فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف - ردِ رافضیت |…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور علم تصوف

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3

وہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا کرتے تھے؛ برائی اوربدی کے کام پر نہیں ۔ اور ایک دوسرے کو حق بات اورصبر کی تلقین کیا کرتے تھے۔امام اور شیخ ان کے ہاں نماز کے امام کی منزلت پر ہوتا تھا۔ یا حج کے لیے رہنماء کی طرح۔پس مقتدی نمازمیں امام کی اقتداء کرتے ہیں اور اس کی طرح وہ نماز پڑھتے ہیں ‘ اس کی طرف سے نمازنہیں پڑھتے۔ اور اس امام کے ساتھ وہ نمازادا کرتے ہیں جس کاحکم انہیں اللہ اوراس کے رسول نے دیا ہے۔اگر امام جان بوجھ کر یا بھول کر اس اطاعت سے ذرا بھی پھر جائے تو لوگ اس کی اطاعت نہیں کرتے۔

حج کا رہنما لوگوں کوبیت اللہ کے راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے تاکہ لوگ خود وہاں پہنچ کر حج کریں ؛ وہ لوگوں کی طرف سے حج نہیں کرتا۔ اوراگر یہ رہنماء کہیں خطأ کا مرتکب ہوجائے تو اس کی اطاعت نہیں کی جاتی۔اگر دو ائمہ یا دوحج رہنماؤں کے مابین اختلاف ہوجائے تودیکھا جاتا ہے کہ حق کس کے ساتھ ہے تاکہ اس کی اتباع کی جائے ؛ اوران کے درمیان فیصلہ کرنے والی چیز اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾[النساء۵۹]۔

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور ان کا بھی جو تم میں سے حکم دینے والے ہیں ، پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘

صحابہ کرام میں سے ہر ایک سے ؛جوکہ مختلف شہروں میں جاکرآباد ہوگئے تھے؛ لوگوں نے دین وایمان اخذ کیا ۔ مشرق و مغرب کے اکثر مسلمانوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ بھی استفادہ نہیں کیا۔اس لیے کہ آپ مدینہ میں سکونت پذیر تھے۔ اور اہل مدینہ آپ کے علوم کی طرف اتنے زیادہ محتاج نہ تھے جتنے آپ سے پہلے خلفاء کے علوم کے محتاج تھے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ والے قصہ اور اس طرح کے دیگر واقعات سے صاف ظاہر ہے۔

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ وارد کوفہ ہوئے تواہل کوفہ حضرت ابن مسعودو سعد بن ابی وقاص و عمارابو موسی‘ و حذیفہ رضی اللہ عنہم سے علمی فیوض حاصل کر چکے تھے جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ روانہ فرمایا تھا۔

اہل بصرہ نے حضرت عمران بن حصین؛ابو بکرۃ ؛ عبدالرحمن بن سمرۃ اور انس رضی اللہ عنہم سے اخذ و استفادہ کیا۔ اہل شام نے کتاب و سنت کا علم حضرت معاذ و ابوعبیدہ و ابو الدرداء و عبادہ بن صامت و بلال رضی اللہ عنہم سے سیکھا۔

ان شہروں کے عباد و زھاد نے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علوم حاصل کیے جن کوانہوں نے دیکھا تھا۔پھران بیانات کی روشنی میں یہ بات کہنا کس حد تک درست ہے کہ اہل زہد و تصوف کا طریقہ دیگر صحابہ کو چھوڑ کرصرف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ماخوذ ہے؟ زہد کے بارے میں متعدد کتب تصنیف کی گئی ہیں ۔ چند کتب کے نام ملاحظہ ہوں ۔

۱۔ امام احمد کی کتاب الزہد ۲۔ ابن المبارک کی کتاب الزہد 

۳۔ کتاب الزہد وکیع بن جراح ۴۔ کتاب الزہد ہنادبن السری

اوروہ کتابیں جن میں زہاد و عباد کے حالات وواقعات ہیں ‘ان میں :

۵۔ حلیۃ الاولیاء ۶۔ صفۃ الصفوۃ اور دیگر کتابیں ۔

مذکوہ بالا کتب میں مہاجرین و انصارصحابہ نیز تابعین کے بہت سارے اقوال مذکور ہیں ۔ان کتب میں زہد سے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جو اقوال و احوال مذکور ہیں وہ کسی طرح بھی حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما و معاذ و ابن مسعود و ابی بن کعب و ابو ذر و ابو امامہ و دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال سے زیادہ نہیں ہیں ۔ 



صفحہ 3 از 3