فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فصاحت و بلاغت - ردِ رافضیت…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فصاحت و بلاغت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

نیز فرمایا: ﴿اِِنَّ رَبَّہُمْ بِہِمْ[ یَوْمَئِذٍ لَّخَبِیْرٌ ]﴾ [عادیات۱۱]

’’بیشک ان کا رب اس دن ان سے خبر دار ہوگا۔‘‘

اوراس طرح کی دیگر آیات بھی ہیں ۔پس آپ نے کبھی بھی مجانست کے لیے تکلف نہیں کیا۔بلکہ تابع بغیر قصد کے خود ہی آتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں شعری اوزان تو موجود ہیں لیکن ان سے مقصودشعر نہیں ؛جیساکہ فرمان الٰہی ہے:

﴿وَ جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍرّٰسِیٰتٍ﴾ [سباء ۱۳]

’’ اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿نَبِّیْٔ عِبَادِیْٓ اَنِّیْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْم﴾ [الحجر۴۹]

’’میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَوَضَعْنَا عَنکَ وِزْرَکَ Oالَّذِیْ اَنْقَضَ ظَہْرَکَ ﴾ [انشراح ۲۔۳]

’’اور ہم نے تجھ سے تیرا بوجھ اتار دیا۔ وہ جس نے تیری پیٹھ توڑ دی۔‘‘

جب کہ بلاغہ مامور بہ علم ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَ قُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیْغًا ﴾ [النساء۶۳]

’’ ان سے ایسی بات کہہ جو ان کے دلوں میں بہت اثر کرنے والی ہو۔‘‘

یہ علم بیان و معانی پر مشتمل ہے۔پس اس کے ایسے معانی ذکر کیے جاتے ہیں جو مطلوب کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہوں اوروہ الفاظ ذکر کیے جاتے ہیں جو ان معانی کے بیان کرنے میں زیادہ کامل ہوں ۔

بس بلاغت غایت مطلوب یا غایت ممکن تک پہنچنے کا نام ہے۔ یعنی ان معانی میں بیان کیا جائے جن میں زیادہ سے زیادہ بیان ہونا ممکن ہو۔ پس بلیغ انسان دو چیزوں کو جمع کرتا ہے : معانی مقصودہ کی تکمیل اور ان کا اچھے انداز میں بیان ۔ بعض لوگوں کی ساری ہمت علم معانی کی طرف ہوتی ہے ‘مگر وہ بیان کے الفاظ میں اس کا حق پورا نہیں کرسکتا۔ اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے نفس میں معانی کو تو بیان کرلیتے ہیں ۔مگر ان معانی سے وہ مقصود حاصل نہیں ہوتا جو اس مقام پر مطلوب ہے۔پس مخبر کا مقصد تو مخبر بہ کی تحقیق ہے ۔ جب وہ اسے بیان کرے ‘ اور اس چیز کو بھی بیان کرے جس سے اس کا ثبوت محقق ہوسکتاہو‘تو اس کی یہ منزلت نہیں ہوگی جس سے مخبر بہ محقق ہوسکے ۔یا وہ اس طرح سے بیان نہیں ہوگا جس سے اس کے ثبوت کاعلم ہوسکے۔

حکم دینے والے کا مقصود مطلوبہ حکمت کا حاصل ہونا ہے۔ پس جو کوئی حکم دے او راچھی طرح حکم نہ دے سکے‘ یا اس میں موجود حکمت کو نہ بیان کرسکے‘ وہ اس انسان کی طرح نہیں ہوسکتاجو حکمت کے ساتھ حکم دے اور حکمت کی وجہ کو بھی بیان کرے۔

گلا پھاڑنافصاحت نہیں اور نہ ہی تجنیس اور مسجع اوزان کو بلاغت کہتے ہیں ۔ یہ سب کچھ متأخر شعراء و ادباء اور وعاظ کی اور لے لگانے والوں کی ایجاد ہے۔صحابہ اور تابعین میں سے خطباء کرام کی یہ عادت نہیں تھی۔حالانکہ ان میں بڑے بڑے فصحاء موجود تھے۔ اورنہ ہی عرب لوگ ایسی باتوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ اکثر طور پر جو لوگ ایسی حرکت کرتے ہیں وہ معانی مطلوبہ کے بغیر صرف الفاظ کو ہی خوبصورت بناتا ہے ۔اس کی مثال اس مجاہد کی جو اپنے اسلحہ پر تونقش و نگار کرتا ہو‘مگرخود و ہ بڑا بزدل ہو۔‘‘ [بخلاف ازیں بلاغت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کم از کم الفاظ میں اپنا مافی الضمیرواضح کردیا جائے۔ چنانچہ ایک بلیغ آدمی معانی مقصودہ کو بطریق احسن سامعین پر واضح کردیتا ہے]۔

اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ ایسے شاعر بھی ہیں جب وہ مدح یا ہجو میں زیادہ گہرائی میں جاتے ہیں تو حقیقت سے ہٹ کر افراط و تفریط اور جھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں ؛ اور تخیلات و تمثیلات سے مدد لینے لگتے ہیں ۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نہج البلاغۃ کے اکثر خطبات من گھڑت ہیں [1]وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کلام نہیں ہوسکتے۔بلکہ آپ پر جھوٹ گھڑاگیا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان ومنزلت اور قدر اس سے بہت بلند ہے کہ وہ اس قسم کا کلام کریں ۔ مگر شیعہ نے مدح گوئی کے نقطہ خیال سے ان کو وضع کیا تھا حالانکہ ان میں صداقت و مدح دونوں کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے۔

[ [اشکال ]:شیعہ مصنف کا یہ قول کہ ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کلام کلام مخلوق سے بالا ہے۔‘‘]

[جواب]:یہ قول[ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر مشتمل ہے اور] بہت بڑی غلط بیانی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہر کلام سے بلند و بالا ہے۔ اور یہ دونوں کلام مخلوق ہیں ۔یہ اسی طرح ہے جیسے ابن سبعین نے کہا تھا:یہ کلام ایک لحاظ سے انسانی کلام سے ملتا جلتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی کلام کو کلام الٰہی کے مماثل قرار دیا جائے، ظاہر ہے کہ ایک مسلم اس طرح نہیں کہہ سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ کلام حضرت علی رضی اللہ عنہ میں جو باتیں صحیح ہیں ، وہ دوسروں کے کلام میں بھی پائی جاتی ہیں ۔ مگر صاحب نہج البلاغۃ کی ستم ظریفی پر ہے کہ اس نے بہت سارے دوسرے لوگوں کے کلام کو آپ کی طرف منسوب کردیا ہے۔ بعض باتیں جو آپ کی طرف منسوب ہیں وہ درست ہیں ۔ نہج البلاغۃ میں مندرج بعض باتیں بجائے خود صحیح ہیں اور وہ کلام علی ہو سکتی ہیں ، مگر دراصل وہ آپ کی فرمودہ نہیں ہیں ، بلکہ دوسروں کا کلام ہے۔ مشہور ادیب جاحظ کی کتاب ’’البیان والتبیین‘‘ میں کثرت سے دوسرے ادباء کا کلام نقل کیا گیا ہے۔ مگر صاحب نہج البلاغۃاسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ نہج البلاغۃ کے خطبات اگر فی الواقع حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمودہ ہوتے تو نہج البلاغۃ کے مصنف سے پہلے ان کا بااسناد یا بے اسناد پایا جانا ضروری تھا۔ حالانکہ ان میں سے اکثر کا نہج البلاغۃ کے مصنف سے قبل کہیں پتہ نہیں ملتا۔ اس سے ان خطبات کا جھوٹا ہونا واضح ہوتا ہے۔ ورنہ ناقل ہمیں بتائے کہ یہ خطبات کس کتاب میں مذکور ہیں ؟ کس نے ان کو نقل کیا اور ان کی اسناد کیا ہے ؟ ورنہ صرف دعویٰ کرنا کچھ مشکل نہیں ہے، ہر کوئی دعوی کرسکتا ہے ۔جو شخص محدثین کے طریق کار سے آشنا ہے اور اخبار و آثار کو اسانید کے ساتھ پہچاننے کا سلیقہ رکھتا ہے وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس قسم کی باتیں نقل کرتے ہیں ، وہ منقولات سے بے بہرہ ہیں اور صدق و کذب میں تمیز نہیں کر سکتے۔


صفحہ 2 از 2