقیضین میں سے ایک کے اثبات میں توقف کرتا ہوں ۔میں نہیں کہتا موجود ہے معدوم نہیں ۔جیسا کہ ابو یعقوب کا عقیدہ ہے۔ یہ وحد الوجود کے قائلین کی انتہا ہے۔

ابن سینا اور اس کے اتباع کہتے ہیں : وجودواجب وہ وجود ہے امور سلبیہ کو چھوڑ کر امور ثبوتیہ کی نفی کے ساتھ مقید ہو۔ اگرچہ یہ بات وجود اور عدم میں ممتنع بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی خارج میں وجود عدمی وسلبی کے ساتھ مقید وجود کے تصور سے بہت دور کی بات بھی ہے۔ میں نے تحقیق کے ان دعویداروں سے کہا: تم نے اپنے عقیدہ کی بنیاد مناطقہ کے قوانین پر رکھی ہے۔ یہ وجود مطلق جس میں اطلاق کی شرط لگائی گئی ہے یہ سلب نقیضین کے ساتھ مقید ہے ۔ اہل عقل و دانش کا اتفاق ہے کہ خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ۔ بلکہ اسے ذہن میں مقدر مانا جاتا ہے۔ وگرنہ اگر ہم انسان مطلق کو مقدر مانیں اور اس میں یہ شرط لگادیں کہ نہ ہی وہ معدوم ہو اورنہ ہی موجود ہو نہ ہی ایک ہو نہ ہی زیادہ تو خارج میں کوئی ایسا وجود نہیں پایا جاتا ۔ بلکہ ہم اسے ذہن میں فرض کرلیتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم ذہن میں جمع بین النقیضین کو فرض کرلیتے ہیں ایسے ہی رفع نقیضین کو فرض کرنا بھی جمع بین النقیضین کو فرض کرنے کی طرح ہے۔ یہی وجہ ہی کہ لوگ کبھی اسے جمع بین النقیضین کا نام دیتے ہیں تو کبھی ان دونوں سے امساک کا۔ جیسا کہ ابن عربی اور دوسرے بہت سارے لوگوں نے کیا ہے۔ اور کبھی ان دونوں چیزوں کو جمع کرلیتے ہیں ۔ جیسا کہ کتاب البطاقہ کے مصنف اور دوسرے لوگوں کے ہاں ملتا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ہی کہتے ہیں وہی ذات اس عالم کو بغیر کسی سابقہ مثال کے پیدا کرنے والی ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ شرط بھی لگاتے ہیں کہ وہ ذات کی کوئی مثتب یا منفی صفت نہیں بیان کی جاسکتی۔یہ ان کے عقیدہ میں تناقض ہے۔ اس لیے کہ اس کا مبدع ہونا ہی ان دونوں صفات سے خالی نہیں ہے۔

ایسے ہی جب کہتے ہیں : موجود واجب ہے تو اس میں نقیضین سے مجرد ہونے کی شرط لگاتے ہیں ۔ یہ بھی ان کے ہاں تناقض ہے۔

ان کے عقیدہ کی حقیقت یہ بنتی ہے کہ موجود موجود نہیں اور واجب واجب نہیں ۔ یہاں پران کی انتہا ہوجاتی ہے۔ یہ یاتوجمع بین النقیضین ہے یا پھر رفع النقیضین۔ 

یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ حیرانگی میں سرگرداں پھرتے ہیں اس کی تعظیم کرتے ہیں ۔ان کے ہاں انبیا و اولیا ائمہ وفلاسفہ کی معرفت کی منتہا یہی ہے۔

ان کی گمراہی کی اصل یہ ہے کہ یہ لوگ اس چیزکوتشبیہ سے تنزیہ شمار کرتے ہیں ۔ان کے نزدیک جب بھی کوئی مثبت یا منفی صفت بیان کی جائے تواس میں تشبیہ کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اور ان کو یہ پتہ نہ چل سکا کہ جس تشبیہ کی اللہ تعالیٰ سے نفی کی گئی ہے وہ وہ تشبیہ ہے جس میں اسے مخلوق کے خصائص میں سے کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دی جائے یا اس کی کسی صفت کو مخلوقات میں سے کسی کی صفت کی مانند قراردیا جائے ۔وہ بھی اس طرح سے کہ یہ عقیدہ ہوکہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی وہ چیز جائز ہے جو مخلوقات کے لیے جائز ہے۔یا اس کے لیے بھی وہ چیز واجب ہے جو مخلو قات کے لیے واجب ہے۔ یا اس پر بھی وہ چیز ممتنع ہے جو مخلوقات پرمطلق طور پر ممتنع ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شرع کیساتھ ساتھ عقلا بھی یہ مثال ممتنع ہے۔ پس یہ ممتنع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی نقائص کے اوصاف بیان کیے جائیں ۔اور یہ بھی ممتنع ہے کہ صفات کمال میں کوئی د وسرا اس کے مماثل ہو۔ اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کے لیے یہ دو جامع اصول ہیں ۔جیسا کہ ہم نے کئی مواقع پر بیان کیا ہے۔ اس پر دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:

﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ Oاَللّٰہُ الصَّمَدُ Oلَمْ یَلِدْ ۵ وَلَمْ یُوْلَدْ Oوَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ﴾

صفحہ 8 از 12