فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم کلام

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 12

’’فرما دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ ہی بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے۔‘‘

ہم اس سورت کی تفسیر میں ایک منفرد کتاب میں تفصیل کے ساتھ کلام کیا ہے۔

رہا اسما میں موافقت کا مسئلہ ؛جیسے حیی اورحیی ؛ موجود اور موجود اور علیم اور علیم ؛تو ایسا ہونا ضروری ہے۔ اورجس نے اس کی نفی کی ہے اس پر تعطیل محض لازم آتی ہے۔ اس لیے کہ موجودین میں سے ہر ایک بذات خود قائم ہے۔پس اس وقت ضروری ہوجاتا ہے کہ ایک ایسا اسم عام ان دونوں کوجمع کرے جو عام معانی پر دلالت کرتا ہو۔لیکن معنی عام صرف ذہن میں ہی پائے جاتے ہیں خارج میں ان کا وجود نہیں ہوتا۔

جب یہ کہا جائے کہ :یہ بھی موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے تو یہ دونوں مسمی وجود میں مشترک ہوئے۔ جس چیز میں یہ دونوں شریک ہیں وہ مشترک صرف ذہن میں ہے خارج میں نہیں ۔ اور ہر موجود جو اپنی ذات اور صفات کے ساتھ مختص ہے اس میں کوئی چیز باہر سے اس کے ساتھ شریک نہیں ہوسکتی۔ بلکہ یہ اشتراک ایک قسم کی مشابہت اور اتفاق ہے۔اور اس میں مشترک کلی بھی صرف ذہن میں پایا جاتا ہے۔ سو جب یہ خارج میں پایا جائے تو وہ اپنے نظیر سے متمیز اور جدا نہیں ہوا۔اورنہ ہی وہ وہی ہوتا ہی۔اورنہ ہی وہ دونوں خارج میں کسی خارجی چیز میں مشترک ہوتے ہیں ۔ پس جب خالق کا نام مخلوق کے نام سے مشابہ ہو جیسے موجود اورحیی۔توکہا جائے گا کہ یہ اسم عام کلی ہے۔ یہ متواطی یا متشکک اسماء میں سے ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس مسمی اسم کے اعتبار سے رب کی جو صفات ہیں مخلوق بھی ان میں شریک ہو۔ بلکہ مخلوق میں سے جس کسی دوسرے کا اگر ایسا نہ ہو تووہ بھی اس کے ساتھ مواصفات میں شریک نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کا وجود اس کے ساتھ خاص ہے۔ اور اس کا وجود اس کے ساتھ خاص ہے۔ لیکن جو مخلوق کی صفات ہیں وہ کبھی دوسرے مخلوق کی صفات کے مماثل ہوسکتی ہیں ۔اور ان میں سے کسی ایک مثل کے لیے وہ امور جائز ہوتے ہیں جو دوسرے کے لیے جائز ہیں ۔

جب کہ رب سبحانہ و تعالیٰ کی صفات میں کوئی چیز اس کے مماثل نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اللہ اور مخلوق کی صفات میں دو فرق اور تباین ہے وہ مخلوق کی صفات میں تباین و فرق سے بہت بڑا ہے۔ جب کہ اس میں معنی مشترک کلی عام جیسا کہ ہم نے ذکر کیا-یہ کلی طور پر صرف ذہن میں ہوسکتا ہے۔

جب دو موصوف میں اس لحاظ سے موافقت و مشارکت اور مشابہت کی ایک نوع پائی جاتی ہے اوراس میں کوئی محذور(ممانعت)والی بات نہیں ۔اس لیے کہ اس قدر مشترک کی وجہ سے وجوب یا جواز یا امتناع لازم نہیں آتا۔ پس اللہ سبحانہ و تعالی بھی اس صفت کے ساتھ متصف ہے۔ پس وہ موجود اپنے موجود ہونے کے اعتبار سے ہے ایسے ہی علیم اور حیی کی صفات کا معاملہ بھی ہے۔ سو جتنا بھی کہا جائے کہ اس سے وجوب یا جواز یا امتناع لازم آتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ جن صفات سے موصوف ہے وہ مخلوق کی صفات موجود و حیات اور علم کے خلاف ہیں ۔ اس لیے کہ مخلوق کے لیے جو امتناع جواز اور وجوب اور استحالہ کی صفات بیان کی جاتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیان نہیں کی جاسکتیں ۔ اور نہ ہی جو صفات وجوب و جواز اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں وہ مخلوقات کے لیے بیان کی جاسکتی ہیں ۔جو انسان اس بات کوسمجھ لیتا ہے اس کے بہت سارے اشکالات ختم ہوجاتے ہیں ۔ بہت سارے اذکیا جو علوم الکلیہ اور معارف الٰہیہ میں نظر رکھتے ہیں وہ اسی چیز کے قائل ہیں ۔ واجب الوجود میں ان کے اقوال میں سے ایک قول یہ بھی ہے۔ یہ اطلاق نفی و اثبات کی شرط کیساتھ مطلق ہے۔ اور تعطیل و الحاد سے زیادہ کامل و اکمل ہے۔

دوسرا قول ابن سینا اور اس کے متبعین کا ہے کہ: بیشک وہ وجود قیود سلبیہ کیساتھ مقید ہے ثبوتیہ کے ساتھ نہیں ۔ اور کبھی اسے یوں تعبیر کیا جاتا ہے کہ وہ وجود مقید ہے ۔ کبھی ماہیات میں سے کوئی بھی چیز اس کا معارضہ نہیں کرسکتی۔یہ تعبیر ابن رازی وغیرہ کی ہے۔ان عبارات کی بنیاد ان کا یہ عقیدہ ہے کہ :وجودکا ماہیات ممکنہ سے اعراض ہوسکتا ہے۔ امام احمد کے اصحاب میں سے بعض مناظرین و متکلمین اور کچھ دوسرے لوگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ:(ایسا نہیں )بلکہ خارجی وجود کی خارج میں ایک ثابت حقیقت ہوتی ہے۔ یہ دو چیزیں نہیں ۔اہل اثبات میں سے جمہور کا یہی قول ہے۔اوردوسرا قول مذاہب اربعہ میں سے اور دوسرے مناظرین کا ہے جو اثبات صفات کے قائل ہیں ۔ لیکن شہرستانی؛ رازی اور آمدی وغیرہ رحمہم اللہ کا خیال یہ ہے کہ اس قول کا قائل کہنا چاہتا ہے کہ: لفظ وجود اشتراک لفظی کے لیے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے یہ کلام اشعری وغیرہ سے نقل کیا ہے ۔ جب کہ یہ ان کے متعلق غلط بیانی ہے۔ اس لیے کہ اولین و آخرین میں سے جمہور کایہی قول ہے۔سوائے ایک چھوٹے سے طائفہ کے۔ ان میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو یہ کہتا ہو کہ لفظ وجود اشتراک لفظی کے لیے بنایا گیا ہے ۔یہ اشعری اور اس کے اصحاب کا قول نہیں ۔ بلکہ ان کا اتفاق ہے کہ وجود کی دو قسمیں ہیں : قدیم اورمحدث۔

اسم وجود ان دونوں اقسام کو شامل ہے۔ لیکن اشعری ان احوال کی نفی کرتا ہے۔ وہ کہتاہے : عموم و خصوص کئی ایک اقوال کی طرف لوٹتا ہے۔ اس کا مقصود یہ ہے کہ خارج میں کلی عام کا کوئی معنی نہیں اس کا مقصود یہ نہیں ذہن میں کلی عام کا معنی قائم نہیں ہوسکتا۔

ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ ہر چیز کا وجود وہ بذات خود اس کی موجودہ حقیقت ہوتی ہے۔ بیشک یہی قول اشتراک لفظی کا ہے۔ اس لیے کہ ان کا کہناہے کہ:جب اگر ہم وجود کو متساوی ومتواطی(ہم پلہ وہم معنی) الفاظ سے عام قراردیدیں یہ ان الفاظِ متافضلہ کے لیے عام کردیں جنہیں متشککہ کہا جاتا ہے اور ہم نے کہاہے کہ : وجود واجب اور ممکن اور قدیم و محدث میں منقسم ہے تو یہ انواع مسمی وجود میں مشترک ہوتے ہیں ۔ یہی کلی مطلق ہے۔ ان میں سے ہر ایک کیلیے اپنی خصوصیت کے ساتھ دوسرے سے ممتاز(و جدا)ہونا ضروری ہے اسے حقیقت کہتے ہیں ۔پس اس سے لازم آتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے لیے وجود کے علاوہ حقیقت بھی ہوتی ہے۔

یہ ایس غلط ہے جس میں کئی لوگ گمراہ ہوگئے جیسے امام رازی اور اس کے امثال۔

صفحہ 9 از 12