Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عراق سے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے چلے جانے کے بعد مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی روداد

  علی محمد الصلابی

بہادر، جری، پیش قدمی کرنے والے، ذکی، غیرت مند، پاک طینت، راسخ العقیدہ، قوی الایمان، اللہ پر بہت زیادہ توکل کرنے والے اور دور اندیش تھے۔ مصلحت خاصہ پر مصلحت عامہ کو ترجیح دیتے اور خوشی و غمی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ شریک رہتے۔ جلد ہی صحیح قرارداد پاس کرنے کی صلاحیت، ثابت اور قوی ارادہ کے مالک تھے۔ انتہائی خطرناک حالات وظروف میں مکمل ذمہ داری کا ثبوت پیش کرتے۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو اپنی فوج پر اور آپ کی فوج کو آپ پر بے حد اعتماد تھا۔ آپ کو ان سے اور ان کو آپ سے انتہائی درجہ محبت تھی۔ آپ قوی شخصیت کے مالک تھے، آپ حقیقت میں بالکل ویسے ہی تھے جیسا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اپنے آپ کو امیر بنانے والے۔‘‘

(الحرب النفسیۃ: جلد 2 صفحہ 164)

یعنی امارت و قیادت کی تمام صلاحیتیں سیدنا خالدؓ کے اندر موجود تھیں، آپؓ کے اندر انتہائی درجہ کی قابلیت پائی جاتی تھی، جس سے قتال میں آپؓ کو مدد ملتی، آپؓ روشن ماضی کے مالک تھے۔ آپ سب سے پہلے حملہ کرنے والے اور سب سے بعد میں لوٹنے والے ہوتے۔ سیدنا خالدؓ عراق کے علاقوں سے بخوبی واقف اور ایرانیوں کے خلاف انتہائی جری تھے۔ سریع الحرکت اور وسیع حیلہ کے مالک تھے۔ اسلام کے بعد ایرانیوں کے خلاف سب سے پہلے سیدنا خالدؓ اٹھے اور دوسروں کو بھی ان کے خلاف بیدار کیا اور عراقی جنگ میں آزمائشوں کا سامنا کیا۔ سیدنا خالدؓ ہی نے مسلمانوں کی ہمت بڑھائی اور ایرانیوں کی ہمت کو پست کیا۔

(الحرب النفسیۃ: جلد 2  صفحہ 164)

مثنیٰ رضی اللہ عنہ ایرانی فوج کی صفت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’میں نے جاہلیت و اسلام میں عرب و عجم سے قتال کیا ہے، واللہ جاہلیت میں سو عجمی (ایرانی) ہزار عربوں پر بھاری تھے اور آج سو عربی ہزار عجمیوں پر بھاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت کمزور کر دی اور ان کی چال ناکارہ بنا دی۔ لہٰذا انہیں ان سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے، نہ ان کی کثرت سے نہ ان کے ساز و سامان اور ہتھیاروں سے۔ یہ لوگ تو ایسے ہیں کہ اگر ان سے ہتھیار چھین لیا جائے یا وہ اسے گم پائیں تو ایسی صورت میں یہ چوپایوں جیسے ہیں کہ جس طرف چاہو لے جاؤ۔‘‘

(من ذی قار الی القادسیۃ: صالح عماش: صفحہ 124، بحوالہ الحروب النفسیۃ: جلد 2 صفحہ 168)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو عراق پر امیر مقرر کر کے صحیح مقام پر رکھا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کو لوگوں کے مقام، قدر وقیمت اور ان کی صلاحیتوں کی صحیح معرفت تھی۔ جب سیدنا خالد رضی اللہ عنہ شام کے لیے کوچ کرنے لگے تو ان کو الوداع کہنے نکلے اور جب جدائی کا وقت آیا تو خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ اپنی امارت پر لوٹ جائیں، سستی اور کوتاہی نہ کریں۔

(عصر الصحابۃ عبدالمنعم الہاشمی: صفحہ 189)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے بعد عراق کی قیادت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے سنبھالی۔ جیسے ہی کسریٰ کو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے چلے جانے کی خبر ملی اس نے ہرمز جاذویہ کی قیادت میں ہزاروں فوجی جمع کیے اور مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو دھمکی آمیز خط لکھتے ہوئے کہا: میں تمہارے مقابلہ میں فارس کی وحشی فوج کو بھیج رہا ہوں جو مرغیوں اور خنزیروں کو چرانے والے ہیں، میں انہی کے ذریعہ سے تم سے قتال کروں گا۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 73)

مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب عقل وفطانت سے دیا اور اس مجوسی کا جواب دیتے ہوئے اپنی شجاعت کو نہیں بھولے۔ چنانچہ کسریٰ کو خط تحریر کرتے ہوئے فرمایا: تو دو شخصوں میں سے ایک ہے؛ یا تو باغی ہے اور یہ تمہارے لیے شر ہے اور ہمارے لیے خیر ہے۔ یا تو جھوٹا ہے سزا و انجام کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک، اور لوگوں کے نزدیک سب سے بڑے جھوٹے بادشاہ ہوا کرتے ہیں۔ ہمیں ہماری عقل جو بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ تم ان لوگوں کی طرف مجبور ہوئے ہو تو اللہ کا شکر ہے جس نے تمہارے کید ومکر کو مرغی اور خنزیر کے چرانے والوں کی طرف لوٹا دیا ہے۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 73)

اس خط کو پڑھ کر اہل فارس چیخ اٹھے اور اپنے بادشاہ کو ملامت کی اور اس کی رائے کو برا جانا۔ ادھر مثنیٰ رضی اللہ عنہ حیرہ سے بابل کی طرف روانہ ہو گئے اور ’’صراۃ اولیٰ‘‘ (یہ فرات سے نکلنے والی ایک ندی ہے۔ ) کی وادی کے پاس دونوں افواج میں ٹکراؤ ہوا اور گھمسان کی جنگ ہوئی۔ ایرانیوں نے گھوڑوں کے درمیان ہاتھی گھسا دیے تاکہ مسلمانوں کے گھوڑے بدک کر منتشر ہو جائیں۔ مسلمانوں کے امیر مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے فوراً اس ہاتھی پر حملہ کر کے قتل کر دیا اور مسلمانوں کو حملہ کرنے کا حکم صادر کیا۔ مسلمان ٹوٹ پڑے، ایرانیوں کو شکست فاش اٹھانا پڑی۔ انہیں مسلمانوں نے بری طرح قتل کیا اور بہت سارا مال غنیمت میں حاصل کیا اور ایرانی بھاگ کھڑے ہوئے اور انتہائی بری حالت میں مدائن پہنچے اس وقت کسریٰ مر چکا تھا 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 18)

اور ایران اضطراب اور عدم استقرار کا شکار تھا۔ مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے ان اللہ کے دشمنوں کا پیچھا کیا اور مدائن کے دروازوں تک پہنچ گئے اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس فتح کی خبر بھیجی اور آپ سے ان لوگوں سے مدد لینے کی اجازت طلب کی جو مرتدین میں شامل ہو چکے تھے لیکن جواب میں تاخیر ہوئی کیونکہ آپؓ اس وقت شام کی جنگوں کے سلسلہ میں مشغول تھے۔ جب انتظار طویل ہوا تو مثنیٰ رضی اللہ عنہ خود مدینہ روانہ ہوئے اور عراق پر بشیر بن خصاصیہ کو اپنا نائب مقرر کیا اور مسالح پر سعید بن مرہ عجلی کو نائب بنایا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 18)

جب سیدنا خالدؓ مدینہ پہنچے تو دیکھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالدؓ  کا استقبال کیا، آپؓ کی بات سنی اور آپؓ کی رائے سے مطمئن ہوئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا: عمر! میں جو کہتا ہوں سنو، پھر اس پر عمل کرو۔ مجھے امید ہے کہ آج میں وفات پا جاؤں گا۔ تو اگر میں مر گیا تو تم شام ہونے سے پہلے پہلے لوگوں کو مثنیٰ کے ساتھ تیار کر دینا اور کوئی مصیبت اگرچہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو تمہیں تمہارے دین سے اور تمہارے رب کی وصیت پر عمل پیرا ہونے سے نہ روکے۔ تم نے مجھے دیکھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت میں نے کیا کیا حالانکہ خلق الہٰی کو اس طرح کی کوئی مصیبت لاحق نہیں ہوئی اور اگر شام فتح ہو گیا تو لشکر خالد کو عراق واپس کر دینا کیونکہ وہ اس کے اہل ہیں اور ایرانیوں کے خلاف جری اور بہادر ہیں۔

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 74)