جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ…

جہاد روم سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا اور اہل یمن کو جہاد پر نکلنے کا حکم

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

اور جب اہل یمن مدینہ پہنچے اور مسجد نبوی میں داخل ہو کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور قرآن سنا تو اللہ کے خوف سے ان پر لرزہ طاری ہو گیا، وہ خود کو قابو میں نہ کر سکے اور اللہ کے خوف سے رونے لگے، ان کو روتا دیکھ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا: اسی طرح ہم تھے لیکن پھر دل سخت ہو گئے۔ 

(الصدیق اوّل الخلفاء: صفحہ 114 ابوبکر للطنطاوی: 218)

جب ذوالکلاع حمیری نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو انہیں دبلے جسم والا بوڑھا شخص پایا، چہرے پر گوشت ندارد، موٹا کپڑا پہنے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکرؓ کے کپڑے میں کوئی چمک دمک والی چیز نہ تھی، ان کے چہرہ پر صرف ورع و تقویٰ کا سایہ تھا اور جس وقت ذوالکلاع یمن سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تھا اس کے اردگرد ایک ہزار شہسوار غلام تھے، اس کے سر پر تاج تھا، اس کے جوڑوں پر جواہرات چمک رہے تھے اور اس کی چادر پر سونے کے دھاگوں سے موتی، یاقوت اور مرجان جڑے ہوئے تھے۔ جب اس نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لباس اور زہد و ورع اور آپؓ کے وقار وہیبت کا مشاہدہ کیا تو وہ اور اس کے ساتھی بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا طریقہ اختیار کیا اور اپنے چمک دمک والے لباس اتار دیے۔

(مروج الذہب للمسعودی: جلد 2 صفحہ 305)

ذوالکلاع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بے حد متاثر ہوا اور انہی جیسا لباس زیب تن کر لیا، ایک دن مدینہ کے بازار میں لوگوں نے دیکھا کہ اس کے کندھوں پر بکری کا چمڑا پڑا ہوا ہے۔ اس کے خاندان کے لوگ یہ منظر دیکھ کر پریشان ہو گئے اور اس سے کہا کہ آپ نے تو ہمیں مہاجرین اور انصار کے درمیان ذلیل کر دیا۔ اس نے کہا: کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ میں جس طرح جاہلیت میں سرکش تھا اسلام میں بھی سرکش رہوں؟ واللہ ایسا نہیں ہو سکتا، اللہ کی اطاعت، تواضع اور دنیا میں زہد ہی سے ہو سکتی ہے۔

(مروج الذہب للمسعودی:  جلد 2 صفحہ 305)

یمن کے دیگر بادشاہوں نے بھی وہی کیا جو ذوالکلاع حمیری نے کیا، اپنے جواہر سے مزین اور وزنی تاج اتار دیے اور اپنے مخملی جوڑے جن میں سنہری دھاگوں سے یاقوت، موتی اور مرجان جڑے ہوئے تھے اتار پھینکے اور مدینہ کے بازار سے موٹے کپڑے خرید کر زیب تن کر لیے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے تاج اور قیمتی جوڑوں کو بیت المال میں جمع کر دیا۔

(الصدیق اول الخلفاء: صفحہ 137، 138 )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنی زندگی میں اسلام کو نافذ العمل کرنے والوں میں سب سے بہتر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا ابوبکرؓ اپنی زبان حال سے اللہ کی طرف دعوت دیتے تھے، سب سے مؤثر نصیحت وہ ہوتی ہے جس کا لوگ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں، صرف کانوں سے نہ سنیں، بہترین نصیحت کرنے والا وہ ہے جو اقوال کے بجائے اپنے افعال و کردار سے نصیحت کرے۔ جب بادشاہان یمن نے دیکھا کہ خلیفہ رسول ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جن کا حکم جزیرئہ عرب میں چلتا ہے، وہ بازاروں میں گھومتے اور عام لباس عمامہ اور جبہ پہنتے ہیں، تو انہیں اس حقیقت کا پتہ چل گیا کہ مزین اور زریں لباس سے بڑی کوئی اور چیز ہے اور وہ ہے عظیم نفس۔ لہٰذا انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مشابہت اختیار کرنے میں جلدی کی اور تاج اور ہیرے جواہرات سے مزین لباس زیب تن کر کے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملنے میں شرم محسوس کرنے لگے۔ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا اور حقیر پایا اور نفس کی سرکشی ختم ہو گئی، جس طرح چھوٹے چھوٹے تارے سورج کے سامنے ماند پڑ جاتے ہیں۔ اللہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، آپؓ اپنی تواضع میں عظیم اور اپنی عظمت میں متواضع تھے۔

(ابوبکر الصدیق: علی الطنطاوی: صفحہ 219)


صفحہ 3 از 3