Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا اور اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم

  علی محمد الصلابی

1۔ جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا

جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام پر لشکر کشی کا ارادہ کیا تو عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح اور اہل بدر وغیرہ میں سے دیگر کبار مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کو جمع کیا۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا:

’’اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں، اعمال اس کا بدلہ نہیں ہو سکتے۔ اللہ کی بہت حمدوشکر ہے کہ اس نے تمہیں ایک کلمہ پر جمع کیا، آپس میں اتفاق پیدا کیا اور اسلام کی ہدایت بخشی اور شیطان کو تم سے دور رکھا۔ تم سے اس کو یہ توقع نہ رہی کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرو گے اور اس کے سوا کسی کو معبود بناؤ گے۔ عرب ایک امت ہیں، ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہیں شام میں روم کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دوں، جو مرے وہ شہادت کی موت مرے۔ نیکوں کے لیے جو کچھ اللہ کے پاس ہے بہتر ہے۔ اور جو زندہ رہے اللہ کے دین کی طرف سے دفاع کرتا ہوا زندہ رہے اور اللہ کے پاس مجاہدین کا اجر لازم کر لے۔ یہ میری رائے ہے۔ ہر شخص اس سلسلہ میں اپنی رائے کے مطابق مشورہ دے۔‘‘

سب سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کے بعد فرمایا:

’’الحمد للہ، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مخلوق میں سے خیر کے لیے خاص کر لیتا ہے۔ اللہ کی قسم! آپ ہر خیر میں ہم پر سبقت لے جاتے ہیں اور یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں آپ سے اس سلسلہ میں ملنا چاہتا تھا لیکن اللہ کو نہیں منظور تھا، آپؓ نے اس وقت یاد دلایا۔ آپؓ نے صحیح سوچا ہے، اللہ تعالیٰ آپؓ کو فوز و فلاح اور ہدایت کی راہ پر پہنچائے۔ شہسواروں پر شہسوار، پیادہ پا پر پیادہ پا اور لشکر پر لشکر روانہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا، اسلام اور مسلمانوں کو عزت دے گا اور جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرے گا۔‘‘

پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

’’اے خلیفہ رسول! یہ رومی بڑے قوی اور طاقت ور ہیں، واللہ میرا خیال ہے کہ یک بارگی فوج کو نہ داخل کریں بلکہ شام کی حدود میں لشکر پر لشکر بھیجتے رہیں، یہ وقفہ وقفہ سے ان پر حملہ کرتے رہیں اس طرح دشمن کو نقصان ہوگا اور ان کی زمین ہمارے قبضہ میں آتی رہے گی اور روم سے قتال کی طاقت پیدا ہو گی۔ پھر آپؓ اہل یمن اور ربیعہ ومضر کو اپنے پاس جمع کریں اور پھر چاہیں تو خود ورنہ کسی دوسرے کے ذریعہ سے ان پر بڑا حملہ کر دیں۔‘‘

پھر عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ لوگوں پر خاموشی طاری تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کے بعد فرمایا: ’’میری رائے ہے کہ آپؓ اس دین کے لیے خیر خواہ ہیں اور مسلمانوں پر شفیق ومہربان ہیں۔ جب آپؓ نے ایک رائے قائم کی اور رشد وصلاح اور خیر کے اعتبار سے اس کو اچھا سمجھا ہے تو آپؓ بلا خوف وخطر کر گزریے، نہ ہم آپؓ پر کوتاہی کا گمان کر سکتے ہیں اور نہ آپؓ کے اخلاص کو متہم کر سکتے ہیں۔‘‘

اس پر طلحہ، زبیر، سعد، ابوعبیدہ بن جراح، سعید بن زید اور مہاجرین وانصار کے تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا:

’’عثمان نے سچ کہا، آپؓ کی جو رائے ہو اس کو کر گزریے، ہم سیدنا ابوبکرؓ کی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ آپؓ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کریں گے اور آپؓ کی رائے کو ہم متہم نہیں کریں گے۔‘‘

صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس طرح کی اور باتیں ذکر کیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے رہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوالحسن! تمہاری کیا رائے ہے؟ عرض کیا:

’’سیدنا ابوبکرؓ بابرکت حکم اور بابرکت رائے ومشورہ کے مالک ہیں، اگر آپؓ خود ان کے مقابلہ میں نکلیں یا کسی اور کو بھیجیں تو ان شاء اللہ فتح ونصرت حاصل ہو گی۔‘‘

اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں خیر کی خوشخبری سنائے، یہ تم نے کیسے جانا؟

فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

لَا یَزَالُ ہٰذَا الدِّیْنُ ظَاہِرًا عَلٰی کُلِّ مَنْ نَاوَأہُ حَتّٰی یَقُوْمَ الدِّیْنُ وَأَہْلُہٗ ظَاہِرُوْنَ۔

(اس مفہوم کی متعدد روایات مختلف صحابہ سے وارد ہیں، مثال کے طور پر دیکھیے: البخاری: الاعتصام: 7311، ومسلم الإمارۃ: 1533)

’’یہ دین برابر اپنے تمام مخالفین پر غالب رہے گا اور قیامت تک اس کے ماننے والے غالب رہیں گے۔‘‘

یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتنی پیاری ہے یہ حدیث، تم نے مجھے خوش کیا ہے، اللہ تمہیں دنیا وآخرت میں خوش کرے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کے بعد فرمایا:

’’لوگو! اللہ نے اسلام کے ذریعہ سے تم پر انعام کیا اور جہاد کے ذریعہ سے عزت بخشی اور اس دین کے ذریعہ سے دیگر تمام دین والوں پر تمہیں فضیلت عطا کی لہٰذا اللہ کے بندو! شام میں روم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ، میں تمہارے اوپر امراء مقرر کروں گا انہیں پرچم دوں گا لہٰذا تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور اپنے امیروں کی مخالفت نہ کرو، تم اپنی نیت اور سیرت کو اچھی بناؤ اور حلال کھاؤ، اللہ متقیوں اور نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔‘‘

(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 2 صفحہ 63، 65 بحوالہ الحمیدی)

پھر سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں، انہوں نے لوگوں میں اعلان کرتے ہوئے

فرمایا: ’’لوگو! شام میں اپنے رومی دشمنوں سے جہاد کے لیے نکل پڑو۔‘‘

(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 2 صفحہ 63، 65 بحوالہ الحمیدی)

اس مشورہ سے اہم معاملات کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقہ کار کی وضاحت ہوتی ہے کہ آپؓ حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک اہل حل وعقد کو جمع کر کے ان سے مشورہ نہ کر لیں پھر بحث وتمحیص کے بعد جو رائے سامنے آتی اس کے مطابق حکم صادر فرماتے اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جیسا کہ سیرت میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ جب ہم اس مشورہ اور گفتگو کی تفاصیل پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ حقیقت آتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا روم پر حملہ آور ہونے کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موافقت پر اجماع تھا۔ البتہ اس حملہ کی کیفیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نظریات مختلف تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ لشکر پر لشکر بھیجے جائیں تاکہ شام میں مسلمانوں کی ایک بڑی طاقت جمع ہو جائے جو دشمن کے مقابلہ میں ڈٹ سکے۔ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ حملے کا آغاز چھوٹے چھوٹے فوجی دستوں سے کیا جائے جو شام کے اطراف میں شب خون مار کر مدینہ واپس آجایا کریں اور جب دشمن مرعوب اور کمزور پڑ جائے تو بڑی فوج کے ذریعہ سے اس پر حملہ کر دیا جائے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو اختیار کیا اور اہل یمن اور قبائل عرب سے امداد طلب کرنے کے سلسلہ میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی رائے سے استفادہ کیا۔ 

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 188)

2۔ اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اہل یمن کو خط تحریر فرما کر انہیں جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت دی۔ اس خط کا متن یہ ہے

’بسم اللہ الرحمن الرحیم

خلیفہ رسول کی جانب سے یمن کے ان مومنوں اور مسلمانوں کے نام جنہیں یہ خط سنایا جائے۔

السلام علیکم! میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

اما بعد! یقیناً اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر جہاد کو فرض کر دیا ہے، اور انہیں حکم فرمایا ہے کہ وہ جہاد کے لیے کوچ کریں، چاہے نقل وحرکت ان پر بھاری ہو یا ہلکی، اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کریں۔ جہاد فرض ہے، اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے۔ ہم نے مسلمانوں کو شام میں رومیوں کے مقابلہ میں جہاد پر نکلنے کا مطالبہ کیا ہے اور انہوں نے اس کی طرف جلدی کی ہے، ان کی نیت صحیح ہے اور ان کی نیکی عظیم ہے۔ اللہ کے بندو! تم بھی اس کی طرف جلدی کرو، جس کی طرف انہوں نے جلدی کی ہے اور تم اپنی نیتیں درست کر لو، تمہارے لیے دو بھلائیوں میں سے ایک ضرور ہے؛ یا تو شہادت یا فتح وغنیمت۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قول سے عمل کے بغیر راضی نہیں۔ اللہ کے دشمنوں سے برابر جہاد جاری رہے گا یہاں تک کہ وہ دین حق کو قبول کر لیں اور قرآن کے حکم کو تسلیم کر لیں۔ اللہ تمہارے دین کی حفاظت کرے، تمہارے دلوں کو ہدایت بخشے اور تمہارے اعمال کو پاک کرے اور تمہیں صبر کرنے والے مجاہدین کا اجر و ثواب عطا کرے۔‘‘

(تاریخ فتوح الشام للازدی: صفحہ 48 تہذیب تاریخ دمشق: جلد 1 صفحہ 129)

اس خط کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے ارسال فرمایا۔ اس خط سے جہاد فی سبیل اللہ پر مسلمانوں کو ابھارنے اور جمع کرنے سے متعلق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کردار کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو فوج میں عام بھرتی کا نام دیا جا سکتا ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 294)

اہل یمن کے نام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس خط سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ جہاد دو مقاصد کو ثابت کرنے کے لیے ہے: مسلمانوں کے اسلام کو ثابت کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ عمل کے بغیر قول کو پسند نہیں فرماتا، اور دوسرا غیر مسلمین سے قتال کرنا تاکہ وہ دین حق کے تابع ہو جائیں اور کتاب اللہ کے حکم کو تسلیم کر لیں۔ یہی وہ سبب تھا کہ یمن کے لوگ بڑی تعداد میں ہر چہار جانب سے جہاد کے لیے ٹوٹ پڑے اور ان میں سے کوئی بھی مجبور نہیں کیا گیا تھا بلکہ سب کے سب برضا و رغبت نکلے تھے۔ بچوں، عورتوں کے ساتھ سب آگے بڑھے۔ یہ لوگ جہاد کی رغبت اور محبت میں سب سے پہلے اس آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خط لے کر یمن پہنچے تھے، ہر ہر قبیلے میں پہنچ کر اس خط کو پڑھ کر سناتے تھے اور انہیں اس سلسلہ میں جلدی کرنے پر ابھار رہے تھے۔ فرماتے ہیں: جس پر بھی میں یہ خط پڑھتا اور جو بھی یہ بات سنتا مجھے اچھا جواب دیتا اور کہتا ہم چل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ میں ذوالکلاع کے پاس پہنچا، میں نے اس کو یہ خط پڑھ کر سنایا، فوراً اس نے اپنا گھوڑا اور اسلحہ منگایا اور اپنی قوم میں چکر لگا کر اسی وقت بلا کسی تاخیر کے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یمن کے بہت سے لوگ اس کے ساتھ جمع ہو گئے اور ان سے خطاب کرتے ہوئے اس نے فرمایا: ’’تمہیں تمہارے نیک بھائیوں نے مشرکین سے جہاد اور اجر عظیم کے حصول کی دعوت دی ہے، تو جس کو اس نیک کام کے لیے نکلنا ہے وہ اسی وقت ہمارے ساتھ نکل پڑے۔‘‘

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 64 الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 301، 302)

حضرت انس رضی اللہ عنہ 11 رجب 12 ہجری کو مدینہ واپس پہنچے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی آمد کی خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا: یمن کے بہادر، دلیر اور شہسوار پراگندہ بالوں اور گردوغبار سے لت پت سیدنا ابوبکرؓ کے پاس پہنچنے والے ہیں، وہ اپنے مال واسباب اور بیوی بچوں کے ساتھ نکل چکے ہیں۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 302)

ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ 12 رجب 12 ہجری کو ذوالکلاع حمیری اپنی قوم کے ساتھ مدینہ پہنچ گیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 302)

یہ فوری قبولیت صرف حمیر کے لوگوں کے ساتھ خاص نہ تھی بلکہ جو لوگ بھی یمن سے مدینہ پہنچے ان کی یہی کیفیت تھی۔ بطور مثال ہمدان کے لوگ دو ہزار سے زیادہ کی تعداد میں حمزہ بن مالک ہمدانی کی قیادت میں پہنچے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 302)

اور جب اہل یمن مدینہ پہنچے اور مسجد نبوی میں داخل ہو کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور قرآن سنا تو اللہ کے خوف سے ان پر لرزہ طاری ہو گیا، وہ خود کو قابو میں نہ کر سکے اور اللہ کے خوف سے رونے لگے، ان کو روتا دیکھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا: اسی طرح ہم تھے لیکن پھر دل سخت ہو گئے۔ 

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 114 ابوبکر للطنطاوی: 218)

جب ذوالکلاع حمیری نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو انہیں دبلے جسم والا بوڑھا شخص پایا، چہرے پر گوشت ندارد، موٹا کپڑا پہنے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکرؓ کے کپڑے میں کوئی چمک دمک والی چیز نہ تھی، ان کے چہرہ پر صرف ورع و تقویٰ کا سایہ تھا اور جس وقت ذوالکلاع یمن سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تھا اس کے اردگرد ایک ہزار شہسوار غلام تھے، اس کے سر پر تاج تھا، اس کے جوڑوں پر جواہرات چمک رہے تھے اور اس کی چادر پر سونے کے دھاگوں سے موتی، یاقوت اور مرجان جڑے ہوئے تھے۔ جب اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لباس اور زہد و ورع اور آپؓ کے وقار وہیبت کا مشاہدہ کیا تو وہ اور اس کے ساتھی بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ اختیار کیا اور اپنے چمک دمک والے لباس اتار دیے۔

(مروج الذہب للمسعودی: جلد 2 صفحہ 305)

ذوالکلاع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بے حد متاثر ہوا اور انہی جیسا لباس زیب تن کر لیا، ایک دن مدینہ کے بازار میں لوگوں نے دیکھا کہ اس کے کندھوں پر بکری کا چمڑا پڑا ہوا ہے۔ اس کے خاندان کے لوگ یہ منظر دیکھ کر پریشان ہو گئے اور اس سے کہا کہ آپ نے تو ہمیں مہاجرین اور انصار کے درمیان ذلیل کر دیا۔ اس نے کہا: کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں جس طرح جاہلیت میں سرکش تھا اسلام میں بھی سرکش رہوں؟ واللہ ایسا نہیں ہو سکتا، اللہ کی اطاعت، تواضع اور دنیا میں زہد ہی سے ہو سکتی ہے۔

(مروج الذہب للمسعودی:  جلد 2 صفحہ 305)

یمن کے دیگر بادشاہوں نے بھی وہی کیا جو ذوالکلاع حمیری نے کیا، اپنے جواہر سے مزین اور وزنی تاج اتار دیے اور اپنے مخملی جوڑے جن میں سنہری دھاگوں سے یاقوت، موتی اور مرجان جڑے ہوئے تھے اتار پھینکے اور مدینہ کے بازار سے موٹے کپڑے خرید کر زیب تن کر لیے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے تاج اور قیمتی جوڑوں کو بیت المال میں جمع کر دیا۔

(الصدیق اول الخلفاء: صفحہ 137، 138 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنی زندگی میں اسلام کو نافذ العمل کرنے والوں میں سب سے بہتر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا ابوبکرؓ اپنی زبان حال سے اللہ کی طرف دعوت دیتے تھے، سب سے مؤثر نصیحت وہ ہوتی ہے جس کا لوگ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں، صرف کانوں سے نہ سنیں، بہترین نصیحت کرنے والا وہ ہے جو اقوال کے بجائے اپنے افعال و کردار سے نصیحت کرے۔ جب بادشاہان یمن نے دیکھا کہ خلیفہ رسول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جن کا حکم جزیرئہ عرب میں چلتا ہے، وہ بازاروں میں گھومتے اور عام لباس عمامہ اور جبہ پہنتے ہیں، تو انہیں اس حقیقت کا پتہ چل گیا کہ مزین اور زریں لباس سے بڑی کوئی اور چیز ہے اور وہ ہے عظیم نفس۔ لہٰذا انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مشابہت اختیار کرنے میں جلدی کی اور تاج اور ہیرے جواہرات سے مزین لباس زیب تن کر کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملنے میں شرم محسوس کرنے لگے۔ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا اور حقیر پایا اور نفس کی سرکشی ختم ہو گئی، جس طرح چھوٹے چھوٹے تارے سورج کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں۔ اللہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، آپؓ اپنی تواضع میں عظیم اور اپنی عظمت میں متواضع تھے۔

(ابوبکر الصدیق: علی الطنطاوی: صفحہ 219)