فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 3

ابوحاتم نے اپنی کتاب ’’ الناسخ والمنسوخ ‘‘میں [یہ واقعہ ایسے ]نقل کیا ہے: 

حدثنا الفضل ابن دکین[ابن حجر رحمہ اللہ نے ان کا ذکر اپنی کتاب ’’تہذیب التہذیب ‘‘۸؍۲۷۰ میں کیا ہے۔ فضل ابن دکین ان کا لقب ہے‘ جب کہ ان کا نام : عمرو بن حماد بن زہیر بن درہم التیمی ہے ۔ آپ آل ابی طلحہ کے موالی تھے۔]حدثنا سفیان ‘عن ابی حصین ‘ عن ابی عبد الرحمن السلمی ‘ قال:إنتہی عليٌ إلی قاص و ہو یقص؛ فقال: أعلمت الناسخ والمنسوخ ؟ قال :لا۔ قال: ہلکت و أہلکت ۔‘‘ 

’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ اایک قصہ گو کے پاس پہنچے جو کہ قصہ بیان کررہا تھا۔ آپ نے پوچھا : کیا تم ناسخ اور منسوخ بھی جانتے ہو؟ کہنے لگا نہیں ۔فرمایا : خود بھی ہلاک ہوئے اور لوگوں کو بھی ہلاک کردیا ۔

اور فرمایا: زہیر بن عباد الرواسی نے ہم سے حدیث بیان کی ‘ان سے اسد بن حمران نے‘وہ جویبر سے اوروہ ضحاک سے روایت کرتے ہیں :

حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کی ایک مسجد میں داخل ہوئے وہاں پر ایک قصہ گو کو پایا جو قصہ بیان کررہا تھا۔ آپ نے پوچھا : کیا تم ناسخ اورمنسوخ بھی جانتے ہو؟ کہنے لگا نہیں ۔فرمایا : کیا مکی اور مدنی بھی جانتے ہو ؟ کہنے لگا نہیں ۔ فرمایا : خود بھی ہلاک ہوئے اور لوگوں کو بھی ہلاک کردیا ۔پھر فرمایا:’’لوگو! جانتے ہو یہ کون ہے ؟

یہ کہتا ہے : لوگو مجھے پہچانو‘لوگو مجھے پہچانو‘لوگو مجھے پہچانو۔‘‘

ابن الجوزی نے حسن بصری کے فضائل و مناقب کے بارے میں ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔[اس کتاب کا نام ہے :’’فضائل الحسن البصری : أدبہ و حکمتہ و نشأتہ ....‘‘ یہ کتاب قاہرہ میں چھپ چکی ہے۔]

ابو عبداللہ محمد بن عبدالواحد المقدسی نے بھی ایک کتاب ان لوگوں کے بارے میں لکھی ہے جن کی صحابہ کرام سے ملاقات ہوئی ہے۔حضرت حسن رحمہ اللہ کے متعلق اخبار تاریخ البخاری ‘ اور اسانید خرقہ کی کتابوں میں موجود ہیں ۔چونکہ ہمارے پاس بھی اس کی کچھ اسناد ثابت ہیں تو میں نے ان کو بیان کردیاتاکہ حق اور باطل واضح ہوجائے۔

خرقہ پوشی کی ابتداء کی حقیقت:

خرقہ کی ایک دوسری اسناد حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب ہے، مگر وہ منقطع ہے۔ ہمیں قطعی طور پر معلوم ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ اپنے مریدین کو خرقہ پہناتے تھے نہ ان کے بال تر شوایا کرتے تھے۔ تابعین نے بھی ایسا نہیں کیا تھا۔ یہ فعل مشرق کے بعض متأخر پیروں کاہے۔

حضرت حسن رحمہ اللہ کے واقعات صحیح اور ثابت اسناد کے ساتھ بہت ساری کتابوں میں موجود ہیں ۔ اس کا اندازہ ان واقعات سے بھی ہوسکتا ہے جو ہم نے ذکر کیے ہیں ۔ابن جوزی نے آپ کے حالات و واقعات پر مستقل ایک کتاب لکھی ہے۔اس سے بھی ضعیف سند حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب’’ فتوۃ ‘‘کی ہے۔اس کی سند میں ایسے مجہول راوی پائے جاتے ہیں جن کے سچا یا جھوٹا ہونے کا ہمیں علم نہیں ۔

ہر وہ انسان جسے صحابہ کرام اور تابعین کے احوال کا علم ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین شلوار نہیں پہنا کرتے تھے اور نہ ہی نمکین چیزیں پیاکرتے تھے۔او رنہ ہی ’’فتوۃ‘‘ نامی کوئی طریقہ کسی کے ساتھ خاص تھا۔لیکن اس میں شبہ نہیں کہ وہ صحابہ کی صحبت میں بیٹھے اور ان کے آداب و علوم سے بہرہ ور ہوئے تھے۔اور ان کے ہاتھوں پر ان کی تربیت ہوئی۔ اوران کی صحبت میں رہے۔ تابعین کے ہر گروہ نے ان صحابہ سے استفادہ کیا جو ان کے شہر میں بودوباش رکھتے تھے۔ اصحاب ابن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت عمر ‘ حضرت علی اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہم سے روایات لیا کرتے تھے۔اور ایسے ہی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے ساتھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ سے روایات اخذ کیا کرتے تھے۔ اور ایسے ہی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھی حضرت ابن عمر ‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ سے علم حاصل کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی اصحاب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کرتے تھے۔[اہل مدینہ نے حضرت عمر؛و اُبی ؛و زید؛ و ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایات اخذ کیں ]

ان میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مشئیت کے مطابق لوگوں کونفع دیا ۔ ان سب کا ایک دین اور ایک طریقہ پر اتفاق تھا۔وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کیاکرتے اور اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کیا کرتے تھے۔ اور سچے راویوں کے ذریعہ جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان تک پہنچتی؛ اسے قبول کرلیتے۔ بعض لوگوں نے کتاب و سنت اور ان کے مدلولات کاعلم سیکھایا اور بعض نے لوگوں کو اس چیز کی طرف بلایا جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے تھے اور انہوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا تھا۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو اپنے مشائخ کو رب بناتا اور ان سے مدد کا طلب گار ہوتا۔ گویاکہ وہ معبود ہے جس سے سوال کیا جاتا ہے اور اس کی طرف رغبت رکھی جاتی ہے۔ اوراس کی بندگی کی جاتی ہے اور اس پر توکل کیا جاتا ہے۔ اور اس سے زندگی میں اور موت کے بعد مدد طلب کی جاتی ہے ۔ اورنہ ہی اس نبی کی طرح بناتے تھے جس کے ہر حکم میں اس کی اطاعت واجب ہو۔اور جس چیز کو وہ حلال کہہ دے وہ حلال اور جس کو حرام کہہ دے وہ حرام ہے۔یہی ڈگر تو عیسائیوں کی تھی جن کے بارے میں فرمان الٰہی ہے:

﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰہًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ [التوبۃ۳۱ ]

’’انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں ، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں ۔‘‘

صفحہ 2 از 3