جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ…

جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا اور اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

1۔ جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا

جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام پر لشکر کشی کا ارادہ کیا تو عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، ابوعبیدہ بن جراح اور اہل بدر وغیرہ میں سے دیگر کبار مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کو جمع کیا۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا:

’’اللہ کی نعمتیں بے شمار ہیں، اعمال اس کا بدلہ نہیں ہو سکتے۔ اللہ کی بہت حمدوشکر ہے کہ اس نے تمہیں ایک کلمہ پر جمع کیا، آپس میں اتفاق پیدا کیا اور اسلام کی ہدایت بخشی اور شیطان کو تم سے دور رکھا۔ تم سے اس کو یہ توقع نہ رہی کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرو گے اور اس کے سوا کسی کو معبود بناؤ گے۔ عرب ایک امت ہیں، ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہیں شام میں روم کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دوں، جو مرے وہ شہادت کی موت مرے۔ نیکوں کے لیے جو کچھ اللہ کے پاس ہے بہتر ہے۔ اور جو زندہ رہے اللہ کے دین کی طرف سے دفاع کرتا ہوا زندہ رہے اور اللہ کے پاس مجاہدین کا اجر لازم کر لے۔ یہ میری رائے ہے۔ ہر شخص اس سلسلہ میں اپنی رائے کے مطابق مشورہ دے۔‘‘

سب سے پہلے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کے بعد فرمایا:

’’الحمد للہ، اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی مخلوق میں سے خیر کے لیے خاص کر لیتا ہے۔ اللہ کی قسم! آپ ہر خیر میں ہم پر سبقت لے جاتے ہیں اور یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں آپ سے اس سلسلہ میں ملنا چاہتا تھا لیکن اللہ کو نہیں منظور تھا، آپؓ نے اس وقت یاد دلایا۔ آپؓ نے صحیح سوچا ہے، اللہ تعالیٰ آپؓ کو فوز و فلاح اور ہدایت کی راہ پر پہنچائے۔ شہسواروں پر شہسوار، پیادہ پا پر پیادہ پا اور لشکر پر لشکر روانہ کیجیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا، اسلام اور مسلمانوں کو عزت دے گا اور جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرے گا۔‘‘

پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

’’اے خلیفہ رسول! یہ رومی بڑے قوی اور طاقت ور ہیں، واللہ میرا خیال ہے کہ یک بارگی فوج کو نہ داخل کریں بلکہ شام کی حدود میں لشکر پر لشکر بھیجتے رہیں، یہ وقفہ وقفہ سے ان پر حملہ کرتے رہیں اس طرح دشمن کو نقصان ہوگا اور ان کی زمین ہمارے قبضہ میں آتی رہے گی اور روم سے قتال کی طاقت پیدا ہو گی۔ پھر آپؓ اہل یمن اور ربیعہ ومضر کو اپنے پاس جمع کریں اور پھر چاہیں تو خود ورنہ کسی دوسرے کے ذریعہ سے ان پر بڑا حملہ کر دیں۔‘‘

پھر عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ لوگوں پر خاموشی طاری تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، تم لوگوں کی کیا رائے ہے؟

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کے بعد فرمایا: ’’میری رائے ہے کہ آپؓ اس دین کے لیے خیر خواہ ہیں اور مسلمانوں پر شفیق ومہربان ہیں۔ جب آپؓ نے ایک رائے قائم کی اور رشد وصلاح اور خیر کے اعتبار سے اس کو اچھا سمجھا ہے تو آپؓ بلا خوف وخطر کر گزریے، نہ ہم آپؓ پر کوتاہی کا گمان کر سکتے ہیں اور نہ آپؓ کے اخلاص کو متہم کر سکتے ہیں۔‘‘

اس پر طلحہ، زبیر، سعد، ابوعبیدہ بن جراح، سعید بن زید اور مہاجرین وانصار کے تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا:

’’عثمان نے سچ کہا، آپؓ کی جو رائے ہو اس کو کر گزریے، ہم سیدنا ابوبکرؓ کی سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ آپؓ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کریں گے اور آپؓ کی رائے کو ہم متہم نہیں کریں گے۔‘‘

صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس طرح کی اور باتیں ذکر کیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے رہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوالحسن! تمہاری کیا رائے ہے؟ عرض کیا:

’’سیدنا ابوبکرؓ بابرکت حکم اور بابرکت رائے ومشورہ کے مالک ہیں، اگر آپؓ خود ان کے مقابلہ میں نکلیں یا کسی اور کو بھیجیں تو ان شاء اللہ فتح ونصرت حاصل ہو گی۔‘‘

اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں خیر کی خوشخبری سنائے، یہ تم نے کیسے جانا؟

فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

لَا یَزَالُ ہٰذَا الدِّیْنُ ظَاہِرًا عَلٰی کُلِّ مَنْ نَاوَأہُ حَتّٰی یَقُوْمَ الدِّیْنُ وَأَہْلُہٗ ظَاہِرُوْنَ۔

(اس مفہوم کی متعدد روایات مختلف صحابہ سے وارد ہیں، مثال کے طور پر دیکھیے: البخاری: الاعتصام: 7311، ومسلم الإمارۃ: 1533)

’’یہ دین برابر اپنے تمام مخالفین پر غالب رہے گا اور قیامت تک اس کے ماننے والے غالب رہیں گے۔‘‘

یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتنی پیاری ہے یہ حدیث، تم نے مجھے خوش کیا ہے، اللہ تمہیں دنیا وآخرت میں خوش کرے۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ کے بعد فرمایا:

’’لوگو! اللہ نے اسلام کے ذریعہ سے تم پر انعام کیا اور جہاد کے ذریعہ سے عزت بخشی اور اس دین کے ذریعہ سے دیگر تمام دین والوں پر تمہیں فضیلت عطا کی لہٰذا اللہ کے بندو! شام میں روم پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ، میں تمہارے اوپر امراء مقرر کروں گا انہیں پرچم دوں گا لہٰذا تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور اپنے امیروں کی مخالفت نہ کرو، تم اپنی نیت اور سیرت کو اچھی بناؤ اور حلال کھاؤ، اللہ متقیوں اور نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔‘‘

(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 2 صفحہ 63، 65 بحوالہ الحمیدی)

پھر سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں، انہوں نے لوگوں میں اعلان کرتے ہوئے

فرمایا: ’’لوگو! شام میں اپنے رومی دشمنوں سے جہاد کے لیے نکل پڑو۔‘‘

(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 2 صفحہ 63، 65 بحوالہ الحمیدی)

صفحہ 1 از 3