جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ…

جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا اور اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

اس مشورہ سے اہم معاملات کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے طریقہ کار کی وضاحت ہوتی ہے کہ آپؓ حتمی فیصلہ اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک اہل حل وعقد کو جمع کر کے ان سے مشورہ نہ کر لیں پھر بحث وتمحیص کے بعد جو رائے سامنے آتی اس کے مطابق حکم صادر فرماتے اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے جیسا کہ سیرت میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ جب ہم اس مشورہ اور گفتگو کی تفاصیل پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ حقیقت آتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا روم پر حملہ آور ہونے کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موافقت پر اجماع تھا۔ البتہ اس حملہ کی کیفیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نظریات مختلف تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ لشکر پر لشکر بھیجے جائیں تاکہ شام میں مسلمانوں کی ایک بڑی طاقت جمع ہو جائے جو دشمن کے مقابلہ میں ڈٹ سکے۔ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ حملے کا آغاز چھوٹے چھوٹے فوجی دستوں سے کیا جائے جو شام کے اطراف میں شب خون مار کر مدینہ واپس آجایا کریں اور جب دشمن مرعوب اور کمزور پڑ جائے تو بڑی فوج کے ذریعہ سے اس پر حملہ کر دیا جائے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو اختیار کیا اور اہل یمن اور قبائل عرب سے امداد طلب کرنے کے سلسلہ میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی رائے سے استفادہ کیا۔ 

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 188)

2۔ اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اہل یمن کو خط تحریر فرما کر انہیں جہاد فی سبیل اللہ کی دعوت دی۔ اس خط کا متن یہ ہے

’بسم اللہ الرحمن الرحیم

خلیفہ رسول کی جانب سے یمن کے ان مومنوں اور مسلمانوں کے نام جنہیں یہ خط سنایا جائے۔

السلام علیکم! میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

اما بعد! یقیناً اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر جہاد کو فرض کر دیا ہے، اور انہیں حکم فرمایا ہے کہ وہ جہاد کے لیے کوچ کریں، چاہے نقل وحرکت ان پر بھاری ہو یا ہلکی، اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کریں۔ جہاد فرض ہے، اس کا ثواب اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے۔ ہم نے مسلمانوں کو شام میں رومیوں کے مقابلہ میں جہاد پر نکلنے کا مطالبہ کیا ہے اور انہوں نے اس کی طرف جلدی کی ہے، ان کی نیت صحیح ہے اور ان کی نیکی عظیم ہے۔ اللہ کے بندو! تم بھی اس کی طرف جلدی کرو، جس کی طرف انہوں نے جلدی کی ہے اور تم اپنی نیتیں درست کر لو، تمہارے لیے دو بھلائیوں میں سے ایک ضرور ہے؛ یا تو شہادت یا فتح وغنیمت۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قول سے عمل کے بغیر راضی نہیں۔ اللہ کے دشمنوں سے برابر جہاد جاری رہے گا یہاں تک کہ وہ دین حق کو قبول کر لیں اور قرآن کے حکم کو تسلیم کر لیں۔ اللہ تمہارے دین کی حفاظت کرے، تمہارے دلوں کو ہدایت بخشے اور تمہارے اعمال کو پاک کرے اور تمہیں صبر کرنے والے مجاہدین کا اجر و ثواب عطا کرے۔‘‘

(تاریخ فتوح الشام للازدی: صفحہ 48 تہذیب تاریخ دمشق: جلد 1 صفحہ 129)

اس خط کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے ارسال فرمایا۔ اس خط سے جہاد فی سبیل اللہ پر مسلمانوں کو ابھارنے اور جمع کرنے سے متعلق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کردار کا پتہ چلتا ہے۔ اس کو فوج میں عام بھرتی کا نام دیا جا سکتا ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 294)

اہل یمن کے نام سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس خط سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ جہاد دو مقاصد کو ثابت کرنے کے لیے ہے: مسلمانوں کے اسلام کو ثابت کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ عمل کے بغیر قول کو پسند نہیں فرماتا، اور دوسرا غیر مسلمین سے قتال کرنا تاکہ وہ دین حق کے تابع ہو جائیں اور کتاب اللہ کے حکم کو تسلیم کر لیں۔ یہی وہ سبب تھا کہ یمن کے لوگ بڑی تعداد میں ہر چہار جانب سے جہاد کے لیے ٹوٹ پڑے اور ان میں سے کوئی بھی مجبور نہیں کیا گیا تھا بلکہ سب کے سب برضا و رغبت نکلے تھے۔ بچوں، عورتوں کے ساتھ سب آگے بڑھے۔ یہ لوگ جہاد کی رغبت اور محبت میں سب سے پہلے اس آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خط لے کر یمن پہنچے تھے، ہر ہر قبیلے میں پہنچ کر اس خط کو پڑھ کر سناتے تھے اور انہیں اس سلسلہ میں جلدی کرنے پر ابھار رہے تھے۔ فرماتے ہیں: جس پر بھی میں یہ خط پڑھتا اور جو بھی یہ بات سنتا مجھے اچھا جواب دیتا اور کہتا ہم چل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ میں ذوالکلاع کے پاس پہنچا، میں نے اس کو یہ خط پڑھ کر سنایا، فوراً اس نے اپنا گھوڑا اور اسلحہ منگایا اور اپنی قوم میں چکر لگا کر اسی وقت بلا کسی تاخیر کے لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یمن کے بہت سے لوگ اس کے ساتھ جمع ہو گئے اور ان سے خطاب کرتے ہوئے اس نے فرمایا: ’’تمہیں تمہارے نیک بھائیوں نے مشرکین سے جہاد اور اجر عظیم کے حصول کی دعوت دی ہے، تو جس کو اس نیک کام کے لیے نکلنا ہے وہ اسی وقت ہمارے ساتھ نکل پڑے۔‘‘

(الکامل لابن الاثیر: جلد 2 صفحہ 64 الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 301، 302)

حضرت انس رضی اللہ عنہ 11 رجب 12 ہجری کو مدینہ واپس پہنچے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی آمد کی خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا: یمن کے بہادر، دلیر اور شہسوار پراگندہ بالوں اور گردوغبار سے لت پت سیدنا ابوبکرؓ کے پاس پہنچنے والے ہیں، وہ اپنے مال واسباب اور بیوی بچوں کے ساتھ نکل چکے ہیں۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 302)

ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ 12 رجب 12 ہجری کو ذوالکلاع حمیری اپنی قوم کے ساتھ مدینہ پہنچ گیا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 302)

یہ فوری قبولیت صرف حمیر کے لوگوں کے ساتھ خاص نہ تھی بلکہ جو لوگ بھی یمن سے مدینہ پہنچے ان کی یہی کیفیت تھی۔ بطور مثال ہمدان کے لوگ دو ہزار سے زیادہ کی تعداد میں حمزہ بن مالک ہمدانی کی قیادت میں پہنچے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 302)

صفحہ 2 از 3