فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فصاحت و بلاغت - ردِ رافضیت…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فصاحت و بلاغت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 2

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فصاحت و بلاغت

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ فصاحت کا سرچشمہ تھے۔یہاں تک کہا گیا ہے کہ:’’ آپ کا کلام مخلوقات کے کلام سے بہتر اور کلام خالق سے کم تر تھا۔خطباء نے آپ سے ہی خطابت سیکھی تھی۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں :بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہ میں بہت بڑے خطیب تھے۔ علاوہ ازیں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما و ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ بھی فن خطابت میں مہارت رکھتے تھے؛ آپ خطیب رسالت کے لقب سے معروف تھے۔جیساکہ حضرت حسان بن ثابت‘کعب بن مالک اورعبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم آپ کے شعراء تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رو برو اور آپ کی عدم موجودگی دونوں حالات میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب موسم حج میں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے نکلتے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کیساتھ ہوتے؛اور تقریر کیا کرتے۔آپ اپنے خطاب میں لوگوں کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی دعوت دیا کرتے تھے؛ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہ کر سنتے اور اس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تائید فرمایا کرتے تھے۔آپ کا کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے پہلے تمہید اورمقدمہ کے ہوا کرتا تھا؛ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد [اور لوگوں میں آپ کا تعارف ]مقصودہوتا تھا۔نہ کہ آپ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سبقت لیتے۔ 

جس طرح شماس بن قیس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خطبہ دیا کرتے ؛ تبھی توآپ کو خطیب رسول کالقب ملا۔

ایسے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں میں بڑے خطیب تھے۔ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ سے بڑے خطیب تھے جیسا کہ خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کواس بات کا اعتراف تھا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایسا بلیغ خطبہ دیا تھا ‘جس سے مسلمانوں کے دل اسلام پر ثابت رہے ۔ حالانکہ اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے لوگوں میں سخت اضطراب پایاجاتا تھا۔اس لیے کہ یہ مصیبت ہی اتنی بڑی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر لوگوں میں خطبہ دینا شروع کردیا۔یہاں تک کہ بعض لوگوں کویہ خیال گزرا کہ آپ ہی اللہ کے رسول ہیں ؛ یہاں تک کہ بعدمیں معلوم ہوگیاکہ بیٹھی ہوئی ہستی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وفود کی ملاقات کے لیے نکلتے؛اور ان سے خطاب کرتے ؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں بھی خطاب کیا کرتے تھے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو آپ نے اس وقت بھی ایک خطبہ دیا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سقیفہ بنی ساعدہ کے دن بڑا بلیغ خطبہ دیا تھاجس سے تمام حاضرین کو فائدہ ہوا۔حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے سقیفہ کے دن بڑا عمدہ خطبہ تیار کیا تھا۔جسے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے پیش کرنا چاہتا تھا۔میں آپ کے ساتھ کسی حد تک مدارت سے کام لیتا تھا۔ جب میں نے گفتگو کا آغاز کرنا چاہا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ ذرا ٹھہریے ! چنانچہ میں نے انھیں ناراض کرنا پسند نہ کیا۔ میرے جذبے قدرے تیز و تند تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب گفتگو کی تو وہ مجھ سے زیادہ حلیم اور باوقار ثابت ہوئے۔ اللہ کی قسم! آپ نے میرے تیار کردہ خطبہ کا ایک بھی پسندیدہ جملہ باقی نہ چھوڑا بلکہ وہ فی البدیہ کہہ سنایا اور اس سے کچھ بہتر ہی کہا ہو گا۔[صحیح بخاری، کتاب الحدود۔ باب رجم الحبلی فی الزنا (حدیث:۶۸۳۰)۔]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ہمیں خطاب کیا تو ہم لومڑی کی طرح بزدل تھے‘ آپ کی مسلسل حوصلہ افزائی نے ہمیں شیر بنا دیا۔

حضرت زیادہ بن ابی لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح و بلیغ خطیب تھے۔ یہاں تک کہ امام شعبی فرماتے ہیں :

’’کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے جس نے بات کی ہو‘ مگر میں اس ڈر سے اس کے خاموش ہونے کی تمنا کیا کرتا تھا کہ کہیں بات بڑھانے میں وہ غلطی نہ کرجائے ؛ سوائے زیادکے۔آپ جتنی بھی لمبی گفتگو کرتے اتنی ہی زیادہ عمدہ ہوا کرتی تھی۔‘‘

لوگوں نے حضرت زیاد کے خطبات لکھے ہوئے ہیں ۔

ایسے ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خطیب تھے ؛ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لوگوں میں سب سے بڑی خطیب تھیں ۔یہاں تک کہ احنف بن قیس نے کہا ہے کہ : ’’ میں نے ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے خطبات سنے ؛ لیکن میں مخلوق میں سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کا مسکت اور دل اندوز خطاب نہیں سنا۔‘‘ [مستدرک حاکم(۴؍۱۱)]

اسلام سے پہلے بھی اور اسلام کے بعد بھی عربوں میں بہت سارے خطباء اور فصحاء تھے۔ ان میں سے اکثر تعداد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوئی خطابت نہیں سیکھی۔ نہ انھوں نے اس باب میں ان سے کچھ استفادہ کیا تھا۔

پھر کسی کی یہ بات کہ’’ آپ فصاحت کا منبع تھے ‘‘سوائے جھوٹ کے اور کیا ہوسکتی ہے؟ اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی نہ ہوتا تو بھی آپ لوگوں میں سب سے بڑے خطیب تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک لفظ تک نہیں سیکھا۔

[ قوتِ خطابت اللہداد ہے]۔ فصاحت منہ پھاڑ کر بولنے ‘اورکلام کی گہرائی میں جانے کا نام نہیں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر خطباء عرب صحابہ اور دوسرے لوگوں کے کلام میں سجع اور تجنیس کا التزام نہیں ہوا کرتا تھا۔ جو علم البدیع کی مشہور اصطلاحات ہیں ، بلکہ ان کے خطبات میں آمد ہوا کرتی تھی اور یہ سجع کا تکلف نہیں کیا کرتے تھے۔ یہ تکلفات متاخرین شعراء وخطباء اور مراسلین کی ایجاد ہیں ۔ قرآن نے اس جیسی چیزوں کو ہی بیان کیا ہے ‘ فرمایا:

﴿وَ ہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنَعًا﴾۔[الکہف ۱۰۴]

’’اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں ۔‘‘

صفحہ 1 از 2