Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

روم پر حملہ کرنے کا صدیقی عزم اور اس راہ میں بشارتیں

  علی محمد الصلابی

سیدنا ابوبکر ٹ رضی اللہ عنہ شام کو فتح کرنے کا ارادہ کر رہے تھے اور اسی غور و فکر میں لگے ہوئے تھے، اسی دوران میں حروب ارتداد کے قائد شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

اے خلیفہ رسول! کیا آپ شام پر لشکر کشی کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟

فرمایا: ہاں ارادہ تو ہے لیکن ابھی کسی کو مطلع نہیں کیا ہے اور کیا تم نے کسی وجہ سے یہ سوال کیا ہے؟

عرض کیا: ہاں، اے خلیفہ رسول! میں نے خواب دیکھا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ دشوار گذار پہاڑی راستہ پر چل رہے ہیں، پھر ایک بلند چوٹی پر آپ چڑھ گئے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ لوگوں سے بلند ہوئے، پھر آپ ان چوٹیوں سے میدانی علاقہ میں اترے جہاں کی زمین انتہائی نرم ہے، اس میں کھیتیاں، بستیاں اور قلعہ ہیں پھر آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ کے دشمنوں پر حملہ کرو، میں تمہارے لیے فتح اور غنیمت کا ضامن ہوں۔ میں بھی انہی میں سے ہوں، میرے ہاتھ میں پرچم ہے۔ میں پرچم لیے ایک بستی میں پہنچا، مجھ سے انہوں نے امان طلب کی، میں نے انہیں امان دے دی، پھر میں واپس آیا، دیکھا آپ ایک بڑے قلعہ میں پہنچے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح عطا کی، لوگوں نے آپ کو سلام کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ایک تخت رکھا، آپ اس پر تشریف فرما ہوئے، پھر آپ سے کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح ونصرت عطا کر رہا ہے، آپ اپنے رب کا شکریہ ادا کیجیے اور اس کی فرمانبرداری کیجیے پھر یہ سورت پڑھی:

اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُ ۞ وَرَاَيۡتَ النَّاسَ يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا ۞  فَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ وَاسۡتَغۡفِرۡهُ‌  اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا ۞ (سورۃ النصر آیت 1، 2، 3)

ترجمہ: جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ اور تم لوگوں کو دیکھ لو کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں۔ تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اور اس سے مغفرت مانگو۔ یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔

پھر میری نیند کھل گئی۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’تمہاری آنکھ سوتی رہے، تم نے خیر دیکھا ہے اور ان شاء اللہ خیر ہی ہوگا۔‘‘

پھر فرمایا: ’’تم نے فتح کی بشارت سنائی اور میری موت کی خبر دی ہے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، پھر فرمایا: تم نے جو دشوار پہاڑی راستہ پر ہمیں دیکھا اور پھر ہم بلند چوٹی پر چڑھ گئے اور لوگوں سے بلند ہو گئے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس فوج اور دشمن کے سلسلہ میں مشقتوں کا سامنا کریں گے۔

اور ہمارا میدانی علاقہ میں اترنا، جہاں کھیتیاں، چشمے، بستیاں اور قلعہ ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم معیشت کی جس حالت میں ہیں اس سے زیادہ سہولت فراہم ہو گی۔

اور میرا مسلمانوں سے یہ کہنا کہ اللہ کے دشمنوں پر حملہ کرو میں تمہارے لیے فتح و غنیمت کا ضامن ہوں، اس کا مطلب ہے کہ مسلمان مشرکین کے ملک سے قریب ہوں گے اور میں انہیں جہاد، اجر و ثواب اور مال غنیمت کی ترغیب دوں گا، وہ ان میں تقسیم کیا جا ئے گا اور وہ اسے قبول کریں گے۔

اور جو پرچم تم نے اپنے ہاتھ میں دیکھا پھر اس کے ساتھ ان کی ایک بستی میں گھس گئے اور انہوں نے امان طلب کی اور تم نے انہیں امان دے دی، اس کا مطلب ہے کہ تم مسلم قائدین میں سے ہو گے اور اللہ تمہارے ہاتھوں فتح عطا کرے گا۔

اور قلعہ جسے اللہ نے میرے لیے کھول دیا، وہ راستہ ہے جو اللہ ہمارے لیے کھولے گا۔ اور جو تخت پر بیٹھے ہوئے مجھے دیکھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بلند کرے گا اور مشرکین کو ذلیل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ ( سورۃ يوسف آیت 100)

ترجمہ: اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا

اور جس نے مجھے اللہ کی فرمانبرداری کا حکم دیا اور یہ سورت تلاوت کی تو اس طرح اس نے میری موت کی خبر دی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اسی سورت کے ذریعہ سے موت کی خبر دی تھی۔ جب یہ سورت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ یہ میری موت کی اطلاع ہے۔‘‘

پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، سیدنا ابوبکرؓ رونے لگے اور فرمایا:

’’میں ضرور بھلائی کا حکم دوں گا، برائی سے روکوں گا، اور جنہوں نے اللہ کا حکم چھوڑا ہے ان کو پابند بنانے کی کوشش کروں گا اور مشرق ومغرب پر ہر چہار جانب، مشرکین کے خلاف لشکر روانہ کروں گا، یہاں تک کہ وہ یہ کہنے لگیں کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، یا پھر ذلیل و رسوا ہو کر جزیہ ادا کرنے لگیں، یہی اللہ کا حکم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ جب اللہ مجھے موت دے گا تو مجھے عاجز، سست اور مجاہدین کے ثواب سے بے رغبت نہیں پائے گا۔‘‘

(تاریخ دمشق لابن عساکر جلد 2 صفحہ 61، 62، فتوح الشام لأزدی: صفحہ 16 بحوالہ التاریخ الإسلامی للحُمًیدی: جلد 9 صفحہ 177، 178)

یہ خواب ان مبشرات میں سے ہے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:

لم یبق من النبوۃ الا المبشِّرات

’’اب نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔‘‘

صحابہ نے عرض کیا: مبشرات کیا ہیں؟

فرمایا: ((الرؤیا الصالحۃ)) ’’اچھے خواب‘‘

( البخاری: التعبیر: صفحہ 6990)

اس خواب نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ارادہ پر پختگی اور نیت کے اعلان پر ابھارا، سیدنا ابوبکرؓ نے مجلس شوریٰ بلائی، جس کا ایجنڈا شام کو فتح کرنا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ نے اس خواب سے انسیت حاصل کرتے ہوئے عزیمت وعمل اور اللہ پر توکل اختیار کیا۔