فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف

[ اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’علم طریقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔تمام صوفیہ خرقہ کو بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب]:پہلا جواب : ہم کہتے ہیں :تمام اہل معرفت اور حقائق ایمان کے جانکار جوکہ امت میں سچائی و امانت کے ساتھ مشہور ہیں ؛ وہ تمام حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تقدیم پر متفق ہیں ۔اور یہ کہ آپ اس امت میں حقائق ایمان اور احوال عرفان کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔تو پھر وہ ان حقائق سے -جنہیں شیعہ بھی افضل امور میں سے مانتے ہیں -کتنے دور ہیں جوآپ کی طرف لوگوں کے منسوب کردہ ایک لباس کی وجہ سے آپ کو تقدیم [اور فضیلت ]دیتے ہیں ۔

٭ صحیحین میں مروی ہے کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((إِن اللہَ لا ینظر إِلی صورکِم وأموالکِم، وإِنما ینظر إِلی قلوبکِم وأعمالِکم))۔

’’ بیشک اللہ تعالیٰ نہ ہی تمہاری صورتوں کو دیکھتے ہیں اور نہ ہی تمہارے امول کو دیکھتے ہیں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کواور اعمال کو دیکھتے ہیں ۔‘‘[سبق تخریجہ]

دوسری بات: خرقہ جات کی تعداد بہت ہے، مگر مشہور دو خرقے ہیں :

۱۔ایک خرقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب ہے۔

۲۔دوسرے خرقہ کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی جاتی ہے۔

جو خرقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب ہے اس کی دو اسنادہیں ایک اُوَیس قرنی تک اوردوسری سند ابو مسلم خولانی تک پہنچتی ہے۔

جس خرقہ کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی جاتی ہے اس کی اسناد حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تک پہنچتی ہے ۔ متاخرین اسے معروف کرخی رحمہ اللہ تک پہنچاتے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جنید سری سقطی کی صحبت میں رہے ہیں اور سری سقطی بلا ریب معروف کرخی کی صحبت میں رہے ہیں ۔ اس سے آگے سند کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ کہنے لگتے ہیں کہ معروف کرخی رحمہ اللہ علی بن موسیٰ رضا رحمہ اللہ کی صحبت میں رہے تھے۔ یہ بات قطعی طور پر باطل ہے۔ وجہ بطلان یہ ہے کہ معروف کرخی کے حالات نقل کرنے والے مصنفین اس کی کوئی متصل سند ذکر نہیں کرتے۔جیسے ابو نعیم اور ابو الفرج ابن جوزی رحمہ اللہ جس نے معروف کرخی کے فضائل میں کتاب بھی لکھی ہے۔ معروف اپنے شہر کرخ میں منقطع ہوکر رہ گئے تھے۔[آپ کرخ سے باہر کہیں نہیں گئے تھے]۔ جب کہ علی بن موسیٰ خلیفہ مامون کے یہاں خراسان میں سکونت گزین تھے۔جنہیں مامون نے اپنے بعد ولی عہد مقرر کردیا تھا۔اس نے اپنا شعار[مونو]سبز لباس بنا لیا تھا۔پھر اس سے رجوع کرلیا اور دوبارہ کالا لباس پہننا شروع کردیا تھا۔

معروف کرخی [عمر میں علی بن موسیٰ سے بڑے تھے، بنا بریں ] کسی ثقہ راوی سے یہ ثابت نہیں کہ دونوں کبھی باہم ملے یا ایک دوسرے کو دیکھا اور استفادہ کیا۔ معروف رحمہ اللہ علی بن موسیٰ کے دربان بھی نہ تھے کہ انھیں موسٰی کا شرف صحبت حاصل ہوا ہو اور ان کے ہاتھ پر اسلام بھی نہیں لائے تھے۔یہ تمام کہانیاں اور جھوٹ ہیں ۔

اس کی دوسری اسناد یوں بیان کی جاتی ہے کہ: معروف کرخی مشہور بزرگ داؤد طائی کی صحبت میں رہ چکے تھے۔ یہ بھی بے اصل بات ہے ۔آپ کے مشہورومعروف حالات زندگی میں کوئی ایسی بات نہیں ملتی۔[اس لیے کہ ان دونوں حضرات کی ملاقات ثابت نہیں ]۔

خرقہ کی روایت میں یہ بھی کہتے ہیں کہ:’’ داؤد طائی حبیب عجمی سے ملے تھے۔ اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ:’’ حبیب عجمی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے تربیت یافتہ تھے؛ یہ درست ہے۔اس لیے کہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے کثیر اصحاب و تلامذہ تھے؛مثلاً ایوب سختیانی ؛ یونس بن عبید ؛ عبد اللہ بن عوف ؛ محمد بن واسع و مالک بن دینار و حبیب عجمی و فرقد سنجی اور بصرہ کے دیگر عابد و زاہد لوگ۔ رحمہم اللہ ۔

صوفیاء کایہ قول کہ: حسن بصری رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی صحبت سے فائدہ اٹھایاتھا۔یہ باتفاق اہل معرفت باطل ہے۔کیونکہ اہل علم کااجماع ہے کہ حضرت حسن رحمہ اللہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہم نشینی کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ بلکہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے علم حاصل کیا تھا۔آپ نے احنف بن قیس ‘ قیس بن عباد اور دوسرے لوگوں سے استفادہ کیا تھا۔ اہل صحیح نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔

حضرت حسن رحمہ اللہ کی پیدائش خلافت عمر رضی اللہ عنہ کے خاتمہ سے دوسال پہلے ہوئی۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہوئے تو اس وقت آپ مدینہ میں تھے۔آپ کی والدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی باندی تھی۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کردیا گیا تو آپ کو بصرہ لے جایا گیا۔اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ میں تھے۔ اوراس وقت حضرت حسن بچوں کے ساتھ بچے تھے۔ نہ ہی آپ کی کوئی پہچان تھی اور نہ ہی تذکرہ۔[حسن ابن ابی الحسن ابن یسار ابو سعید البصری؛ مولی زید بن ثابت ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دو سال باقی تھے کہ آپ پیدا ہوئے۔اور ۱۱۰ہجری میں وفات پائی۔حسن بصری نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد تحصیل علم کا آغاز کیا تھاحالانکہ انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ابن ابی حاتم نے ان صحابہ کا ذکر کیا ہے جن سے صحیح سند کیساتھ آپ کا سماع ثابت ہے۔ ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی ذکر نہیں ۔دیکھیں : الجرح و التعدیل م ۱ص۴۰۔ تذکرۃ الحفاظ ۱؍۷۱۔ میزان الاعتدال۱؍۵۲۷۔]

باقی رہی یہ روایت کہ علی جب بصرہ میں داخل ہوئے تھے تو وہاں جتنے بھی افسانہ گو تھے سب کو نکال دیا صرف حسن کو رہنے دیا ۔ تو اس کے صریح جھوٹ ہونے پر اہل علم کا اتفاق ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں پر ایک قصہ گو کو پایا جو قصہ بیان کررہا تھا۔ آپ نے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے؟اس نے کہا : ابو یحی۔آپ نے پھر پوچھا : کیا تم ناسخ اورمنسوخ بھی جانتے ہو؟ کہنے لگا نہیں ۔تو آپ نے فرمایا:

’’خود بھی ہلاک ہوئے اور لوگوں کو بھی ہلاک کردیا ۔ بیشک تم صرف ابو ’’اعرفونی‘‘ [یعنی مجھے پہچانو]ہو ۔ پھر آپ نے اس کا کان پکڑ کر اسے مسجد سے باہر نکال دیا۔‘‘

صفحہ 1 از 3